30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ ظاہر ہے کہ یہاں دخول سے مراد حقیقی صحبت ہے صرف خلوت کافی نہیں جس بیوی سے صحبت کرلی جائے اس کی بیٹی حرام ہوگی، قرآن کریم فرماتا وَرَبٰٓئِبُکُمُ الّٰتِیۡ فِیۡ حُجُوۡرِکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیۡ دَخَلْتُمۡ بِہِنَّ"۔
۲؎ اس طرح کہ اولا اس بیوی کو طلاق دے پھر اس کی بیٹی سے نکاح کرے رب تعالٰی فرماتا ہے:"فَاِنۡ لَّمْ تَکُوۡنُوۡا دَخَلْتُمۡ بِہِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمْ"۔
۳؎ اس حکم کی تائید اس آیت کریمہ سے ہے"وَاُمَّہٰتُ نِسَآئِکُمْ"کہ تم پر تمہاری بیویوں کی مائیں حرام ہیں یہاں بیویوں میں صحبت کی قید نہیں۔
۴؎ یعنی اس حدیث کے الفاظ اسنادًا صحیح نہیں معنی حدیث بالکل صحیح ہیں کیوں نہ ہو کہ قرآن کریم ان کی تائید کررہا ہے۔
۵؎ یعنی محدثین کے نزدیک ابن لہیعہ اور مثنی ابن صباح ضعیف مانے جاتے ہیں،خیال ر ہے کہ بعض محدثین نے انہیں ضعیف مانا ہے اور بہت سے محدثین انہیں ضعیف نہیں مانتے لہذا یہ حدیث ان ہی کے نزدیک ضعیف ہے جو ان راویوں کو ضعیف مانتے ہیں احناف کے نزدیک ابن لہیعہ ضعیف نہیں دیکھئے طحاوی و مرقات۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع