دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 6 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم

4337 -[34]

وَعَن سَمُرَة أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبِيضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت سمرہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سفید کپڑے پہنو وہ زیادہ پاکیزہ اور بہت ستھرے ہیں اور بہت پسندیدہ ہیں ۱؎  اور اس میں اپنے مردوں کو کفن دو ۲؎(احمد، ترمذی،نسائی،ابن ماجہ)

۱؎  اطیب بنا ہے طیب سے اگر طیب خبیث کا مقابل ہو تو بمعنی حلال ہوتا ہے جیسے رب تعالٰی کا فرمان:"لَا یَسْتَوِی الْخَبِیۡثُ وَالطَّیِّبُ"ورنہ اس کے معنی ہوتے پسندیدہ شرعًایا عقلًا یا طبعًا یہاں اس ہی آخری معنی میں ہے یعنی سفید کپڑا پاکیزہ بھی ہے کہ ذرا سا دھبہ دور سے معلوم ہوجاتا ہے اور دھولیا جاتا ہے،رنگین کپڑے کے داغ دھبے نظر نہیں آتے،نیز رنگین کپڑے کے دھونے میں رنگ دھل جانے کا خطرہ ہوتا ہے سفید کپڑے میں یہ خطرہ نہیں،نیز سفید کپڑا اپنے پیدائشی رنگ پر ہے رنگین کپڑے کا رنگ عارضی۔اطیب کے معنی میں دل پسند،جتنا حسن و زیبائش سفید کپڑے میں ہے اتنا دوسرے میں نہیں۔وہ جو وارد ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے سیاہ عمامہ باندھا یا سرخ جوڑا یعنی سرخ دھاری والا جوڑا پہنایا عورت کا کپڑا رنگین ہو وہ سب بیان جواز کے لیے ہے یہ فرمان عالی بیان استحباب کے لیے۔بعض طلباء صوفیاء رنگین کپڑے پہنتے ہیں وہ محض اس لیے کہ جلد جلد دھونا نہ پڑیں ورنہ مسلمان کے لیے سفید کپڑا بہت ہی بہتر ہے۔

۲؎  بعض لوگوں میں مشہور ہے کہ عورت کو رنگین کفن دو غلط ہے ہر مردہ کو سفید کفن دینا بہتر ہے کہ اب اس کی گفتگو اور ملاقات فرشتوں سے ہونے والی ہے تو اچھے کپڑوں میں ہونی چاہیے اچھے کپڑے سفید ہیں۔یہاں مرقات نے سفید رنگت پر بہت اعلیٰ گفتگو کی ہے۔

4338 -[35]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اعْتَمَّ سَدَلَ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عمامہ باندھتے تو اسے اپنے کندھوں کے درمیان لٹکاتے تھے ۱؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث حسن غریب ہے۔

۱؎  یعنی عمامہ شریف کا کنارہ مبارکہ جسے فارسی میں شملہ اور عربی میں عذبہ کہتے ہیں نصف پیٹھ تک ہوتا تھا اور دونوں کندھوں کے درمیان لٹکا رہتا تھا خواہ پیٹھ پر یا سینہ پر مگر سینہ  پر ہونا افضل ہے یعنی سامنے۔(مرقات ولمعات)

4339 -[36]

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: عَمَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَدَلَهَا بَيْنَ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن عوف سے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے عمامہ باندھا ۱؎  تو اسے میرے آگے اور پیچھے لٹکا دیا ۲؎ (ابوداؤد)

۱؎  یعنی میرے سر پر خود اپنے دستِ مبارک سے عمامہ لپیٹا۔آج کل فارغ التحصیل طلباء کے سروں پر علماء عمامے لپیٹتے ہیں جسے رسم دستار بندی کہا جاتا ہے اس کی اصل یہ حدیث ہے۔

۲؎  اس طرح کہ عمامہ کا پہلا شملہ تو سینہ پر ڈالا اور آخری شملہ پیٹھ پر ڈالا یہ ہی سنت ہے۔بعض لوگ آخری شملہ اونچا رکھتے ہیں جسے طرہ کہتے ہیں یہ خلاف سنت ہے،ہاں یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ دوسرا شملہ کبھی رکھا گیا ہے کبھی نہیں۔خیال

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن