30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4140 -[37] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهُنَّ فَمَنْ خَافَ ثَأْرَهُنَّ فَلَيْسَ مِنِّي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ |
روایت ہے حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سارے سانپوں کو مار دو جو ان کے بدلہ سے ڈرے وہ مجھ سے نہیں ۱؎ (ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ ہوسکتا ہے کہ اس عام حکم میں مدینہ منورہ کے سانپ بھی داخل ہوں اور یہ حدیث گزشتہ مہلت کی حدیث کی ناسخ ہو۔
|
4141 -[38] وَعَن العبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَكْنُسَ زَمْزَمَ وَإِنَّ فِيهَا مِنْ هَذِهِ الْجِنَّانِ يَعْنِي الْحَيَّاتِ الصِّغَارِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِنَّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم چاہ زمزم کو صاف کرنا چاہتے ہیں اور اس میں یہ جنان یعنی پتلے چھوٹے سانپ ہیں ۱؎ تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے مار دینے کا حکم دیا ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ جنان جیم کے کسرہ نون کے شد سے جمع جانّ کی،بمعنی پتلا سانپ،رب تعالٰی فرماتا ہے:"کَاَنَّہَا جَآنٌّ" عصا موسوی پتلے سانپ کی طرح ہوگیا یعنی زمزم کے کنوئیں میں چھوٹے سانپ بہت ہیں جن کے مارے بغیر کنوئیں کی صفائی نہیں ہوسکتی،پھر حضور والا کا ان سانپوں کے قتل کے متعلق کیا حکم ہے۔چاہ زمزم میں ایک حبشی گرکر مرگیا تھا حضرت عباس زمزم کے منتظم تھے،انہوں نے چاہ زمزم پاک کرنا چاہا تب یہ سوال کیا وہ چاہتے یہ تھے کہ اب کنواں پاک تو کرنا ہی ہے لاؤ س کی صفائی بھی کردو،اس کے کیچڑ وغیرہ سب نکال دو۔ (مرقات)
۲؎ ان سانپوں کے قتل کا حکم چاہ زمزم کی صفائی کے لیے ہے لہذا یہ حدیث آئندہ آنے والی حدیث کے خلاف نہیں۔
|
4142 -[39] وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ كُلَّهَا إِلَّا الْجَانَّ الْأَبْيَضَ الَّذِي كَأَنَّهُ قضيب فضَّة» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا سارے سانپوں کو مار دو سوا پتلے سفید سانپ کے جو چاندی کی شاخ کی طرح ہو ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یا اس لیے کہ ایسے سانپ بےضرر ہوتے ہیں وہ کاٹتے نہیں اگر کاٹ بھی لیں تو ان میں زہر نہیں کسی کو نقصان نہیں پہنچتا یا اس لیے کہ مؤمن جن اس قسم کے سانپ میں تبدیل ہوجاتے ہیں لہذا انہیں نہ مارو۔
|
4143 -[40] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً فَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ فَلْيَغْمِسْهُ كُلَّهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گر جائے تو اسے غوطہ دے دو کیونکہ اس کے ایک بازو میں بیماری ہے دوسرے میں شفاء ہے ۱؎ اور وہ اپنے اس بازو سے بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہے لہذا اس پوری کو ڈبو دو ۲؎ (ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع