30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ دیك اسم جنس ہے واحد و جمع سب پر بولا جاتا ہے بمعنی مرغ نر،مادہ کو دجاجہ کہتے ہیں یعنی مرغ کو نہ برا کہو نہ برا سمجھو،یہ بڑا مبارک جانور ہے۔
۲؎ یعنی نماز تہجد اور نماز فجر کے لیے اٹھاتا ہے۔مرغ میں قدرت نے عجیب کرشمہ رکھا ہے کہ یہ رات کے اوقات سے خبردار رہتا ہے،رات لمبی ہو یا چھوٹی آخری تہائی رات میں بھی بولتا ہے اور صبح صادق کے وقت بھی،حتی کہ بعض علماء نے مجرب مرغ کی آواز پر نماز تہجد پڑھنا جائز فرمایا اور کہا کہ اس کی آواز پر اعتماد جائز ہے،بعض صحابہ کرام سفر میں مرغ ساتھ رکھتے تھے نمازوں کے لیے۔ سفید مرغ کے بڑے فضائل ہیں اس کا گوشت اور دل بہت ہی قوی ہوتا ہے۔(مرقات)
|
4136 -[33] وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ فَإِنَّهُ يُوقِظُ للصلاةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مرغ کو برا نہ کہو کیونکہ وہ نماز کے لیے جگاتا ہے ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ بعض روایات میں ہے کہ عرش اعظم کے نیچے ایک جانور سفید مرغ کی شکل کا ہے،ہرسحرکو اذان دیتا ہے، اس کی اذان سنکر زمین کے تمام مرغ اذانِ سحر دیتے ہیں اس لیے مرغ سحرکی اذان کے وقت دعائیں قبول ہوتی ہیں۔(مرقات)
|
4137 -[34] وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ: قَالَ أَبُو لَيْلَى: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا ظَهَرَتِ الْحَيَّةُ فِي الْمَسْكَنِ فَقُولُوا لَهَا: إِنَّا نَسْأَلُكِ بِعَهْدِ نُوحٍ وَبِعَهْدِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ أَنْ لَا تُؤْذِينَا فَإِنْ عَادَتْ فَاقْتُلُوهَا ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے عبدالرحمن ابن ابی لیلی سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا ابوالیلی نے کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب گھر میں سانپ نمودار ہو تو اس سے کہہ دو کہ ہم حضرت نوح و حضرت سلیمان کے معاہدوں کے واسطے تجھ سے سوال کرتے ہیں۲؎ کہ تو ہم کو نہ ستا اگر پھر ہوئے تو اسے مار دو (ترمذی،ابوداؤد)۳؎ |
۱؎ آپ کی کنیت ابو عیسیٰ ہے،ثقہ تابعی ہیں،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے جب چھ سال باقی رہے تو آپ پیدا ہوئے،کوفے کے رہنے والے ہیں،تراسی ۸۳ھ میں بصرہ کی نہر میں ڈوب کر آپ کی وفات ہوئی،بیس صحابہ سے آپ کی ملاقات ہے جن میں حضرت عثمان و علی،ابوایوب انصاری،ابوالدرداء ہیں،آپ سے بہت لوگوں نے روایات کیں،آپ کے بیٹے کا نام محمد تھا ابن ابی لیلی کنیت تھی، کوفہ کے قاضی تھے،بڑے فقیہ تھے،جب فقہاء ابن ابی لیلی کہتے ہیں تو وہ ہی محمد مراد ہوتے ہیں،محمد ۷۴ھ چوہتّر میں پیدا ہوئے، ۱۴۸ھ ایک سو اڑتالیس میں وفات ہوئی۔(اشعہ ومرقات)
۲؎ غالبًا عہد نوحی سے مراد وہ معاہدہ ہے جو آپ نے اپنی کشتی میں سوارکرتے وقت سانپ سے لیا تھا کہ بلاوجہ کسی کو ایذا نہ دینا۔ معلوم ہوا کہ بعض سانپ انسانوں کی بولی سمجھتے ہیں اور ان کو عہد یادبھی آجاتے ہیں۔(از مرقات)بعض سانپوں کے سمجھنے کے واقعات مشہور ہیں۔
۳؎ سانپ کی طبعی عمر ایک ہزار سال ہوتی ہے،ہر سال اپنی کھال اتارتا ہے،اس کی آنکھ میں پتلی گردش نہیں کرتی،اس کے دانت توڑ دیئے جائیں تو پھر جلد ہی اگ جاتے ہیں،دم کاٹ دی جائے تو جلد ہی اگ آتی ہے، انسان سے بہت ڈرتا ہے،آگ سے خوش ہوتا ہے،دودھ بہت رغبت سے پیتا ہے،اگر ذبح کردیا جائے تو کئی دن تک زندہ رہتا ہے،جب اندھا ہوجائے تو سبزسونف جو درخت میں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع