30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۴؎ تیسیر کے معنی ہیں سیر کرنے چلنے پھرنے کی اجازت یا اس کا حکم اور اربعۃ اشہر اس کا ظرف مضاف الیہ ہے جیسے کہا جاتا ہے سارق اللیل یعنی رات میں چوری کرنے والا رات کا چور ۔مطلب یہ ہے کہ حضور نے انہیں اجازت دی یا حکم دیا کہ چار ماہ تک امن و امان سے اسلامی ممالک اور مسلمانوں میں گشت و چکر لگائیں۔
۵؎ یعنی دل سے مسلمان ہوگئے اور اسلام ان کی رگ رگ میں سرایت کر گیا اسلام کی شوکت دیکھ کر اور مسلمانوں کی ملاقات سے ورنہ وہ تو مسلمان پہلے ہی ہوگئے تھے۔خیال رہے کہ صفوان اپنی بیوی کے دو ماہ بعد اسلام لائے۔(مرقات)
۶؎ یا تو پہلے ہی نکاح یا نئے نکاح سے جوان کے ساتھ کیا گیا لہذا یہ حدیث صراحۃً نہ ہمارے خلاف ہے نہ شوافع کے(مرقات)نیز یہاں اختلاف دارین نہ ہوا کہ صفوان دارا لکفر میں مقیم نہ ہوئے تھے صرف مکہ معظمہ سے بھاگ کر وہاں پناہ گزین ہوگئے تھے ورنہ ایسی صورت میں کہ زوجہ اسلام قبول کرے خاوند کافر رہے اختلاف دارین سے نکاح فسخ ہوجاتا ہے۔
۷؎ یعنی اسلام کی شوکت مسلمانوں کی قوت دیکھ کر اپنی جان کے خوف سے بھاگ گئے۔خیال رہے کہ جناب عکرمہ ان میں سے ہیں جن کے متعلق اعلان ہوگیا تھا کہ جہاں ملیں قتل کردیئے جائیں جیسا کہ فتح مکہ کے واقعہ میں آتا ہے وحشی، ابن حنظل، عکرمہ،ہندہ بھی ان ہی میں سے ہیں۔
۸؎ حق یہ ہے کہ عکرمہ یمن میں داخل نہ ہوئے تھے بلکہ ساحل پر رہے جو حجاز و یمن کی حد ہے لہذا ان میں اور ان کی بیوی میں ملک کا اختلاف نہ پایا گیا لہذا فسخ نکاح کی کوئی وجہ نہ تھی۔(فتح القدیرو مرقات)وہ جو روایات میں ہے کہ حضرت ابوالعاص ابن ربیع مکہ میں کافر ہو کر رہے اور ان کی زوجہ زینب بنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پاک میں مؤمنہ مہاجرہ ہو کر رہیں پھر تین یا چھ سال بعد آپ اسلام لائے اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب کو ان کی زوجیت میں رکھا وہاں حق یہ ہی ہے کہ حضور نے ان کا نیا نکاح کیا جیسا کہ ترمذی ابن ماجہ اور امام احمد کی روایات میں ہے اور جن روایات میں ہے کہ علی النکاح الاول وہاں علی سببہ ہے کہ پہلے نکاح کی وجہ سے انکے ساتھ ہی نکاح کیا دوسرے خاوند سے نکاح نہ کیا تاکہ روایات میں تعارض نہ ہو،یا یہ مطلب ہے کہ دوسرا نکاح مطابق نکاح اول کے کیا مہروغیرہ میں کوئی فرق نہیں کیا۔خیال رہے کہ حضرت زینب بنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے خاوند ابوالعاص میں اختلاف دین زیادہ دس سال سے رہا کیونکہ بی بی خدیجہ اور ان کی لڑکیاں جن میں زینب بھی داخل ہیں اول تبلیغ میں ایمان لائیں اور ابوالعاص فتح مکہ سے کچھ پہلے ایمان لائے حضور انور نے ہجر ت سے پہلے ان کا نکاح فسخ نہ کیا کیونکہ اس زمانہ میں مشرکین سے مؤمنہ عورتوں کا نکاح حرام نہ تھا اسی لیے جب بی بی زینت مہاجرہ ہوکر مکہ مکرمہ روانہ ہوئیں تو حاملہ تھی راہ میں اسقاط ہوگیا بہرحال حضرت زینب کا مؤمنہ ہوکر ابو العاص کے نکاح میں رہنا حالانکہ وہ کافرتھے اولًا اس وجہ سے تھا کہ اس وقت ایسے نکاح درست تھے پھر بعد ہجرت اختلاف دار کی وجہ سے نکاح فسخ ہوا مگر بعد میں اس نکاح کی وجہ سے تجدید نکاح کیا گیا اس کی نفیس تحقیق یہاں ہی مرقات میں دیکھئے۔
۹؎ صاحب مشکوۃ کا مقصد ان احادیث سے یہ ہے کہ زوجین میں جب کفرو اسلام کا اختلاف ہوجائے تو بغیر کسی کے قید ہوئے نکاح فسخ نہیں ہوتا اگرچہ دونوں کے ملک علیحدہ ہوگئے ہوں کہ ایک داراسلام میں آجائے اور دوسرا دارحرب میں رہے یہ مذہب شافعی ہے احناف کا مذہب یہ ہے کہ دارو ملک مختلف ہوتے ہی نکاح فسخ ہوجاتا ہے، امام اعظم کی دلیل قرآنی آیات ہیں رب تعالٰی فرماتا ہے: "اِذَا جَآءَکُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُہٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوۡہُنَّ اَللہُ اَعْلَمُ بِاِیۡمٰنِہِنَّ فَاِنْ عَلِمْتُمُوۡہُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوۡہُنَّ اِلَی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع