30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3180 -[21] وَرُوِيَ فِي «شَرْحِ السُّنَّةِ» : أَنَّ جَمَاعَةً مِنَ النِّسَاءِ رَدَّهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنِّكَاحِ الأول على أَزوَاجهنَّ عِنْد اجْتِمَاع الإسلاميين بَعْدَ اخْتِلَافِ الدِّينِ وَالدَّارِ مِنْهُنَّ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ مُغِيرَةَ كَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهَرَبَ زَوْجُهَا مِنَ الْإِسْلَامِ فَبعث النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ بِرِدَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانًا لِصَفْوَانَ فَلَمَّا قَدِمَ جَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْيِيرَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ حَتَّى أَسْلَمَ فَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ وَأَسْلَمَتْ أَمُّ حَكِيمٍ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ امْرَأَةُ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ يَوْمَ الْفَتْحِ بِمَكَّةَ وَهَرَبَ زَوْجُهَا مِنَ الْإِسْلَامِ حَتَّى قَدِمَ الْيَمَنَ فَارْتَحَلَتْ أَمُّ حَكِيمٍ حَتَّى قَدِمَتْ عَلَيْهِ الْيَمَنَ فَدَعَتْهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمَ فَثَبَتَا عَلَى نِكَاحِهِمَا. رَوَاهُ مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شهَاب مُرْسلا |
اور شرح سنہ میں روایت کی گئی کہ عورتوں کی ایک جماعت ہے جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے نکاح کی بنا پر ان کے خاوندوں پر واپس فرمایا، دونوں اسلاموں کے جمع ہونے کے وقت ۱؎ دین اور ملک علیحدہ ہونے کے باوجود۲؎ ان ہی سے ولید ابن مغیرہ کی بیٹی بھی ہے جو صفوان ابن امیہ کی زوجہ تھیں وہ فتح کے دن اسلام لائیں اور ان کے خاوند اسلام سے بھاگ گئے تو ان کے چچا زاد بھائی وہب ابن عمیر نے ان کے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر بطور امان صفوان کے لیے بھیجی ۳؎ پھر جب وہ آئے تو انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار ماہ کا دیس نکالا دیا۴؎ تاآنکہ وہ مسلمان ہوئے ۵؎ پھر ان کی بیوی ان کے پاس رہیں۶؎ اور ام حکیم بنت حارثہ ابن ہشام یعنی عکرمہ ابن ابوجہل کی بیوی فتح مکہ کے دن ایمان لے آئیں اور ان کے خاوند اسلام سے بھاگ گئے۷؎ حتی کہ یمن پہنچ گئے۸؎ ام حکیم چلیں تاآنکہ ان کے پاس یمن میں پہنچ گئیں پھر انہیں دعوت اسلام دی چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے اور یہ دونوں اپنے نکاح پر قائم رہے۹؎ (مالک عن ابن شہاب مرسلًا)۱۰؎ |
۱؎ یعنی جب خاوند عورت کی عدت گزرنے سے پہلے ہی مسلمان ہوجائے تو نکاح اول قائم رہے گا تجدید نکاح کی ضرورت نہ ہوگی۔
۲؎ یہ مذہب شافعی ہے کہ اختلاف ملک کے باوجود نکاح قائم رہے گا اور یہ جملہ ان کی دلیل ہے(مرقات)یہاں چار صورتیں ہیں:دو میں ہم و شافعی متفق ہیں دو میں مختلف:(۱)ایک یہ کہ کافر زوجین ہمارے ملک میں ذمی یا مستامن بن کر آئے اور دونوں ایک ساتھ مسلمان ہوگئے،بالاتفاق نکاح باقی،(۲)کافر زوجین میں سے ایک قید کرکے دارالاسلام میں لایا گیا بالاتفاق نکاح ختم ہوگیا،ہمارے ہاں ملک بدل جانے کی وجہ سے اور امام شافعی کے ہاں اسلامی قیدی ہونے کی وجہ سے(۳)ان دونوں میں سے ایک ہمارے ملک میں ذمی یا مستامن بن کرآیا پھر مسلمان ہوگیا ہمارے ہاں نکاح فسخ ہوگیا شوافع کے ہاں نہیں(۴)دونوں کافر زوجین قید کرکے دارالاسلام لائے گئے امام شافعی کے ہاں نکاح فسخ ہوگیا قیدی ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاں نہیں،جانبین کے دلائل شروع ہدایہ میں ملاحظہ کیجئے۔(مرقات)
۳؎ یعنی وہب ابن عمیر نے صفوان ابن امیہ کے لیے حضور سے امان لے لی اور اس امان کی اطلاع صفوان کے پاس بھیجی اور ثبوت کے لیے حضور کی چادر شریف قاصد کے ہمراہ کردی تاکہ صفوان قاصد کی تصدیق کرکے اپنے کو امان میں سمجھ لیں، اور مکہ معظمہ آجائیں یا حضور نے وہب ابن عمیر کو امان اور اپنی چادر دے کر صفوان کے پاس بھیجا اس صورت میں بردآئہ کافی تھا مگر بجائے ضمیر اظہار کردیا تاکہ معلوم ہو کہ چادر حضور کی تھی نہ کہ وہب کی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع