30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لباس کا بیان ۱؎
۱؎ لباس بمعنی پہننا مصدر ہے باب سمع یسمع سے،اس سے مراد ہے پہنی ہوئی چیز یعنی مصدر بمعنی اسم مفعول۔اس میں کپڑے،جوتے،زیور وغیرہ سب کا بیان آئے گا کہ وہ سب چیزیں پہنی جاتی ہیں۔لباس بمعنی التباس بھی آتاہے مشتبہ ہوجانا متشابہ لگ جانا وہ بھی مصدر ہے مگر ضرب یضرب سے پہلے لباس کا مادہ لبس لام کے پیش سے ہے دوسرے لباس کا مادہ لبس لام کے فتحہ سے یہ فرق ضرور خیال رہے یہاں،پہلا لباس ہے بمعنی پہننا۔(اشعہ)
|
4304 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَن أنسٍ قَالَ: كَانَ أَحَبُّ الثِّيَابِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَلْبَسَهَا الْحِبَرَةُ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ محبوب ترین لباس جن کا پہننا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھا حبرہ تھے ۱؎ (مسلم، بخاری) |
۱؎ یمن کے تیارکردہ کپڑوں میں سے ایک قسم کے سوتی کپڑے کا نام حیرہ ہے ح کے کسرہ سے،یہ بہترین قسم کا کپڑا ہوتاہے،سادہ سفیدبھی ہوتا ہے اور سبزوسرخ دہاری والا بھی۔حیر کے معنی ہیں سجاوٹ آراستگی،یہ کپڑا بڑا اچھا ہوتا ہےجس سے دولہنوں کو آراستہ کیا جاتا تھا اس لیے اسے حیرہ کہتے ہیں،قرآن کریم میں ہے"فَہُمْ فِیۡ رَوْضَۃٍ یُّحْبَرُوۡنَ"۔یہ کپڑا میل خوردہ ہوتا ہے،میل کو چھپا لیتا ہے جلد جلد دھونا نہیں پڑتا اس لیے محبوب تھا۔(مرقات و اشعہ)
|
4305 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِسَ جُبَّةً رُومِيَّةً ضَيِّقَةَ الْكُمَّيْنِ |
روایت ہے حضر ت مغیرہ ابن شعبہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آستینوں والا رومی جبہ پہنا ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے شامی جبہ پہنا،چونکہ اس زمانہ میں شام روم کا ماتحت تھا اس لیے ملک شام کو بھی روم کہہ دیا جاتا تھا یا مطلب ہے کہ بنا ہوا روم کا تھا سلا ہوا شام کا بہرحال احادیث میں تعارض نہیں۔یہ کپڑا اونی ہوتا تھا موٹا بنا ہوا بہت سادہ۔حضرات صوفیاء کرام بھی اکثر صوف یعنی اونی کپڑے پہنتے ہیں اس لیے انہیں صوفی کہا جاتا ہے یعنی صوف پہننے والے حضرت آدم و حوا نے زمین پر آکر پہلے اونی کپڑا پہنا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام اکثر صوف پہنتے اور درختوں کے پھل وغیرہ کھاتے تھے،جہاں شام آجاتی سو رہتے تھے۔خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ میں نے ستر بدری صحابہ سے ملاقات کی سب کا لباس صوف یعنی اون کا تھا،فقہاء فرماتے ہیں کہ سفر میں تنگ آستین کی قمیض افضل ہے اور گھر کھلی آستین کی قمیض بہتر ہے۔صحابہ کرام کی آستین ایک بالشت چوڑی ہوتی تھیں۔(مرقات)
|
4306 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا عَائِشَةُ كِسَاءً مُلَبَّدًا وَإِزَارًا غَلِيظًا فَقَالَتْ: قُبِضَ رُوحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هذَيْن |
روایت ہے حضرت ابو بردہ سے فرماتے ہیں کہ ہمارے سامنے عائشہ نے ایک پیوند والا کمبل اورموٹا تہبند نکالا ۱؎ پھر فرمایا کہ نبی صلی ا للہ علیہ وسلم کی روح مبارکہ ان دونوں میں قبض کی گئی ۲؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع