دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

۳؎  جیسے محرم احرام کی چادر میں لپٹا ہوتا ہے کہ چادرکے دونوں کنارے کندھوں پرپڑے تھے۔توشح بنا ہے وشاح سے بمعنی کنگن،چونکہ کنگن کلائی سے لپٹ جاتا ہے اس لیے کپڑے میں لپیٹنے کو توشح کہتے ہیں۔

۴؎  حضور صلی الله  علیہ وسلم نے یہ آخری نماز پڑھائی تھی۔اس کا تفصیلی بیان ان شاءالله وفات النبی صلی الله  علیہ وسلم کے بیان میں آئے گا۔

4361 -[58]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَانِ قِطْرِيَّانِ غَلِيظَانِ وَكَانَ إِذا قعد فرق ثَقُلَا عَلَيْهِ فَقَدِمَ بَزٌّ مِنَ الشَّامِ لِفُلَانٍ الْيَهُودِيِّ. فَقُلْتُ: لَوْ بَعَثْتَ إِلَيْهِ فَاشْتَرَيْتَ مِنْهُ ثَوْبَيْنِ إِلَى الْمَيْسَرَةِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ مَا تُرِيدُ إِنَّمَا تُرِيدُ أَنْ تَذْهَبَ بِمَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَبَ قَدْ عَلِمَ أَنِّي مِنْ أَتْقَاهُمْ وآداهُم للأمانة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَالنَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی الله  علیہ وسلم پر دو قطری موٹے کپڑے تھے اور حضور جب بیٹھتے تو پسینہ آجاتا آپ پر بوجھ کی وجہ سے ۱؎  پھر شام سے فلاں یہودی کا کپڑا آیا ۲؎  میں نے عرض کیا کہ کاش آپ  اس کے پاس کسی کو بھیجتے اس سے دو کپڑے روپیہ آنے تک خریدلیتے۳؎  چنانچہ حضور نے اس کے پاس بھیجا وہ بولا میں جانتا ہوں کہ آپ کیا چاہتے ہیں آپ چاہتے ہیں کہ میرا مال مار لیں۴؎  تو رسول الله  صلی الله  علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ جھوٹا ہے وہ جانتا ہے کہ میں ان سب میں زیادہ زیادہ پرہیزگار ان سب میں زیادہ امانت کا ادا کرنے والا ہوں ۵؎ (ترمذی،نسائی)

۱؎  یعنی گرمیوں میں ان کپڑوں میں پسینہ آجاتا تھا۔بعض لوگوں نے ثقلًا ماضی مطلق کا تشبہ پڑھا ہے۔

۲؎  اس یہودی فاجر کا نام نہ معلوم ہوسکا۔بز کہتے ہیں بغیر سلے کپڑے کو اور کپڑے کے تاجر کو بزاز کہا جاتا ہے۔بعض نے بز اور خز میں فرق کہا ہے سوتی کپڑا بز اور ریشمی کپڑا خز۔(مرقات)کپڑا آنے سے مراد ہے لوگ کپڑا لے کر آئے اس یہودی کے پاس۔

۳؎  یعنی اس وقت حضور کے پاس روپیہ نہیں ہے ادھار خریدلیں،اس سے وعدہ فرمالیں کہ فلاں تاریخ فلاں دن تک تم کو رقم دے دی جائے گی۔خیال رہے کہ ادھار خریداری میں وقت ادا معلوم ہونا ضروری ہے،یہ کہنا کہ جب روپیہ آئے گا تب قیمت دے دیں گے ناجائز ہے،یہ ہی حال پہلے حکم میں ہے کہ وہاں قیمت نقد ہوتی ہے چیز ادھار وہاں ادائیگی کا وقت مقرر ہونا ضروری ہے۔

۴؎  یعنی اس یہودی تاجر نے حضور صلی الله  علیہ وسلم کے قاصد سے جو آپ کی طرف سے کپڑا خریدنے گیا تھا یہ گستاخی کا جواب کہلا کر بھیجاکہ آپ قیمت ادا نہ کریں گے یوں ہی میرا مال لے لیں گے حالانکہ اس کا دل گواہی د ے رہا تھا کہ وقت پر قیمت وصول ہوجائے گی۔

۵؎ یعنی اس یہودی نے توریت شریف میں میرا سب سے زیادہ پرہیزگار بڑا امانت دار ہونا پڑھا ہے وہ منہ سے ایسی بکواس کررہا ہے جو اس کی توریت کی آیات کی خلاف ہے حضور کو تو مشرکین عرب بھی صادق الوعدہ اور امین کہہ کر پکارتے تھے،انہیں تو رب تعالٰی نے اپنا امین بناکر دنیا میں بھیجا ان جیسا امین نہ ہوا ہے نہ ہوگا۔صلی الله  علیہ وسلم۔غالبًا اس نے کپڑا دیا نہیں۔الله  

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن