30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ یہاں صاحب مشکوۃ سے غلطی ہوئی عبداﷲ ابن جحش تو صحابی ہیں جنگ احد میں شریک ہوئے،حضرت ام حبیبہ ان کے بھائی عبید اﷲ ابن جحش کے نکاح میں تھیں۔یہ عبید اﷲ پہلے تو مسلمان ہوئے اور حبشہ کو ہجرت کر گئے مگر وہاں جا کر عیسائی ہوگئے اور عیسائیت پر ہی مرے یہ دونوں بھائی حضرت ام المؤمنین زینب بنت جحش کے بھائی ہیں۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)
۳؎ عبید اﷲ ابن جحش زمین حبشہ میں عیسائیت کی حالت میں فوت ہوئے،حضرت ام حبیبہ اسلام پر قائم رہیں۔
۴؎ اس طرح کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم حجاز میں تشریف فرما رہے اور حضرت ام حبیبہ حبشہ میں،نجاشی بادشاہ نے ام حبیبہ سے اجازت لے کر مجمع کے سامنے ان کا نکاح حضور انور سے کردیا اور نکاح کی اطلاع حضور کو بھیج دی حضور نے یہ نکاح مجمع صحابہ میں قبول فرمالیا اسے غائبانہ نکاح کہتے ہیں اب بھی جائز ہے نجاشی شاہ حبش کا لقب تھا ان کا نام اصحمہ تھا حضور کا زمانہ پایا زیارت نہ کرسکے اس لیے تابعین میں سے ہیں انہوں نے مسلمانوں کی بڑی خدمات انجام دیں،اشعۃ اللمعات میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عمرو بن امیہ ضمری کو اپنا وکیل نکاح کرکے حبشہ بھیج دیا تھا اس صورت میں تو نجاشی ام حبیبہ کے وکیل نکاح ہوئے اور عمرو ابن امیہ حضور کے وکیل مگر پہلی روایت زیادہ قوی ہے۔
۵؎ یہاں مرقات نے فرمایا کہ اس نکاح کے موقعہ پر خالد ابن سعید ابن عاص کے ذریعہ نجاشی نے بی بی ام حبیبہ کو حضور کی طرف سے پیغام نکاح دیا۔ابرہہ لونڈی حضرت جعفر ابن ابی طالب اور دوسرے مسلمان نکاح میں شریک ہوئے حضور کی طرف سے نجاشی نے اور ام حبیبہ کی طرف سے خالد نے خطبہ نکاح پڑھا اور چار سو دینار یعنی چار ہزار درہم اپنی جیب سے نجاشی نے مہر ادا کیا بعد میں تمام حاضرین کو کھانا کھلایا پھر حضرت شرحبیل کے ساتھ حضور کی خدمت میں ام حبیبہ کو بھیج دیا،خیال رہے کہ یہ خالد بی بی ام حبیبہ کے والد یعنی ابو سفیان کے چچا ہیں اور نجاشی نے یہ نکاح اس لیے کیا تاکہ ابوسفیان حضور کی طرف مائل ہوں جنگ ہلکی پڑ جائے یہ نکاح ۶ھ میں ہوا،حسنہ شرحبیل کی والدہ کا نام ہے۔
|
3209 -[8] وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ فَكَانَ صَدَاقُ مَا بَيْنَهُمَا الْإِسْلَامَ أَسْلَمَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَبْلَ أَبِي طَلْحَةَ فَخَطَبَهَا فَقَالَتْ: إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ فَإِنْ أَسْلَمْتَ نَكَحْتُكَ فَأَسْلَمَ فَكَانَ صدَاق مَا بَينهمَا. رَوَاهُ النَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ نے ام سلیم سے نکاح کیا ۱؎ تو ان کے درمیان مہر اسلام تھا کہ حضرت ام سلیم ابوطلحہ سے پہلے اسلام لائیں پھر انہیں نے پیغام نکاح دیا۔تو وہ بولیں کہ میں مسلمان ہوچکی ہوں اگر تم بھی مسلمان ہو جاؤ تو تم سے نکاح کرلوں چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے پھر یہ ان کے آپس میں مہر ہوا ۲؎(نسائی) |
۱؎ حضرت ابوطلحہ کا نام زید ابن سہل ہے،انصاری بخاری ہیں اپنی کنیت میں مشہور ہوئے اور ام سلیم کے نام میں اختلاف ہے بنت ملحان ہیں پہلے مالک ابن نضر کے نکاح میں تھیں ان سے حضرت انس پیدا ہوئے پھر مالک بحالت شرک قتل کیے گئے تب حضرت ابوطلحہ نے نکاح کا پیغام دیا تب حضرت ام سلیم نے وہ جواب دیا جو آگے آرہا ہے۔
۲؎ یہ حدیث ظاہری معنی سے تمام اماموں کے خلاف ہے کیونکہ تمام آئمہ کے ہاں یہ شرط ہے کہ مہر مال ہو،رب تعالٰی فرماتا ہے: "اَنۡ تَبْتَغُوۡا بِاَمْوٰلِکُمۡ"لہذا اس جملہ کے معنے یا تو یہ ہیں کہ حضرت ام سلیم نے مہر معاف کردیا ان کے اسلام کی وجہ سے یا یہ مطلب ہے کہ مہر معجل یعنی نکاح کا چڑھاوا کچھ نہ لیا،بہرحال یہ جملہ قابل تاویل ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع