30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ جزر کے معنی ہیں سمٹ جانا،اس کا مقابل ہے مَدّ،اسی سے ہے مد و جزر۔وہ جو حدیث شریف میں ہے حل میتتہ دریا کا مردار حلال ہے تو وہاں دریا کے مردار سے مراد وہ ہی ہے جس کی موت کا سبب دریا بنے نہ وہ جس کی موت کا سبب کوئی مرض و بیماری ہو۔ابھی جو حدیث گزری کہ دو مردار حلال ہیں یہ حدیث اس کی شرح ہے کہ دریا کا وہ مردار مراد ہے جو دریا کی وجہ سے مرے۔
۳؎ کوئی مضائقہ نہیں اس قسم کی حدیث موقوف بھی مرفوع کے حکم میں ہوتی ہے اور اس پر حدیث مرفوع کے احکام جاری ہوتے ہیں۔خیال رہے کہ امام شافعی صحابہ کرام کے اجتہادی مسائل میں ان کی پیروی نہیں کرتے،وہ فرماتے ہیں ھم رجال ونحن رجال وہ بھی مرد تھے ہم بھی مرد ہیں مگر امام ابوحنیفہ تقلید صحابہ کو لازم جانتے ہیں ان کے اجتہادی مسائل پرعمل ضروری جانتے ہیں۔(اشعہ)
|
4134 -[31] وَعَن سلمَان قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَرَادِ فَقَالَ: «أَكْثَرُ جُنُودِ اللَّهِ لَا آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدُ وَقَالَ محيي السّنة: ضَعِيف |
روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے ٹڈی کے متعلق پوچھا ۱؎ گیا تو فرمایا کہ اللہ کا بڑا لشکر ہے۲؎ میں نہ اسے کھاتا ہوں نہ اسے حرام کرتا ہوں۳؎(ابوداؤد)محی السنہ نے فرمایا کہ یہ حدیث ضعیف ہے۴؎ |
۱؎ کہ ان کے پیدا فرمانے میں کیا حکمت ہے اور ان کا کھانا حلال ہے یا حرام۔
۲؎ یعنی پرندوں میں سب سے بڑی جماعت ٹڈیوں کی ہے اور جب خدا تعالٰی کسی قوم پر غضب کرتا ہے تو اس پر ٹڈی کا عذاب بھیجتا ہے،یہ اس قوم کی کھیتی باڑی،درخت،پھل وغیرہ سب کچھ کھا جاتی ہیں اور اس پر قحط مسلط ہوجاتا ہے،ورنہ رب کی بڑی سے بڑی مخلوق فرشتے ہیں،حق تعالٰی ان کے متعلق فرماتاہے:"وَ مَا یَعْلَمُ جُنُوۡدَ رَبِّکَ اِلَّا ہُوَ"۔(مرقات)
۳؎ یعنی ٹڈی شرعًا حرام نہیں ہم خود اسے کھاتے نہیں طبعًا اس سے نفرت ہے۔شاید سائل کے سوال کا مقصد یہ تھا کہ حضور کھاتے ہیں یا نہیں اور ہم کھائیں یا نہیں،لہذا جواب بالکل مطابق ہوگیا کہ ہم نہیں کھاتے تم کھاؤ۔خیال رہے کہ ٹڈی کے حلال ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجتماع ہے۔
۴؎ یہ حدیث اسناد سے بھی ضعیف ہے اور معنی سے بھی،اسناد سے تو اس لیے کہ اس کے سارے راوی قوی و ثقہ نہیں،معنی سے اس لیے کہ بہت سی احادیث کے خلاف معلوم ہوتی ہے جن میں ٹڈی کی حلت صراحۃً مذکور ہے۔یہاں مرقات نے ٹڈی کے حلال ہونے کے متعلق بہت سی عجیب روایات بیان کیں۔چنانچہ فرمایا کہ حضرت مریم بنت عمران نے دعا کی تھی کہ مولٰی مجھے بغیرخون والا گوشت دے تو رب نے انہیں یہ ہی ٹڈی دی،آپ نے دعا کی کہ الٰہی اسے بغیر ماں کے دودھ کے زندہ رکھ اور بغیرکسی ہانکنے والے اور بغیر آواز کے ان میں تنظیم دے اور فرمایا کہ حضرت یحیی علیہ السلام عمومًا ٹڈی کھایا کرتے تھے اور فرمایا کہ حضور انورکی ازواج مطہرات ایک دوسری کو طباق بھرکر ٹڈیاں ہدیہ کرتی تھیں وغیرہ۔
|
4135 -[32] وَعَن زيدِ بن خالدٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سَبِّ الدِّيكِ وَقَالَ: «إِنَّهُ يُؤَذِّنُ للصَّلاةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت خالد ابن زید سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مرغ کو برا کہنے سے منع فرمایا ۱؎ اور فرمایا کہ یہ نماز کی اطلاع دیتا ہے ۲؎ (شرح سنہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع