30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4329 -[26] وَعَن أسماءَ بنت يزِيد قَالَتْ: كَانَ كُمُّ قَمِيصِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الرُّصْغِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ |
روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قمیض کی آستینیں کلائی تک تھیں ۱؎ (ترمذی،ابودا ؤد)اور ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے۔ |
۱؎ لہذا سنت یہ ہی ہے کہ قمیض کی آستینیں نہ تو کلائی سے اوپر ہوں نہ نیچے یعنی ہتھیلی یا انگلیوں تک۔جن روایات میں ہے کہ حضور انور کی آستینیں انگلیوں تک ہوتی تھیں وہاں جبہ کی آستینیں مراد ہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔جبہ کی آستینیں دراز ہوتی تھیں قمیض کی آستینیں چھوٹی،آج کل قمیض کی آستینیں آدھی کلائی تک بعض لوگ رکھتے ہیں یہ سنت کے خلاف ہے۔ شلوکے یا واسکٹ کی آستینیں بازو تک ہوتی ہیں یا بالکل نہیں ہوتیں یہ بھی جائز ہے۔
|
4330 -[27] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسَ قَمِيصًا بَدَأَ بميامنه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قمیض پہنتے تو داہنی طرف سے شروع فرماتے تھے ۱؎(ترمذی) |
۱؎ یعنی جب قمیض پہنتے تو قمیض کا داہنہ حصے پہلے پہنتے بایاں حصہ بعد میں اس طرح کہ اولًا داہنا ہاتھ شریف داہنی آستین میں ڈالتے پھر بایاں اور اتارنے میں اس کے برعکس۔میامن جمع ہے میمنہ کی جس کا مادہ یمن یا یمین ہے۔قمیض کا ہر داہنا حصہ یمین ہے،آستین دامن کلی وغیرہ۔اس لیے میامن جمع ارشاد ہوا۔اور ہوسکتا ہے کہ میامنہ کی ضمیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف راجع ہو یعنی اپنے دائیں طرف سے شروع فرماتے تھے تب میامن کو جمع فرمانا تعظیم کے لیے ہے۔
|
4331 -[28] وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِزْرَةُ الْمُؤْمِنِ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ لَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ مَا أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ فَفِي النَّارِ» قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ «وَلَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ مسلمانوں کے تہبند اس کے آدھی پنڈلیوں تک ہوں ۱؎ اس پر پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں گناہ نہیں ۲؎ جو اس سے زیادہ نیچا ہوگا وہ آگ میں ہوگا ۳؎ یہ تین بار فرمایا اور اللہ تعالٰی اس کی طرف نظر رحمت نہ کرے گا جو اپنا تہبند فخرًا زیادہ نیچا رکھے (گھسیٹے)۴؎ (ابو دا ؤد،ابن ماجہ) |
۱؎ ازرہ الف کے کسرہ سے ز کے جزم سے یعنی تہبند باندھنے کی حالت و ہیئت جیسے جلسہ بیٹھنے کی ہیئت و کیفیت۔(اشعہ و مرقات) یعنی مسلمانوں کے ازاروتہبند باندھنے کی کیفیت یہ چاہیے کہ وہ نصف پنڈلی تک رہے،نصف سے مراد تقریبًا آدھا ہے نہ کہ حقیقی آدھا لہذا کچھ اونچے نیچے ہونے میں حرج نہیں،یہ حد مردوں کے لیے ہے۔عورتوں کے تہبند یا پاجامے ٹخنوں کے نیچے تک ہونے چاہئیں کیونکہ ان کی پنڈلی ستر میں داخل ہے جس کا چھپانا فرض ہے۔عورتیں گھر میں رہتی ہیں گندی گلیوں سڑکوں میں انہیں چلنا پھرنا نہیں پڑتا ان کے لیے پاجامہ نیچا ہونا مضر نہیں،مردوں کو باہر چلنا پھرنا پڑتا ہے ان کے نیچے پانچے نجس ہوجائیں گے اس لیے بھی یہ فرق کیا گیا۔
۲؎ یعنی مرد ٹخنوں تک پائجامہ اور تہبند رکھ سکتے ہیں اس طرح کہ ٹخنے کھلے ہوں۔
۳؎ اس کا مطلب پہلے بیان ہوچکا کہ اس حد سے نیچا تہبند مع پا ؤں کے دوزخ میں ڈالا جائے گا اور جب پا ؤں دوزخ میں گیا تو پاؤں والا بھی وہاں ہی گیا۔وجہ ظاہر ہے کہ یہ عمل متکبرین اور فیشن ا یبل لوگوں کا ہے،نیز ایسے تہبند اکثر نجس رہتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع