30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۳؎ یعنی بمقابلہ مرد کے ایک بالشت اپنا تہبند زیادہ رکھے۔مطلب یہ ہے کہ نصف پنڈلی سے ایک بالشت زیادہ لٹکائے تاکہ ٹخنے بھی ڈھکے رہیں۔
۴؎ یعنی ایک بالشت زیادہ رکھنے میں اگرچہ بیٹھنے کی حالت میں تو اس کا ستر چھپا رہے گا مگر چلنے کی حالت میں اس کے قدم ضرور کھلیں گے یا بے احتیاطی میں پنڈلی بھی کھل جائے گی لہذا ایک بالشت زیادہ ہونے سے بھی ستر حاصل نہ ہوگا۔
۵؎ گز سے شرعی گز مراد ہے یعنی ایک ہاتھ یا دو بالشت جو کہ ڈیڑھ فٹ یا اٹھارہ انچ ہوتے ہیں شریعت میں اسی گز کا اعتبار ہے۔مطلب یہ ہے کہ دو بالشت زیادہ رکھے اس سے زیادہ نہ کرے ورنہ زمین پر گھسیٹے گا اور نجس ہوتا رہے گا۔
|
4335 -[32] وَفِي رِوَايَةِ التِّرْمِذِيِّ وَالنَّسَائِيِّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فَقَالَتْ: إِذًا تَنْكَشِفُ أَقْدَامُهُنَّ قَالَ: «فَيُرْخِينَ ذِرَاعًا لَا يزدن عَلَيْهِ» |
اور ترمذی نسائی کی روایت میں جو حضرت ابن عمر سے ہے یوں ہے کہ بولیں تب تو ان کے قدم کھل جائیں گے ۱؎ فرمایا تو ایک گز لٹکالیں اس پر زیادہ نہ کریں۔ |
۱؎ یہ عبارت پہلے جملہ کی تفسیر ہے وہاں فرمایا تھا تنکشف عنھا اس کا مطلب یہ بتایا کہ عورتوں کے قدم کھل جائیں گے۔ اس سے اشارۃً معلوم ہوا کہ اگرچہ عورت کے قدم ستر نہیں مگر انہیں بھی چھپا کے رکھنا بہتر ہے جیسے عورت کا چہرہ کہ اگرچہ ستر نہیں مگر اجنبی مردوں سے اس کا چھپانا بہتر ہے اب تویہ باتیں بڑی پرانی معلوم ہوتی ہیں۔
|
4336 -[33] وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَبَايَعُوهُ وَإِنَّهُ لَمُطْلَقُ الْأَزْرَارِ فَأَدْخَلْتُ يَدِي فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ فَمَسِسْتُ الْخَاتم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت معاویہ ابن قرہ سے ۱؎ وہ اپنے والد سے راوی ہیں فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مزینہ کی ایک جماعت میں آیا لوگوں نے آپ سے بیعت کی ۲؎ آپ کے بٹن کھلے ہوئے تھے میں نے حضور کی قمیض کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا۳؎ تو مہر نبوت کو چھوا ۴؎ (ابودا ؤد) |
۱؎ آپ معاویہ ابن قرہ ابن ایاس مزنی ہیں،تابعی ہیں،جنگ جمل کے دن پیدا ہوئے،اپنے والد اور انس ابن مالک،عبداللہ ابن مفضل صحابہ سے ملاقات ہے،ان کے والد صحابی ہیں،بصرہ میں قیام رہا،ان سے روایت صرف ان کے بیٹے معاویہ نے ہی کی،یہ قوم ازارقہ کے ہاتھوں شہید ہوئے۔(مرقات)
۲؎ تین سے لےکر دس تک کی جماعت کو رھط کہتے ہیں۔مزینہ والے لوگ چار سو تھے جو چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں باری باری حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے،ایک ٹولی میں یہ تھے لہذا یہ حدیث اور چار سو والی روایت کے خلاف نہیں۔
۳؎ جیب کہ لفظی معنی ہیں پھٹن،اصطلاح میں گریبان کو جیب کہتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا گریبان شریف سینہ پر نہ ہوتا تھا بلکہ گردن شریف کے داہنے بائیں جگہ کھلی تھی جس سے قمیض پہنتے اور اتارتے تھے مگر آج گریبان والی قمیض زیب تن فرما تھے جیساکہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔بعض لوگوں نے سینہ پر گریباں بنانے کو بدعت کہا ہے مگریہ غلط ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گریباں بھی ثابت ہے۔(مرقات)آپ کا گریبان شریف میں ہاتھ ڈال دینا بے ادبی سے نہ تھا بلکہ اس مقصد کے لیے تھا جو آگے آرہا ہے یعنی مہر نبوت کو چھوکر بوسہ دینا۔
۴؎ مہر نبوت شریف کا ذکر ان شاءالله عنقریب آوے گا،یہ چھونا برکت حاصل کرنے اور بوسہ دینے کے لیے تھا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع