30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ مرقات نے فرمایا کہ مقصد یہ ہے کہ ہم حق بات فرمانے سے شرم نہیں کرتے ہر مسئلہ ظاہر فرمادیتے ہیں مگر چونکہ آپ کا فرمان درپردہ حق تعالٰی کا ارشاد ہے اسی لیے اس کو رب تعالٰی کی طرف سے نسبت فرمایا اس میں علماء کو تاکید ہے کہ شرم کی وجہ سے شرعی مسائل بیان کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔
۳؎ نسآء سے مراد مطلقًا عورتیں ہیں خواہ اپنی بیویاں ہوں یا اپنی لونڈیاں۔ خیال رہے کہ اجنبی عورت سے دبر میں صحبت زنا کے حکم میں ہے جس کی سزا زنا کی طرح ہے،اپنی بیوی یا اپنی لونڈی سے دبر میں صحبت کرنا حرام تو ہے مگر اس پر زنا کی سزا نہیں بلکہ تعزیر ہے،لڑکے سے دبر میں صحبت سخت حرام ہے فاعل قتل کیا جائے مفعول اگر دیوانہ ہو یا بہت چھوٹا بچہ ہو یا مجبور کیا گیا ہو تو اس پر سزا نہیں ورنہ وہ بھی سزا کا مستحق ہے دیکھئے کتب فقہ و مرقات۔ یہاں مرقات نے فرمایا کہ جو دبر میں صحبت کی حرمت کا انکار کرے وہ کافر نہیں کیونکہ اس کی حرمت قطعی الثبوت قطعی الدلالت نص سے ثابت نہیں۔مگر فقیر احمد یار کی تحقیق یہ ہے کہ وہ کافر ہے اس کی بحث ہماری تفسیر نعیمی جلد دوم میں ملاحظہ کیجئے اس کی قطعی حرمت قیاس قطعی سے ثابت ہے۔
|
3193 -[11] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ لعنتی ہے وہ جو اپنی بیوی کے پاس اس کی دبر میں جائے ۱؎(احمد، ابوداؤد) |
۱؎ یعنی جب اپنی بیوی یا لونڈی سے دبر میں صحبت کرنے والا لعنتی ہے تو اجنبی عورت سے یہ حرکت کرنے والا کیسا مردود لعنتی جہنمی ہوگا۔
|
3194 -[12] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ» . رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو شخص اپنی بیوی کے پاس اس کی دبر میں جائے تو اﷲ اس کی طرف نظر رحمت نہ کرے گا۱؎(شرح سنہ) |
۱؎ یعنی ایسے شخص کو اﷲ تعالٰی کل قیامت میں نظر رحمت سے نہ دیکھے گا یعنی یہ شخص انتہائی بدبخت ہے کہ قیامت میں رحمت الہٰی سے محروم ہے قرآن کریم میں یہ کلمہ کفار کے لیے بطور اظہار غضب ارشاد ہوا ہے"لَا یَنۡظُرُ اِلَیۡہِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَا یُزَکِّیۡہِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ"جو رب تعالٰی کی رحمت سے محروم رہا وہ جہنمی ہوا۔
|
3195 -[13] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلًا أَوِ امْرَأَةً فِي الدبر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اﷲ تعالٰی اسے نظر رحمت سے نہ دیکھے گا جو لڑکے کے پاس یا عورت کے پاس دبر میں جائے ۱؎ (ترمذی) |
۱؎ یہ فرمان یا خبر یا بددعا یعنی جو لڑکے یا کسی عورت سے اپنی ہو یا غیر دبر میں صحبت کرے اﷲ تعالٰی اسے قیامت میں نظر رحمت سے نہ دیکھے یا نہ دیکھے گا اور ہوسکتا ہے کہ قیامت کی بھی قید نہ ہو دنیا و آخرت میں ایسے لوگ رب تعالٰی کی رحمت سے محروم ہوں کہ انہیں نہ دنیا میں توفیق خیر ہے نہ آخرت میں قبولیت۔خیال رہے کہ یہ احادیث ظنیہ ہیں ان سے حرمت قطعیہ ثابت نہیں ہوسکتی، اسی لیے فقہاء اور علماء اصول نے اس فعل کی قطعی حرمت قیاس قطعی سے ثابت کی ہے انہوں نے وطی بحالت حیض پر قیاس فرمایا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع