30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عام مسلمان مردوں کو انگوٹھی نہ پہننا بہتر،علماء و حکام کو چاندی کی انگوٹھی پہننا بالکل درست۔سونے کی انگوٹھی عورتوں کو حلال ہے مردوں کو حرام۔لوہا،پیتل،تانبہ کی انگوٹھی چھلا مرد و عورت دونوں کو حرام ہے۔
|
4356 -[53] وَعَن عَليّ قَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَالْمَيَاثِرِ |
روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی اور قسی کپڑے اور ارغوانی رنگ کے گدیلوں سے منع فرمایا ۱؎ |
۱؎ قسی وہ کپڑا ہے جو شہر قس میں بنایا جاتا ہے،قس مصر کا ایک شہر ہے وہاں یہ ریشمی کپڑا بنتا تھا۔میاثرہ جمع ہے مثیرہ کی۔ مثیرہ وہ گدیلہ جو زمین پر ڈال کر اس پر سوار ہوا جاتا ہے۔
|
4357 -[54] وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَرْكَبُوا الْخَزَّ وَلَا النِّمَارَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت معاویہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ تو ریشم پر سوار ہو اور نہ چیتے کی کھال پر ۲؎(ابودا ؤد،نسائی) |
۱؎ معاویہ نام کے بہت صحابہ ہیں مگر جب مطلقًا معاویہ بولا جاوے تو اس سے مراد حضرت امیر معاویہ ابن ابوسفیان ہوتے ہیں وہ ہی یہاں مراد ہیں۔
۲؎ یعنی گھوڑے کی کاٹھی پر ریشمی گدیلہ یا چیتے کی کھال ڈال کر اس پر سوار نہ ہو،درندوں جانوروں کی کھالوں کو پہننے یا بچھانے سے دل میں تکبر پیدا ہوتا ہے جیسے ہرن کی کھال پر بیٹھنے یا اسے پہننے سے نامردی پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔بعض شارحین نے نمار کے معنی کیے ہیں دہاری دار کمبل مگر یہ قوی نہیں کیونکہ دہاری دار کمبل بچھانا ممنوع نہیں،نیز اس کی جمع نور ہے نہ کہ نمار،نیز جامع صغیر کی روایت میں ہے عن جلود النمار یعنی نمار کی کھال سے منع فرمایا۔(مرقات)
|
4358 -[55] وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ گدیلے سے منع فرمایا ۱؎(شرح سنہ ) |
۱؎ اس کی شرح اور وجہ ابھی گزر گئی کہ گھوڑے کی کاٹھی پر سرخ رنگ کا گدیلہ ڈال کر مرد کو بیٹھنا ممنوع ہے عورت کو جائز مگر یہ ممانعت سرخ لباس پہننے کی ممانعت سے ہلکی ہے کہ اس کا پہننا زیادہ برا ہے۔
|
4359 -[56] وَعَن أبي رِمْثةَ التيميِّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ وَلَهُ شَعَرٌ قَدْ عَلَاهُ الشَّيْبُ وَشَيْبُهُ أَحْمَرُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لِأَبِي دَاوُدَ: وَهُوَ ذُو وَفْرَةٍ وَبِهَا رَدْعٌ من حناء |
روایت ہے حضرت ابو رمثہ تیمی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا آپ پر دو سبز کپڑے تھے ۲؎ اور آپ کے بال تھے جن پر بڑھاپا غالب تھا ۳؎ اور سفید بال سرخ تھے۴؎ (ترمذی)اور ابودا ؤد کی روایت میں ہے کہ آپ وفرہ والے تھے ۵؎ جن میں مہندی کااثر تھا ۶؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع