30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ حدیث ہے۔بعض لوگوں نے اس کو ناجائز کہا ہے،بعض نے بلا ضرورت ناجائز کہا مگر حق یہ ہے کہ مطلقًا جائز ہے چنانچہ شیخ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اسکے متعلق ایک رسالہ لکھا "طی اللسان عن ذم الصیلسان" جس میں بہت احادیث اس عمل کی جمع فرمائیں۔دوسرے موقعوں پر بھی حضور صلی ا للہ علیہ وسلم سے یہ عمل ثابت ہے،حضرت صحابہ کرام تابعین عظام سے بھی ثابت ہے۔حضور غوث الثقلین قطب الکونین سید شیخ عبدالقادر جیلانی بغدادی رضی اللہ عنہ سے بھی یہ عمل ثابت ہے۔(اشعۃ اللمعات)
|
4310 -[7] وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «فِرَاشٌ لِلرَّجُلِ وَفِرَاشٌ لِامْرَأَتِهِ وَالثَّالِثُ للضيف وَالرَّابِع للشَّيْطَان» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ایک بستر مرد کا ہو ایک بستر اس کی بیوی کا اور تیسرا مہمان کا ۱؎ اور چوتھا شیطان کا ہوگا ۲؎(مسلم) |
۱؎ اہلِ عرب فخریہ طور پر بہت سے بستر بناتے اور ان سے گھر سجاتے تھے جیسے پنجاب کے اہلِ دیہات بہت زیادہ برتنوں سے گھر سجاتے اس پر فخر کرتے ہیں۔اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ صرف تین قسم کے بستر رکھو: اپنے لیے،بیوی بچوں کے لیے اور بقدر ضرورت مہمانوں کے لیے،یہاں بستر کی قسمیں مراد ہیں نہ کہ تعداد لہذا جس کے دو چار بچے ہوں،دو چار مہمان روزانہ آتے جاتے ہوں تو وہ انہیں کے مطابق بستر رکھے۔
۲؎ چوتھے سے مراد چوتھی قسم کا بستر ہے یعنی بلا ضرورت محض فخر اور اپنی بڑائی کے اظہار کے لیے رکھا جائے خواہ ایک ہو یا زیادہ،چونکہ اس قسم کا بستر تکبر و شیخی کے لیے ہوتا ہے اس کا محرک شیطان ہوتا ہے اس لیے اسے شیطان کی طرف نسبت دی گئی ہے۔بعض شارحین نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ مرد کو اپنی بیوی سے علیٰحدہ سونا چاہیے ساتھ سونا ممنوع ہے کیونکہ حضور صلی ا للہ علیہ وسلم نے مرد کا بستر بیوی سے علیٰحدہ فرمایا مگر یہ ضعیف ہے،بعض حالات بیماری وغیرہ میں علیٰحدہ سونا پڑتا ہے اس لیے علیٰحدہ بستر کی اجازت دی گئی۔خاوند بیوی کا ایک بستر پر سونا حدیث سے ثابت ہے،اس کے متعلق بہت احادیث ہیں۔(مرقات)
|
4311 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى مَنْ جَرَّ إزَاره بطرا» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نظر نہ کرے گا جو اپنا تہبند گھسیٹے ۱؎(مسلم، بخاری) |
۱؎ عرب کے رئیس لوگ شیخی میں تہبند بہت نیچا رکھتے تھے جیسے ہمارے ہاں گاؤں کے چوہدری بہت نیچے باندھتے ہیں جو زمین پر گھسٹتے ہی نجس ہوجاتے ہیں ان کے متعلق یہ وعید ہے اسی لیے بطرًا کی قید لگائی گئی،اگر بغیر فخر کے تہبند نیچا ہو تو یہ وعید نہیں،ہاں سنت یہ ہے کہ مرد کا تہبند یا پاجامہ ٹخنہ سے اوپر رہے۔
|
4312 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنا کپڑا ۱؎ فخر سے گھسیٹے قیامت کے دن اللہ اس کی طرف نظر کرم نہ کرے گا ۲؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع