30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یعنی مجمع و ہجوم بہت تھا حضور کی آواز سب تک پہنچ نہیں سکتی اس لیے حضرت علی حضور سے کچھ دور کھڑے حضور کے فرمان عالی بلند آواز سے لوگوں تک پہنچارہے تھے۔یہاں یعبر سے مراد ترجمہ کرنا نہیں مگر اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ حضور انور کی آواز تو سب تک بطور معجزہ پہنچ رہی تھی حضرت علی مطلب سمجھارہے تھے،یہ معنی یعبر کی لیے بہت ہی موزوں ہیں۔
|
4364 -[61] وَعَن عَائِشَة قَالَتْ: صُنِعَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُرْدَةٌ سَوْدَاءُ فَلَبِسَهَا فَلَمَّا عَرِقَ فِيهَا وَجَدَ ريح الصُّوف فقذفها. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے لیے کالی چادر تیار کی گئی حضور نے وہ پہن لی تو جب اس میں پسینہ آیا اس سے اون کی بو محسوس کی تو اسے الگ فرمایا ۱؎(ابودا ؤد) |
۱؎ حضور صلی الله علیہ وسلم کو بدبو بہت ہی ناپسندتھی کپڑے کی ہو یا منہ کی یا بغل یا کسی اور چیز کی،طبیعت پاک بہت ہی طیب و طاہر و لطیف تھی اس لیے گرمی میں حضور نے یہ اونی چادر علیٰحدہ کردی۔حجاج کو چاہیے کہ روضہ اطہر کی حضوری کے وقت معطر ہوکر حاضر ہوا کریں،بدبو دار کپڑے یا بدبودار منہ سے مسجدوں میں نہ جایا کریں عمومًا خوشبو کا استعمال کریں۔
|
4365 -[62] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِشَمْلَةٍ قَدْ وَقَعَ هُدْبها على قَدَمَيْهِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ایک چادر سے لپٹے ہوئے تھے ۱؎ جس کا پھندنا آپ کے قدموں پر پڑا تھا۲؎(ابودا ؤد) |
۱؎ شملہ وہ کپڑا ہے جس پر انسان مشتمل ہو لپٹا ہوا ہو خواہ چادر ہو یا کمبل۔محتب بنا ہے احتباء سے جس کے معنی ہیں اکڑوں بیٹھنا یعنی حضور انور اکڑوں بیٹھے ہوئے چادر شریف سے لپٹے ہوئے تھے۔حضرات صحابہ کرام حضور کی ہر وضع قطع کی روایت فرماتے ہیں تاکہ انکی ہر کیفیت مسلمانوں کے ذہن نشین ہوجائے،محبوب کی ہر ادا ہی محبوب ہے۔
۲؎ اب بھی اہل عرب یا تو کسی چیز سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہیں،اگر ٹیک کا سہارا نہ ملے تو اپنے اردگرد چادر لپیٹ کر اس سے ٹیک کا کام لیتے ہیں اس وقت حضور کی یہ وضع تھی۔
|
4366 -[63] وَعَن دِحيةَ بن خليفةَ قَالَ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبَاطِيَّ فَأَعْطَانِي مِنْهَا قُبْطِيَّةً فَقَالَ: «اصْدَعْهَا صَدْعَيْنِ فَاقْطَعْ أَحَدَهُمَا قَمِيصًا وَأَعْطِ الْآخَرَ امْرَأَتَكَ تَخْتَمِرُ بِهِ» . فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ: «وَأْمُرِ امْرَأَتَكَ أَنْ تَجْعَلَ تَحْتَهُ ثَوْبًا لَا يَصِفُهَا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت دحیہ ابن خلیفہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں قباطی کپڑے لائے گئے ۲؎ تو حضور نے مجھے اس میں سے ایک قبطی عطا فرمایا پھر فرمایا اس کے دو ٹکڑے کرلو ان میں سے ایک کی قمیض کٹوا لو اور دوسرا اپنی بیوی کو دے دو وہ اس کا دوپٹہ بنالیں۳؎ پھر جب انہوں نے پیٹھ پھیری تو فرمایا اپنی بیوی سے کہہ دو کہ اس کے نیچے اور کپڑا رکھیں جو ظاہر نہ ہونے دے۴؎(ابودا ؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع