30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3206 -[5] وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ: أَنَّ امْرَأَةً مَنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَتْ عَلَى نَعْلَيْنِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَضِيتِ مِنْ نَفْسِكِ وَمَالِكِ بِنَعْلَيْنِ؟» قَالَتْ: نَعَمْ. فَأَجَازَهُ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت عامر ابن ربیعہ سے ۱؎ کہ بنی فزارہ کی ایک عورت نے دو جوتوں پر نکاح کیا ۲؎ تو اس سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کیا تم دو جوتوں کے عوض اپنے نفس و مال سے راضی ہوگئیں ۳؎ وہ بولیں ہاں تو حضور نے یہ نکاح جائز قرار دیا ۴؎(ترمذی)۵؎ |
۱؎ آپ قدیم الاسلام صحابی ہیں،صحاب ہجرتین ہیں، بدر وغیرہ تمام غزوات میں شامل ہوئے۔(اشعہ)
۲؎ اس طرح کہ خاوند نے نکاح کے وقت اسے صرف جوتوں کا جوڑا دیا۔
۳؎ یعنی اس چڑھاوے پر تم خوش ہو یا کچھ اور بھی چاہتی ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ عورت سے اجازت نکاح لیتے وقت خاوند کے نام کے ساتھ مہر بلکہ چڑھاوے کا بھی ذکر کردینا بہتر ہے مال سے مراد یا تو جہیز کا مال ہے یا عورت کا مملوکہ مال کیونکہ عورت اپنی جان مال جہیز سب کچھ لے کر خاوند کے پاس جاتی ہے عورت کا مال مرد کا ہی ہوتا ہے اسی لیے خاوند اپنی زکوۃ اپنی بیوی کو نہیں دے سکتا۔
۴؎ بعض علماء نے اس حدیث کی بنا پر فرمایا کہ اگر عورت اپنا مہر بالکل معاف کردے یا مہر مثل سے بھی کم کردے تو اسے حق ہے، وہ ا س حدیث کے معنی یہ کرتے ہیں کہ صرف جوتوں پر راضی ہوگئی۔
۵؎ امام ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اگرچہ اس حدیث کو امام ترمذی نے صحیح کہا مگر صحیح نہیں کیونکہ اس کی اسناد میں عاصم ابن عبید ہیں ابن معین،ابن جوزی نے انہیں ضعیف کہا، ابن حبان نے فرمایاکہ عاصم کثیر الخطاء ہے اگر یہ حدیث صحیح ہو تو بھی جوتے مہر معجل یعنی نکاح کا چڑھاواتھے اور ہوسکتا ہے کہ یہ جوتے دس درہم قیمت کے ہوں۔
|
3207 -[6] وَعَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا شَيْئا وَلم يدْخل بهَا حَتَّى مَاتَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَهَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِهَا. لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فَقَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشَقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا بِمِثْلِ مَا قَضَيْتَ. فَفَرِحَ بِهَا ابْنُ مَسْعُودٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي |
روایت ہے حضرت علقمہ سے وہ حضر ت ابن مسعود سے راوی ۱؎ کہ ان سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کے لیے کچھ مقرر نہ کیا اور نہ اس سے صحبت کی حتی کہ مرگیا ۲؎ تو جناب ابن مسعود نے فرمایا کہ اس عورت کے لیے اپنی جیسی عورتوں کا مہر ہے جس میں نہ کمی ہو نہ زیادتی اور اس پر عدت بھی ہے اور اس کے لیے میراث بھی ۳؎ تو معقل ابن سنان اشجعی اٹھے ۴؎ فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہمارے قبیلہ کی ایک عورت بروع بنت واشق کے متعلق ایسا ہی فیصلہ فرمایا۵؎جیسا آپ نے فیصلہ کیا تب ابن مسعود اس سے بہت خوش ہوئے۔۶؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی)۷؎ |
۱؎ غالبًا یہ علقمہ ابن ابی علقمہ ہیں علقمہ کا نام بلال ہے حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ساتھیوں میں سے ہیں مشہور تابعی ہیں واﷲ اعلم۔علقمہ ابن ابی وقاص نہیں وہ تو صحابی ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع