30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۲؎ معلوم ہوا کہ بٹیر حلال ہے اس کا کھانا سنت ہے،نہایت سیدھا پرندہ ہے،عرب والے بے وقوف آدمی کو کہتے ہیں انت حباری تو تو نرا بٹیر ہے،حباری واحد بھی ہے جمع بھی ہے،مذکر بھی ہے مؤنث بھی اس کا الف اصلی ہے۔
|
4126 -[23] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ الْجَلَّالَةِ وَأَلْبَانِهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: قَالَ: نُهِيَ عَنْ ركوبِ الْجَلالَة |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جلالہ کے کھانے اور ان کے دودھوں سے منع فرمایا ۱؎ (ترمذی)اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ جلالہ کی سواری سے منع فرمایا۲؎ |
۱؎ جلالہ وہ گائے ہے جو بہت نجاست کھاتی ہےحتی کہ اس کے گوشت میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے،اس کا بدبودار گوشت،دودھ،کھانا،پینا مکروہ ہے۔اسے کچھ روز تک باندھ کر رکھا جائے جب اس کے جسم سے بو آنا بند ہو جائے تب ذبح کیا جائے۔امام مالک کے ہاں جلالہ کا گوشت بلاکراہۃ جائز ہے،وہ فرماتے ہیں کہ اس کا گوشت اچھی طرح دھولیا جائے،حضرت عبداللہ ابن عمر چھوٹی ہوئی مرغی کو تین دن باندھ کر رکھتے پھر ذبح فرماتے۔ جو جانور کبھی کبھی گندگی کھالے وہ جلالہ نہیں۔(مرقات)
۲؎ یہ ممانعت کراہت تنزیہی ہے کیونکہ جلالہ کا پسینہ بھی بدبودار ہوتا ہے،ممکن ہے کہ سوار کے کپڑے میں پسینہ لگے اور وہ بھی بدبودار ہوجائے۔
|
4127 -[24] وَعَن عبدِ الرَّحمنِ بنِ شِبْلٍ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ لَحْمِ الضَّبِّ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن شبلی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے گوہ کھانے سے منع فرمایا ۱؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یہ حدیث امام اعظم اقدس سرہٗ کی دلیل ہے کہ گوہ حرام ہے اس کی بحث پہلے گزر چکی ہے۔یہ حدیث ابن عساکر نے بروایت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کی۔
|
4128 -[25] وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ الْهِرَّةِ وَأَكْلِ ثَمَنِهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بلی کھانے سے اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا ۱؎ (ابوداؤد، ترمذی) |
۱؎ تمام آئمہ دین کا اس پر اتفاق ہے کہ بلی کھانا حرام ہے البتہ اس کی فروخت اور اسکی قیمت کے متعلق علماء کا اختلاف ہے،بعض کے نزدیک بلی کی قیمت بلاکراہت جائز ہے،بعض کے نزدیک مکروہ ہے،یہ حدیث مکروہ فرمانے والوں کی دلیل ہے اس کی بحث کتاب البیوع میں گزرچکی۔خیال رہے کہ بلی شکاری جانور بھی ہے اور کیل والی بھی لہذا اس قاعدے سے بھی حرام ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر کیل والے شکاری جانور کھانے سے منع فرمایا یہ حدیث ابن ماجہ اور حاکم نے بھی روایت کی۔
|
4129 -[26] وَعنهُ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ الْحُمُرَ الْإِنْسِيَّةَ وَلُحُومَ الْبِغَالِ وَكُلَّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلَّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيث غَرِيب |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر کے دن ۱؎ پالتوگدھے اور خچروں کے گوشت حرام فرمائے اور ہر کیل والے درندے اور ہر پنجہ والے پرندے حرام فرمائے۲؎ (ترمذی) اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۳؎ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع