30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اکبر! آج ہم ان کے نام پر پلنے والے ململ،لٹھے،بوسکی پہنیں اور وہ خود باریک کپڑا منگائیں تو یہود نابہبود انکار کردے۔الله کی شان ہے۔شعر
بوریا ممنوں خواب راحتش تاج کسریٰ زیر پائے امتش
|
4362 -[59] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى ثَوْبٌ مَصْبُوغٌ بِعُصْفُرٍ مُوَرَّدًا فَقَالَ: «مَا هَذَا؟» فَعَرَفْتُ مَا كَرِهَ فَانْطَلَقْتُ فَأَحْرَقْتُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا صَنَعْتَ بِثَوْبِكَ؟» قُلْتُ: أَحْرَقْتُهُ قَالَ: «أَفَلَا كَسَوْتَهُ بَعْضَ أَهْلِكَ؟ فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ لِلنِّسَاءِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عبدالله ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مجھے دیکھا اور مجھ پر کسم میں رنگے ہوئے گلابی کپڑے تھے ۱؎ تو فرمایا یہ کیا میں پہچان گیا کہ حضور نے ناپسند فرمایا ۲؎ تو میں چلا اسے میں نے جلاد دیا ۳؎ پھر نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے کپڑے کا کیا کیا کہا کہ میں نے اسے جلادیا فرمایا تم نے وہ کپڑا اپنی کسی گھر والی کو کیوں نہ پہنادیا اس میں عورتوں کے لیے حرج نہیں۴؎(ابودا ؤد) |
۱؎ حالانکہ مرد کو گلابی کپڑے پہننے ممنوع ہیں میں نے بے خبری میں پہن لیے تھے۔
۲؎ کیونکہ حضور انور کا یہ کیا فرمانا سوال کے لیے نہیں بلکہ اظہار تعجب اور انکار کے لیے ہے کہ تم نے میرے صحابی ہوکر یہ کیا کیا ،گلابی سرخ کپڑے کیوں پہن لیے۔
۳؎ یہ ہے صحابہ کرام کا عشق رسول اوراس عشق کا جذبہ جس کپڑے سے اپنا پیارا ناراض ہو وہ اپنے گھر میں بھی نہ رکھا چہ جائیکہ بدن پر رکھتے،یہ نہ غور کیا کہ یہ مال کا بربادکرنا ہے اسراف یا تبذیر ہے،یہ تو وہ سوچے جو عقل کو حاکم بنائے عشق آیا عقل رخصت ہوگئی۔شعر
اس میں روضہ کا سجدہ ہو کہ طواف ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے
۴؎ خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے اس کام پر انہیں عتاب نہ فرمایا معذور رکھا آئندہ کے لیے مسئلہ بتادیا کہ عورتوں کو سرخ و گلابی رنگ کے کپڑے پہننا بالکل جائز ہے مردوں کو ممنوع ہیں،اس کی بحث پہلے ہوچکی ہے۔
|
4363 -[60] وَعَن هلالِ بن عَامر عَن أَبِيه قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى يَخْطُبُ عَلَى بَغْلَةٍ وَعَلَيْهِ بُرْدٌ أَحْمَرُ وَعَلِيٌّ أَمَامَهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ہلال ابن عامر سے وہ اپنے والد سے روایت فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو منٰی میں اپنے خچر پر خطبہ دیتے دیکھا آپ پر سرخ چادر تھی ۱؎ اور علی آپ کے سامنے تھے آپ سے لوگوں کو پہنچانتے تھے ۲؎(ابو داؤد) |
۱؎ ان جیسی تمام روایات میں سرخ سے مراد لال دھاری دار کپڑے ہیں خالص سر خ مراد نہیں ہوتا لہذا یہ حدیث سرخ لباس کی ممانعت کی احادیث کے خلاف نہیں تمام محدثین کا اتفاق ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع