30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4344 -[41] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ إِذَا أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ وَلَا تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتَّى تُرَقِّعِيهِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ مُنكر الحَدِيث |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ اگر تم مجھ سے ملنا چاہتی ہو ۱؎ تو تم کو دنیا سے اتنا کافی ہو جیسے سوار مسافر کا توشہ ۲؎ اور امیروں کی مجلس سے اپنے کو بچا ؤ ۳؎ اورکسی کپڑے کو پرانا نہ سمجھو حتی کہ اسے پیوند لگالو۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صالح ابن حسان کی ہی حدیث سے پہچانتے ہیں،محمد ابن اسماعیل نے کہا کہ صالح ابن حسان منکر الحدیث ہے ۵؎ |
۱؎ دنیا و آخرت میں اچھی طرح ملنا کامل طور پر میرے ساتھ رہنا جس کی وجہ سے میں تم سے بہت خوش رہوں تو یہ عمل کرنا۔
۲؎ یعنی تھوڑی دنیا پر قناعت کرو جیسے مسافر راستہ طے کرتے ہوئے تھوڑا سامان رکھتا ہے بہت سامان کو بوجھ اور وبال سمجھتا ہے۔
۳؎ یعنی خود تو مالدار بننے کی کوشش کرنا بہت دور ہے مالداروں کی صحبت سے بھی پرہیز کرو۔مالداروں سے غافل اور متکبر مالدار مراد ہیں یا وہ صورت مراد ہے جب مالداروں کے پاس بیٹھنے سے ناشکری کا جذبہ پیدا ہو کہ یہ تو اتنا بڑا مالدار ہے میں غریب ہوں،ورنہ حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت عثمان غنی اور امام اعظم ابوحنیفہ بڑے دولت مند تھے انکی صحبت کیمیا تھی۔
۴؎ یہ انتہائی قناعت کی تعلیم ہے کہ پیوند والے کپڑے پہننے میں عار نہ ہو۔حضرت انس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب کہ آپ خلیفۃ المسلمین تھے کہ آپ کے کپڑوں میں اوپر تلے تین پیوند ایک جگہ پرلگے تھے کہ پیوند گل گیا تو اور لگالیا حضرت عمر نے اپنی خلافت کے زمانہ میں خطبہ دیا اس وقت آپ کے تہبند شریف میں بارہ پیوند تھے۔ (مرقات)مقصد یہ ہی ہے کہ پیوند والے کپڑے کے پہننے میں عار نہ ہونی چاہیے لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں جہاں ارشاد ہے کہ رب کی نعمت کا اثر تم پر ظاہر ہو یا فرمایا کہ نیا کپڑا پا ؤ تو پرانا خیرات کردو۔ابن عساکر نے حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم گدھے کی سواری فرمالیتے تھے،اپنا نعلین پا خود سی لیتے تھے،اپنی قمیض میں پیوند لگالیتے تھے اور پہن لیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو میری سنت سے نفرت کرے وہ میری جماعت سے نہیں۔(مرقات)
۵؎ ان شاءالله حدیث منکر کے معنی،اس کی تعریف اور احادیث کے اقسام و احکام آخر کتاب میں عرض کیے جائیں گے۔
|
4345 -[42] عَن أبي أُمَامَة إِياس بن ثعلبةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا تَسْمَعُونَ؟ أَلَا تَسْمَعُونَ أَنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ أَنَّ الْبَذَاذَةَ مِنَ الْإِيمَانِ؟» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابو امامہ ابن ایاس ابن ثعلبہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تم نہیں سنتے بے شک پرانے کپڑے پہننا ایمان سے ہے بے شک پرانے کپڑے پہننا ایمان سے ہے ۲؎(ابودا ؤد) |
۱؎ ابو امامہ دو ہیں اور دونوں صحابی ہیں: ایک ابو امامہ باہلی جو قبیلہ بنی باہلہ سے ہیں،دوسرے وہ جن کا نام ایاس ابن ثعلبہ ہے، یہ انصاری ہیں،یہاں یہ دوسرے ابو امامہ مراد ہیں،آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے رضی اللہ عنہم اجمعین۔
۲؎ اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی بیان کیا گیا کہ معمولی لباس پھٹے پرانے کپڑے پہننے سے شرم و عار نہ ہونا کبھی پہن بھی لینا مؤمن متقی کی علامت ہے،ہمیشہ اعلیٰ درجہ کے لباس پہننے کا عادی بن جانا کہ معمولی لباس پہنتے شرم آئے طریقہ متکبرین کا ہے۔یہاں ایمان سے مراد کمالِ ایمان ہے،اس حدیث کو احمد،ابن ماجہ اور حاکم نے ابو امامہ حارثی سے روایت کیا۔(مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع