30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4312 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنا کپڑا ۱؎ فخر سے گھسیٹے قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نظر کرم نہ کرے گا ۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ کپڑے میں تہبند،پاجامہ،قمیض،چادر سب ہی داخل ہیں ان میں سے جو بہت زیادہ نیچا ہوکر زمین پر گھسٹے اور ہو فخریہ فیشن کے طورپر اس پر یہ وعید ہے۔
۲؎ ان جیسے فرمانوں میں نہ دیکھنے سے مراد ہوتا ہے مہربانی و کرم کی نظر نہ دیکھنا۔
|
4313 -[10] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ يَجُرُّ إِزَارَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ خُسِفَ بِهِ فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِي الْأَرْضِ إِلى يومِ الْقِيَامَة» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم نے اس حال میں ایک شخص تکبر سے اپنا تہبند گھسیٹ رہا تھا ۱؎ کہ اسے دھنسا دیا گیا تو وہ قیامت کے دن تک دھنستا رہے گا ۲؎(بخاری) |
۱؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ مرد گزشتہ امتوں میں کوئی تھا اس لیے امام بخاری نے یہ حدیث ذکر بنی اسرائیل کے باب میں نقل فرمائی۔بعض نے فرمایا کہ یہ شخص قریب قیامت حضور کی امت سے ہوگا یعنی فیشن ایبل مسلمان مگر قول اول قوی ہے۔(اشعہ)
۲؎ یتجلل بنا ہے جلجلۃ سے جس کے معنی ہیں حرکت کرنے کی آواز یعنی وہ برابر نیچے کو جارہا ہے اس کے جانے کی آواز اللہ والےسن رہے ہیں،یہ شخص قارون کے علاوہ کوئی اور شخص ہے،قارون کے دھنسنے کی وجہ اس کا بخل اور اس کی بے ادبی بنی تھی۔(مرقات)
|
4314 -[11] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فِي النَّارِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم نے کہ تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچا ہوگا وہ آگ میں جائے گا ۱؎(بخاری) |
۱؎ اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ٹخنے سے نیچے تہبند جہنمیوں کا لباس ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ حصہ تہبند کا دوزخ میں جائے گا اس شخص کو ساتھ لے کر،یہ مطلب نہیں کہ تہبند تو دوزخ میں جاوے اور یہ متکبر سیدھا جنت میں،یہاں بھی تکبر شیخی فیشن کے لیے تہبند نیچا رکھنا مراد ہے۔گزشتہ احادیث اس حدیث کی شرح ہیں اور یہ حکم مردوں کے لیے ہے عورتوں کو ٹخنہ کے نیچے تہبند رکھنا چاہیے تاکہ ان کی پنڈلی کا کوئی حصہ حتی کہ ٹخنہ بھی نہ کھلے کہ یہ سترعورت ہے۔
|
4315 -[12] وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَو يمشي فِي نعل وَاحِد وَأَن يشْتَمل الصماء أَو يجتني فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ كَاشِفًا عَنْ فَرْجِهِ. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص اپنے بائیں ہاتھ سے کھائے ۱؎ یا ایک جوتہ میں چلے ۲؎ اور اس سے کہ کپڑے میں لپٹ جائے۳؎ یا ایک کپڑے میں اوکڑوں بیٹھے اپنی شرمگاہ کھولے ہوئے۴؎ |
۱؎ بلا مجبوری بائیں ہاتھ سے کھانا پینا مکروہ تنزیہی ہے،بعض علماء کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ظاہر یہ ہے کہ مکروہ تحریمی ہے کہ اس سے سخت ممانعت ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع