30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ یعنی یہ جبہ دھوکر تبرک کے لیے پیتے پلاتے ہیں۔
۶؎ اس جملہ کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ حضور صلی ا للہ علیہ وسلم کے قمیض کے غسالہ دھوون سے بیماروں کو شفا حاصل کرتے تھے کہ اسے وہ پانی پلاتے تھے اس سے چھینٹا دیتے تھے۔دوسرے یہ کہ ہم اسے دھوتے تھے برکت کے طور پر پینے کے لیے اور اس قمیض کو باندھ کر دکھا کر سینہ پر رکھ کر بیماروں کی شفا حاصل کرتے تھے یعنی شفاء حاصل کرنا کئی طریق سے تھا۔ (مرقات)جیسے حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ میری قمیض والد کے چہرے پر لگادو وہ انکھیارے ہوجائیں گے۔معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات کی زیارت کرنا ان کا لباس دھوکر بیماروں کو پلانا سنت صحابہ ہے ان میں شفا ہے۔آبِ زمزم حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑی سے پیدا ہوا تمام بیماریوں کی شفاء ہے۔حضرت ایوب علیہ السلام نے فرمایا گیا:"اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ہٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ"اپنا پاؤں رگڑو اس سے پانی کے چشمے پیدا ہوں گے اس کا پینا نہانا شفاء ہے۔مرقات نے یہاں فرمایا کہ اس جبہ شریف کو سر پر رکھنا،آنکھوں سے لگانا،ہونٹوں سے چومنا اس پر ہاتھ پھیرنا شفاء ہے۔(مرقات)یہ معلوم ہوا کہ جبہ پہننا بھی سنت ہے اور گریبان یا چولی اگر ریشم کی ہو تو چار انگل تک جائز ہے۔
|
4326 -[23] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أنسٍ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لبس الْحَرِير لحكة بهما وَفِي رِوَايَة لمُسلم قَالَ: إنَّهُمَا شكوا من الْقمل فَرخص لَهما فِي قمص الْحَرِير |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب زبیر اور عبدالرحمان ابن عوف کو ریشم پہننے کی اجازت دی ان کی خارش کی وجہ سے ۱؎(مسلم،بخاری) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ان دونوں نے جُوں کی شکایت کی تو ان کو ریشمی قمیض کی اجازت دی ۲؎ |
۱؎ ریشم کا کپڑا خارش اور جوں کے لیے مفید ہے اس مجبوری میں مرد کے لیے ریشمی کپڑا پہننا جائز ہے۔
۲؎ ریشمی کپڑے میں جُوں نہیں پڑتی۔
|
4327 -[24] وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: رَأَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ثَوْبَيْنِ مُعَصْفَرَيْنِ فَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ من ثِيَاب الْكفَّار فَلَا تلبسها» |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم نے مجھ پر دو کسومی رنگے کپڑے دیکھے ۱؎ تو فرمایا کہ یہ کفار کے لباس میں سے ہیں تم انہیں نہ پہنو ۲؎ |
۱؎ کسم ایک پھل ہوتا ہے جو سرخ رنگ دیتا ہے اور خالص سرخ رنگ مرد کے لئے ممنوع ہے عورتوں کے لیے جائز ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اگر بنا ہوا کپڑا سرخ رنگ لیا جائے تو ممنوع ہے اور اگر سرخ سوت سے بنا جائے تو جائز ہے،بعض کے نزدیک مطلقًا ممنوع ہے،یہ حدیث ان حضرات کی دلیل ہے جویہ تفصیل کرتے ہیں،اس کی تحقیق کتب فقہ میں ملاحظہ کرو۔
۲؎ یعنی کفار حرام و حلال لباس میں یوں ہی مردانہ زنانہ لباس میں فرق نہیں کرتے جیسا کپڑا چاہتے ہیں پہن لیتے ہیں۔چنانچہ سرخ کپڑا عورتوں کا لباس ہے مگر ان کے مرد بھی پہنتے پھرتے ہیں تم ایسا نہ کرو تم مردانہ زنانہ جوڑے میں فرق کرو۔ (ازمرقات)معلوم ہوا کہ مسلمانوں کو کفار کے لباس سے اور مردوں کو عورتوں کے لباس سے بچنا چاہیے۔
|
وَفِي رِوَايَة: قلت: أغسلهما؟ قَالَ: «بل احرقها» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَ سَنَذْكُرُ حَدِيثَ عَائِشَةَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم ذَاتَ غَدَاةٍ فِي «بَابِ مَنَاقِبِ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم» |
اور ایک روایت میں ہے کہ میں نے عرض کیا کہ میں انہیں دھو دوں فرمایا بلکہ انہیں جلادو ۱؎(مسلم)ہم حضرت عائشہ کی حدیث کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن صبح کو تشریف لائے اب مناقب اہلِ بیت النبی صلی ا للہ علیہ وسلم میں ذکر کریں گے ۲؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع