30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4131 -[28] وَعَنْهُ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ فَأَتَتِ الْيَهُودُ فَشَكَوْا أَنَّ النَّاسَ قَدْ أَسْرَعُوا إِلَى خَضَائِرِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا لَا يَحِلُّ أَمْوَالُ المعاهِدينَ إِلاَّ بحقِّها» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ میں نے خیبر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا تو یہود آئے انہوں نے شکایت کی کہ لوگوں نے ان کی سرسبز کھجوروں کی طرف جلدی کی ۱؎ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا خبردار ذمہ والوں کے مال ناحق حلال نہیں۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ خضائر جمع ہے خضیرہ کی،خضیرہ اس کھجور کا نام ہے جس کے پھل ابھی کچے ہوں،ہرے ہوں، خضرۃ سے بنا بمعنی سبزی یعنی مسلمان ہمارے باغوں میں پہنچے اور انہوں نے ہمارے ہرے پھل توڑکر کھائے نہ ہم کو قیمت دی نہ ہم سے اجازت لی۔
۲؎ یعنی چونکہ یہودخیبر ہمارے ذمی بن چکے ہیں اور ذمی سے بجز جزیہ اور مستامن سے بجز ٹیکس تجارت اور مال لینا جائز نہیں لہذا تم خیبر کے یہود کے مال سے کچھ نہ لو۔حقہا سے وہ ہی حق مراد ہے جو عرض کیا گیا یعنی جزیہ یا جس مال پر ان سے صلح ہوجائے۔
|
4132 -[29] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُحِلَّتْ لَنَا مَيْتَتَانِ وَدَمَانِ: الْمَيْتَتَانِ: الْحُوتُ وَالْجَرَادُ وَالدَّمَانِ: الْكَبِدُ وَالطِّحَالُ ". رَوَاهُ أحمدُ وابنُ مَاجَه وَالدَّارَقُطْنِيّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہمارے لیے دو مردے اور دو خون حلال کیے گئے دو مردے تو مچھلی اور ٹڈی ہے ۱؎ اور دو خون کلیجی اورتلی ہے۲؎ (احمد،ابن ماجہ) |
۱؎ یعنی دونوں جانور بغیر ذبح حلال ہیں کیونکہ ان میں بہتا خون نہیں اور ذبح کرنا اسی کو اللہ کے نام پر نکال دینے کے لیے ہوتا ہے جب وہ چیزیں ان میں نہیں تو ان کا ذبح بھی نہیں۔خیال رہے کہ مچھلی بہت قسم کی ہے اور ہر قسم کی حلال ہے بغیر ذبح کھانا درست ہے،بعض مچھلیوں میں خون نکلتا معلوم ہوتا ہے مگر وہ خون نہیں ہوتا بلکہ سرخ پانی ہوتا ہے اس لیے دھوپ میں سفید ہو جاتا ہے خون کی طرح نہ سیاہ پڑتا ہے نہ جمتاہے۔ فقیر نے خود اس کا تجربہ کیا ہے،بہرحال مچھلی بغیر ذبح حلال ہے۔
۲؎ یعنی کلیجی و تلی جما ہوا خون ہے اور حلال ہے۔یہ دونوں چیزیں گوشت نہیں اس لیے جو گوشت نہ کھانے کی قسم کھالے پھر کلیجی یا تلی کھا لے تو حانث نہ ہوگا۔
|
4133 -[30] وَعَن أبي الزُّبيرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «مَا ألقاهُ البحرُ وجزر عَنْهُ الْمَاءُ فَكُلُوهُ وَمَا مَاتَ فِيهِ وَطَفَا فَلَا تَأْكُلُوهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ مُحْيِي السُّنَّةِ: الْأَكْثَرُونَ عَلَى أَنَّهُ مَوْقُوفٌ على جَابر |
روایت ہے حضرت ابو الزبیر سے ۱؎ وہ حضرت جابر سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جس کو دریا پھینک دے اور اس سے پانی ہٹ جائے تو اسے کھالو اور جو دریا میں مرجائے اور وہ تیر جائے تو اسے نہ کھاؤ ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ) اور محی السنہ نے فرمایا کہ اکثر محدثین اس پر ہیں کہ یہ حدیث حضرت جابر پرموقوف ہے۳؎ |
۱؎ آپ کا نام محمد ابن مسلم ہے،مکی ہیں،حصرت حکیم ابن حزام کے آزادکردہ غلام ہیں،مکہ معظمہ کے تابعین میں سے ہیں،حافظ ہیں،ثقہ ہیں،وسیع العلم ہیں،حضرت جابر،عائشہ صدیقہ،ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے ملاقات ہے مگر اکثر حضرت جابر سے روایت لیتے ہیں۔ ۱۲۵ھ ایک سو پچیس یا ایک سو اٹھائیس ہجری میں وفات پائی،آپ سے بہت محدثین نے روایات لیں۔ (مرقات،اشعہ)
۲؎ خلاصہ یہ ہے کہ جس مچھلی کی موت پانی نہ ملنے یا کم ملنے کی وجہ سے ہو تو وہ حلال ہے اور جس مچھلی کی موت بیماری کی وجہ سے ہو کہ پانی میں رہتے ہوئے مرجائے اور پانی پر تیر کر آجائے تو ممنوع ہے،یہ ہی حضرت امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے کہ طافی مچھلی مکروہ ہے،طافی اسی کو کہتے ہیں،امام شافعی و مالک رحمۃ اللہ علیہما اسے بلاکراہۃ جائز فرماتے ہیں،یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔خیال رہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع