30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4342 -[39] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ عِمَامَةً أَوْ قَمِيصًا أَوْ رِدَاءً ثُمَّ يَقُولُ «اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كَمَا كسوتَنيه أَسأَلك خَيره وخيرَ مَا صُنِعَ لَهُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیا کپڑا پاتے تو اس کا نام رکھتے عمامہ یا قمیض ۱؎ یا چادر پھر کہتے الٰہی تیرا شکر ہے جیسے تو نے مجھے یہ پہنایا ویسے ہی میں اس کپڑے کی خیر اور جس کے لیے یہ بنایا گیا اس کی خیر مانگتا ہوں اور اس کی اور جس کے لیے یہ بنایا گیا اس کی شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۲؎ (ترمذی، ابوداؤد)۳؎ |
۱؎ حضور انور حتی الامکان نیا کپڑا جمعہ کو پہنتے تھے اور نیا کپڑا پہن کر پرانا خیرات فرمادیتے تھے۔(مرقات)پھر پہلے اس کا نام معین فرماتے کہ یہ چادر اوڑھتا ہوں یا قمیض پہنتا ہوں یا تہبند پھراسے زیب تن فرماتے،ان کی ہر ہر ادا پر کروڑوں درود۔
۲؎ کپڑے کی خیر یہ ہے کہ کپڑا پہن کر نیک اعمال کی توفیق ملے اور کپڑے کی شر یہ ہے کہ کپڑے پہن کر گناہ کرے،کپڑے پہن کر نماز پڑھنا خیر ہے اور کپڑے پہن کر چوری کرنا اس کی شر ہے اور بندہ اللہ تعالٰی ہی کے کرم سے خیرکرسکتا ہے شر سے بچ سکتا ہے،نیز کپڑا پہن کر حمدوشکر کرنا کپڑے کی خیر ہے اس پر فخرکرنا اس کپڑے کی شر۔
۳؎ یہ حدیث احمد،نسائی،ابن حبان نے اور حاکم نے مستدرک میں ان ہی راوی سے روایت کی۔شرح سنہ بروایت حضرت ابن عمر ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو سفید قمیض پہنے دیکھا تو فرمایا کہ نئی ہے یا دھلی ہوئی عرض کیا نئی،فرمایا البس جدیدا عش حمیدًا ومت شھیدا یعنی نیا لباس پہنو اچھے جیو شہید مرو رضی اللہ عنہ۔
|
4343 -[40] وَعَن معاذِ بن أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:"مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا الطَّعَامَ وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ".رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ:"وَمَنْ لَبِسَ ثَوْبًا فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ " |
روایت ہے حضرت معاذ ابن انس سے ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کھانا کھائے پھر کہے شکر ہے اس اللہ کا جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میری بغیر قوت و طاقت کے مجھے یہ عطا فرمایا تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۲؎(ترمذی)اور ابودا ؤد نے یہ زیادتی کی کہ جو کوئی کپڑا پہنے تو کہے شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے یہ پہنایا اور بغیر میری طاقت و قوت کے مجھے یہ عطا فرمایا تو اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۳؎ |
۱؎ آپ صحابی ہیں،قبیلہ جند سے ہیں،مصر میں قیام رہا،آپ سے آپ کے فرزند سبل نے احادیث روایات کیں۔
۲؎ زبان سے یہ کلمات کہے اور دل میں عقیدہ رکھے کہ مجھے جو کچھ مل رہا ہے میرے علم و عقل کا نتیجہ نہیں صرف میرے رب کا فضل ہے ورنہ مجھ سے اچھے اچھے مارے مارے پھررہے ہیں بڑی مصیبتوں میں ہیں تو ان شاءالله مغفرت ہوگی۔
۳؎ حاکم نے مستدرک میں بروایت عائشہ صدیقہ مرفوعًا روایت کی،فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو کوئی ایک یا آدھے دینار کا کپڑا خریدے اس پر رب تعالٰی کی حمدکرے تو یہ کپڑا اس کے گھٹنوں پر پیچھے پہنچے گا گناہ پہلے بخش دیئے جائیں گے۔ (مرقات)اس کی مثل طبرانی نے حضرت ابو امامہ سے روایت کی کچھ فرق کے ساتھ۔
|
4344 -[41] وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ إِذَا أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ وَلَا تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتَّى تُرَقِّعِيهِ».رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ: صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ مُنكر الحَدِيث |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ اگر تم مجھ سے ملنا چاہتی ہو ۱؎ تو تم کو دنیا سے اتنا کافی ہو جیسے سوار مسافر کا توشہ ۲؎ اور امیروں کی مجلس سے اپنے کو بچا ؤ ۳؎ اورکسی کپڑے کو پرانا نہ سمجھو حتی کہ اسے پیوند لگالو۴؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صالح ابن حسان کی ہی حدیث سے پہچانتے ہیں،محمد ابن اسماعیل نے کہا کہ صالح ابن حسان منکر الحدیث ہے ۵؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع