30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4351 -[48] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَائِرًا فَرَأَى رَجُلًا شَعِثًا قد تفرق شعرُه فَقَالَ: «مَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يُسَكِّنُ بِهِ رَأْسَهُ؟» وَرَأى رجلا عَلَيْهِ ثيابٌ وسِخةٌ فَقَالَ: «مَا كَانَ يَجِدُ هَذَا مَا يَغْسِلُ بِهِ ثَوْبَهُ؟» . رَوَاهُ أَحْمد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاقات کے لیے تشریف لائے ۱؎ تو ایک شخص کو پراگندہ بال دیکھا کہ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے ۲؎ تو فرمایا کہ یہ شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے اپنے سر کو جمع کرے۳؎ اور ایک شخص کودیکھا جس پر میلے کپڑے تھے تو فرمایا یہ شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے اپنے کپڑے دھولے۴؎ (احمد، نسائی) |
۱؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے غلاموں خادموں سے ملاقات کے لیے انکے گھروں پر کبھی تشریف لے جاتے تھے اس میں ان کی عزت افزائی ہوتی تھی۔زائر فرماکر یہ بتایا کہ یہ تشریف کسی کی بیمار پرسی یا شادی وغیرہ کی تقریب کے سلسلہ میں نہ تھی صرف ہم کو نوازنے کے لیے تھی۔
۲؎ یا ہمارے گھر میں یا راستہ میں ایسے شخص کو دیکھا۔
۳؎ یعنی کہا اس کے پاس تولہ دو تولہ تیل بھی نہیں کہ بالوں میں لگاکر کنگھی کرے جس سے اس کے بال بکھریں نہیں بلکہ مجتمع ہوجائیں۔
۴؎ یعنی کیا اسے تھوڑا سا صابن میسر نہیں جس سے کپڑے صاف کرے۔خیال رہے کہ عزت اور تکبر میں فرق ہے تکبر کے لیے اچھا لباس پہننا ممنوع ہے اس کے لیے ارشاد ہوا البذاذۃ من الایمان اورعورت کے لیے اعلیٰ لباس پہننا اچھا ہے جس کے متعلق یہاں یہ ارشاد ہوا لہذا دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔
|
4352 -[49] وَعَن أبي الأحوصِ عَن أبيهِ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى ثَوْبٌ دُونٌ فَقَالَ لِي: «أَلَكَ مَالٌ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «مِنْ أَيِّ الْمَالِ؟» قُلْتُ: مِنْ كُلِّ الْمَالِ قَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ منَ الإِبلِ وَالْبَقر وَالْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ. قَالَ: «فَإِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ أَثَرُ نِعْمَةِ اللَّهِ عَلَيْكَ وَكَرَامَتِهِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَفِي شَرْحِ السُّنَّةِ بِلَفْظِ الْمَصَابِيحِ |
روایت ہے ابوالاحوص سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا مجھ پر معمولی کپڑے تھے ۲؎ تو فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ مال ہے میں نے کہا ہاں فرمایا کون سا مال ہے میں نے کہا کہ اللہ نے مجھے ہر قسم کے مال سے دیا ہے۳؎ اونٹ گائے اور بکری اور گھوڑے اور غلام فرمایا تو جب تجھے اللہ نے مال دیا ہے تو چاہیے کہ اللہ کی نعمت اس کی بخشش کا اثر تجھ پر دیکھا جائے ۴؎ (احمد،نسائی)اور شرح سنہ میں مصابیح کے الفاظ سے ہے ۵؎ |
۱؎ آپ تابعین میں سے ہیں،آپ کا نام عوف ابن مالک ابن نضر ہے،آپ نے اپنے والد اور ابن مسعود اور ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم صحابہ سے ملاقات کی،آپ سے خواجہ حسن بصری ابو اسحاق اور عطاء ابن سائب نے احادیث روایت کیں۔آپ کے والد مالک ابن نضر صحابی ہیں۔
۲؎ جو میری مالی حیثیت سے کم تھے مجھے خدا تعالٰی نے بہت غنی کیا ہوا تھا مگر کپڑے پھٹے پرانے کم قیمت زیب تن کیے ہوئے تھے۔
۳؎ یعنی عرب میں جس مال کی بہت قدر ہوتی ہے جانور اور غلام ان میں سے اللہ نے مجھے ہر مال دیا ہے۔عرب میں جانوروں کی ملکیت کو بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا جیسے آج کل مربے اور شہری جائیداد والے کی بڑی عزت ہوتی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع