30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرلوں۔یہ کہہ کر آپ اپنے گھر کی مسجد میں عبادت میں مشغول ہوگئیں ادھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی" فَلَمَّا قَضٰی زَیۡدٌ مِّنْہَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَہَا"۔اس آیت کے نزول پر حضور صلی اللہ علیہ و سلم بغیر اجازت آپ کے گھر میں داخل ہوئے بی بی زینب فخر کرتی تھیں کہ تمام بیبیوں کا نکاح ان کے عزیزوں نے فرش پر کیا میرا نکاح میرے رب نے عرش پر کیا۔منافقین نے طعنہ دیا کہ حضور نے اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا۔تب یہ آیت کریمہ اتری"مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنۡ رِّجَالِکُمْ"الایہ۔
|
3212 -[3] وَعَنْهُ قَالَ: أَوْلَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَنَى بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فأشبع النَّاس خبْزًا وَلَحْمًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب حضرت زینب سے زفاف کیا تو ولیمہ کیا ۱؎ لوگوں کو گوشت روٹی سے سیر کردیا ۲؎(بخاری) |
۱؎ اسی ولیمہ کا وہ واقعہ ہے کہ بعض صحابہ کرام کھانا پکنے سے پہلے ہی دولت خانہ سرکار میں پہنچ گئے اور بعض حضرات کھانا کھا چکنے کے بعد وہاں ہی باتوں میں مشغول رہے جس سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو تکلیف ہوئی تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَدْخُلُوۡا بُیُوۡتَ النَّبِیِّ"الایہ۔
۲؎ یعنی حاضرین مدعوین کو پیٹ بھر گوشت روٹی کھلائی یا ثرید بنا کر یا جیسے آج کل عمومًا کھائی جاتی ہے اس طرح اس ولیمہ کے علاوہ باقی ولیموں میں چھوارے پنیر وغیرہ کھلائے گئے تھے۔
|
3213 -[4] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَتَزَوَّجَهَا وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا وَأَوْلَمَ عَلَيْهَا بحيس. مُتَّفق عَلَيْهِ |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت صفیہ کو آزاد فرمایا اور ان سے نکاح فرما لیا ۱؎ اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا ۲؎ ان پر حریسہ سے ولیمہ کیا ۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ بی بی صفیہ حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں تھیں،حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بھتیجی حیی ابن اخطب کی بیٹی تھیں،غزوہ خیبر میں قید ہو کر آئیں،یعنی محرم ۷ھ میں پہلے کنانہ ابن ابی الحقیق کے نکاح میں تھیں جو غزوہ خیبر میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوا اولًا حضرت دحیہ کلبی کے حصہ میں آئیں،ان سے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سات غلاموں کے عوض خرید لیا آپ مسلمان ہوگئیں حضور نے آپ کو آزاد فرما کر ان سےنکاح کیا تاکہ سرداریہودکی بیٹی حضرت ہارون علیہ السلام نبی کی اولادنبی ہی کے نکاح میں رہیں ۵۰ ہجری میں وصال ہوا مدینہ پاک میں دفن ہوئیں اس گنہگار نے قبر انور کی زیارت کی ہے رضی اللہ تعالٰی عنہا۔
۲؎ یعنی بجز آزادی کے اور کوئی مہرانہیں نہ دیا،یہ یا تو حضور کی خصوصیات سے ہے کہ آپ پر ازواج کا نہ مہر واجب ہے نہ باری مقرر کرنا لازم رب تعالٰی فرماتاہے:"وَتُــٔۡوِیۡۤ اِلَیۡکَ مَنۡ تَشَآءُ" الایہ۔یا یہ مطلب ہے کہ مہر معجل یعنی نکاح کا چڑھاوا کچھ نہ دیا یا یہ مطلب ہے کہ نکاح کے وقت مہر کا ذکر نہ فرمایا بعد میں مہر مثل دیا جیسا کہ اب بھی یہ ہی حکم ہے ورنہ عورت کا آزاد کرنا مہر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع