30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صاحبوں کو منع فرمادیا پھر حضور کے نکاح میں آئیں ان کے نکاح کا بڑا واقعہ ہے جو مرقات وغیرہ میں مذکور ہے(دو مد آدھا صاع ہوتا ہے یعنی سوا دوسیر)
|
3216 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْوَلِيمَةِ فَلْيَأْتِهَا» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: فَلْيُجِبْ عُرْسًا كَانَ أَو نَحوه |
روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ولیمہ کی طرف بلایا جائے تو وہاں جائے ۱؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ قبول کرے،ولیمہ ہو یا اس کی مثل ۲؎ |
۱؎ اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے فرمایا کہ ولیمہ کی دعوت قبول کرنا واجب ہے، بعض نے فرمایا کہ فرض کفایہ ہے وہ حضرات وجوب کے لیے یہ امر مانتے ہیں مگر حق یہ ہے کہ ولیمہ ہو یا کوئی اور دعوت طعام اس کا قبول کرناسنت ہے وہاں جانا بھی سنت رہا کھانا اس کا اختیار ہے جیسا کہ آیندہ حدیث میں آرہا ہے۔ خیال رہے کہ دعوت قبول کرناواجب یا فرض کفایہ یا سنت جب ہے جب کہ کوئی مانع موجود نہ ہو ورنہ نہیں جس کا کھانا مشکوک ہو حرام کی آمدنی سے کھانے پکانے کا قوی احتمال ہو یا ولیمہ میں صرف مالدار بلائے گئے ہوں فقراء کو چھوڑ دیا گیا ہو یا دعوت میں کوئی ایذا رساں چیز موجود ہو یا دستر خوان پر گانا باجہ ہو یا وہاں شراب کے دور ہوں یا رشوت کے طور پر بلاوا ہو یا ناجنسوں کی صحبت ہو تو قبول کرنا سنت نہیں۔ صوفیاء فرماتے ہیں کہ اب اس زمانہ میں جلوت سے خلوت افضل سے بری صحبت سے تنہائی افضل۔(از مرقات واشعہ ولمعات)
۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ عبارت کہ ولیمہ ہو یا اس کی مثل کسی راوی کا اپنا قول ہے جو بطور شرح شامل کیا گیا ہے۔یعنی ولیمہ،ختنہ، عقیقہ،کسی کی آمد پر دعوت یوں ہی اتفاقیہ دعوت سب ہی قبول کرنی چاہئیں،ختم فاتحہ کے کھانے فقراء کھائیں مالدار احتیاط کریں،بزرگوں کی فاتحہ کے کھانے تبرک ہیں سب کھائیں۔
|
3217 -[8] وَعَنْ جَابِرٍ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ إِلَى طَعَام فليجب وَإِن شَاءَ طَعِمَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم میں سے کوئی کھانے کے لیے بلایا جائے تو قبول کرے پھر اگر چاہے کھالے اور اگر چاہے چھوڑ دے ۱؎ (مسلم)۲؎ |
۱؎ یہ حکم بھی برمذہب محققین استحبابی ہے اس میں بھی وہ تمام قیود معتبر ہیں جو ابھی پچھلی حدیث میں عرض کی گئیں۔مطلب یہ ہے کہ ہر جائز و دعوت میں جانا بہتر ہے کھانے نہ کھانے کا اختیار ہے کیونکہ نہ جانے سے لوگ متکبر کہتے ہیں،اور اس سے عداوت پیدا ہونے کا خطرہ ہے جماعت میں مل جل کر رہنا چاہیے۔
۲؎ یہ حدیث ابوداؤد،احمد،ترمذی نے حضرت ابوہریرہ سے قدرے اختلاف سے روایت کی اور طبرانی نے حضرت ابن مسعود سے یوں روایت کی اگر وہاں کھانا نہ کھائے تو دعاء برکت کردے اگر روزہ دار ہو تو وہاں جا کر یہ عذر کردے۔
|
3218 -[9] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْفُقَرَاءُ وَمَنْ تَرَكَ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى الله وَرَسُوله» |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ بدترین کھانا وہ ولیمہ کا کھانا ہے جس کے لیے مالدار تو بلائے جائیں اور فقراء چھوڑ دیئے جائیں ۲؎ اور جس نے دعوت چھوڑ ی اس نے اﷲ رسول کی نافرمانی کی ۳؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع