30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱؎ فویسق تصغیر ہے فاسق بمعنی بدکارکی یعنی جیسے چوہا،چیل،کوّا،بچھو وغیرہ موذی جانوروں کو حل و حرم میں قتل کردینا جائز ہے بلکہ ثواب ہے چیل کوّا وغیرہ تو اس لیے فویسق ہیں کہ وہ اپنے نفع کے بغیر انسانوں کا نقصان کرتے ہیں اور یہ اس لیے فویسق ہے کہ دشمن خلیل ہے۔
|
4121 -[18] وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ قَتَلَ وَزَغًا فِي أولَّ ضَرْبَة كتبت لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَفِي الثَّانِيَةِ دُونَ ذَلِكَ وَفِي الثَّالِثَة دون ذَلِك» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ جو کوئی گرگٹ کو پہلی چوٹ میں مار دے تو اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دوسری چوٹ میں اس سے کم اور تیسری چوٹ میں اس سے کم ۱؎(مسلم) |
۱؎ اس فرمان عالی کا مقصد یہ ہے کہ گرگٹ کو جلد مار دینے کی رغبت دینا زور کی چوٹ لگانا کہ ایک ہی چوٹ میں لوٹ پوٹ ہوجائے ہلکی چوٹ میں ممکن ہے کہ بھاگ جائے۔احمد و ابن حبان نے بروایت حضرت ابن مسعود مرفوعًا نقل فرمایا کہ جو سانپ کو مارے اس کو سات نیکیاں ہیں اور جوگرگٹ کو مارے تو اسے ایک نیکی۔طبرانی نے بروایت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا مرفوعًا نقل فرمایا کہ جوگرگٹ کو ماردے اللہ تعالٰی اس کے سات گناہ معاف فرمائے گا۔(مرقات)بہرحال اس کا قتل ثواب ہے۔
|
4122 -[19] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَرَصَتْ نَمْلَةٌ نَبِيًّا من الأنبياءِ فأمرَ بقربةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ فَأَوْحَى اللَّهُ تَعَالَى إِلَيْهِ: أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَحْرَقْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ؟ " |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک چیونٹی نے نبیوں میں سے کسی نبی کو کاٹ لیا ۱؎ تو انہوں نے چیونٹیوں کی بستی جلانے کا حکم دیا جلادی گئی۲؎ تو اللہ تعالٰی نے انہیں وحی کی کہ آپ کو ایک چیونٹی نے کاٹا تھا اور آپ نے امتوں میں سے ایک امت کو جلادیا جو تسبیح پڑھتی ہے۳؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ وہ نبی موسیٰ علیہ السلام ہیں،بعض شارحین نے فرمایا وہ نبی داؤد علیہ السلام ہیں۔عربی میں نوچنے کو قرص کہتے ہیں اور کاٹ کھانے کو عض مگر یہاں قرص بمعنی عض ہے کہ چیونٹی کاٹتی ہے نوچتی نہیں۔(مرقات) خیال رہے کہ عض منہ سے کاٹ کھانے کو کہتے ہیں،چھری چاقو سے کاٹ ڈالنے کو قطع،پھاڑ دینے کو خرق، توڑ دینے کو کسر کہتے ہیں،یہ اصطلاحیں خیال میں رہنی چاہئیں۔فرق باریک ہے ڈسنے کو لدغ کہتے ہیں۔
۲؎ چیونٹیوں کی بستی سے مراد ان کے اجتماع کی جگہ ہے جہاں بہت چیونٹیاں رہتی ہیں،یہاں مرقات نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کیا تھا کہ مولیٰ تو کفار کی بستیوں پر عذاب بھیجتا ہے حالانکہ ان میں بعض مؤمنین بلکہ صالحین بھی ہوتے ہیں وہ کیوں تباہ کردیئے جاتے ہیں تب وہ ایک درخت کی جڑ میں گئے ٹھنڈی ہوا تھی سوگئے سوتے ہی ایک چیونٹی نے کاٹ لیا جس سے انکی نیند اچاٹ ہوگئی تب انہوں نے وہ چیونٹیوں کا کھڈ ہی جلوادیا یعنی رب تعالٰی نے خود ہی ان کے عمل شریف سے ان کو جواب سمجھادیا۔ (مرقات)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع