30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4117 -[14] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن ابْن عمر أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَطْمِسَانِ الْبَصَرَ وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَبَيْنَا أَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً أَقْتُلَهَا نَادَانِي أَبُو لُبَابَةَ: لَا تَقْتُلْهَا فَقُلْتُ:إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ.فَقَالَ: إِنَّهُ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ ذَوَات الْبيُوت وَهن العوامر |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ سانپوں کو مارو ۱؎ خصوصًا دو دھاری والے کو اور بنڈے کو ۲؎ کیونکہ وہ دونوں بینائی ختم کردیتے ہیں اور حمل گرادیتے ہیں۳؎ عبداللہ فرماتے ہیں۴؎ اس دوران میں کہ میں ایک سانپ پر حملہ کررہا تھا کہ اسے مار ڈالوں مجھے ابولبابہ نے پکارا کہ اسے نہ مارو تو میں نے کہا رسول اللہ نے سانپوں کے قتل کا حکم دیا ہے وہ بولے کہ اس کے بعد حضور انو رنے گھر والے سانپوں سے منع فرمایا یہ سانپ گھر والے ہیں۵؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی ہر قسم کے سانپ قتل کردو موٹے پتلے،کالےپیلے،گوبرے اور غیر گوبرے۔
۲؎ طفیہ بمعنی دہاری،یہ ایک قسم کا کالا سانپ ہے اس کے جسم پر دو سفید دھاریاں ہوتی ہیں،یہ خبیث ترین سانپ ہے۔بنڈا وہ سانپ جس کی دم موٹی اور چھوٹی ہوتی ہے،بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب سانپ کی عمر دو سو سال ہوجاتی ہے تو اس کی دم موٹی پڑجاتی ہے اور بہت ہی زہریلا ہوجاتا ہے۔والله اعلم! اللہ تعالٰی دونوں سے محفوظ رکھے۔
۳؎ یعنی اگر انسان کی نظر ان کی نظر سے مل جائے تو آدمی اندھا ہوجاتا ہے اور اگر حاملہ عورت کی نظر اس کی نظر سے لڑجائے تو اس کا حمل گرجاتا ہے یا خوف کی وجہ سے یا زہر کے اثر سے۔اللہ کی پناہ! یہاں مرقات نے لکھا ہے کہ ایک سانپ ناظر کہلاتا ہے وہ جس جاندار کو دیکھ لے وہ مرجاتا ہے،ہم نے سنا ہے کہ ایک سانپ کا یہ حال ہے کہ جس جاندار کو دیکھ لے وہ پانی ہوکر بہہ جاتا ہے۔اللہ کی پناہ!
۴؎ محدثین جب عبداللہ مطلقًا بولتے ہیں تو عبداللہ بن مسعود مراد لیتے ہیں مگر یہاں عبداللہ ابن عمر مراد ہیں کیونکہ ابھی ان کا نام شریف بھی گزرا۔(مرقات)
۵؎ یعنی جو سانپ گھروں میں رہتے ہیں بستے ہیں کسی کو تکلیف نہیں دیتے وہ جنات ہیں سانپ نہیں،یہ حکم یا تو مدینہ منورہ کے لیے ہے یا عام مکانوں کے لیے۔حضرت ابوہریرہ و ابن مسعود سے مرفوعًاروایت ہے کہ سانپ کو مارنا ایسا ثواب ہے جیسے غازی کا کافر کو قتل کرنا۔
|
4118 -[15] وَعَن أبي السَّائِب قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَبَيْنَمَا نحنُ جلوسٌ إِذ سمعنَا تَحت سَرِيره فَنَظَرْنَا فَإِذَا فِيهِ حَيَّةٌ فَوَثَبْتُ لِأَقْتُلَهَا وَأَبُو سَعِيدٍ يُصَلِّي فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنِ اجْلِسْ فَجَلَسْتُ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي الدَّارِ فَقَالَ: أَتَرَى هَذَا البيتَ؟ فَقلت: نعم فَقَالَ: كَانَ فِيهِ فَتًى مِنَّا حَدِيثُ عَهْدٍ بِعُرْسٍ قَالَ: فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ فَكَانَ ذَلِكَ الْفَتَى يَسْتَأْذِنُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنْصَافِ النَّهَارِ فَيَرْجِعُ إِلَى أَهْلِهِ فَاسْتَأْذَنَهُ يَوْمًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ قُرَيْظَةَ» . فَأَخَذَ الرَّجُلُ سِلَاحَهُ ثُمَّ رَجَعَ فَإِذَا امْرَأَتُهُ بَيْنَ الْبَابَيْنِ قَائِمَةٌ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ لِيَطْعَنَهَا بِهِ وَأَصَابَتْهُ غَيْرَةٌ فَقَالَتْ لَهُ: اكْفُفْ عَلَيْكَ رُمْحَكَ وَادْخُلِ الْبَيْتَ حَتَّى تَنْظُرَ مَا الَّذِي أَخْرَجَنِي فَدَخَلَ فَإِذَا بِحَيَّةٍ عَظِيمَةٍ مُنْطَوِيَةٍ عَلَى الْفِرَاشِ فَأَهْوَى إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَانْتَظَمَهَا بِهِ ثُمَّ خَرَجَ فَرَكَزَهُ فِي الدَّارِ فَاضْطَرَبَتْ عَلَيْهِ فَمَا يُدْرَى أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا: الْحَيَّةُ أَمِ الْفَتَى؟ قَالَ: فَجِئْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ وَقُلْنَا: ادْعُ اللَّهَ يُحْيِيهِ لَنَا فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ لِهَذِهِ الْبُيُوتِ عَوَامِرَ فَإِذَا رأيتُم مِنْهَا شَيْئا فحرِّجوا عَلَيْهَا ثَلَاثًا فإنْ ذَهَبَ وَإِلَّا فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّهُ كَافِرٌ» . وَقَالَ لَهُمْ: «اذْهَبُوا فَادْفِنُوا صَاحِبَكُمْ» وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «إِنَّ بالمدينةِ جِنَّاً قد أَسْلمُوا فَإِذا رأيتُم مِنْهُم شَيْئًا فَآذِنُوهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فَاقْتُلُوهُ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابو سائب سے ۱؎ فرماتے ہیں ہم ابو سعید خدری کے پاس گئے اس دوران میں کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ہم نے ان کے تخت کے نیچے حرکت سنی۲؎ تو ہم نے دیکھا وہاں سانپ تھا میں اسے قتل کرنے کے لیے کودا اور جناب ابو سعید نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے مجھے اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ ۳؎ میں بیٹھ گیا جب وہ فارغ ہوئے تو گھر کی ایک کوٹھڑی کی طرف اشارہ کیا فرمایا کیا تم اس کوٹھڑی کو دیکھتے ہو میں نے کہا ہاں فرمایا اس میں ہمارا ایک نو عروس جوان تھا۴؎ فرماتے ہیں کہ ہم سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خندق کی طرف گئے۵؎ تو وہ جوان دوپہریوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے اجازت لیا کرتا تھااور اپنے گھر لوٹ جاتا تھا۶؎ ایک دن اس نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے اجازت مانگی تو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اپنے ہتھیار لیتے جاؤ کیونکہ میں تمہارے متعلق قریظہ سے ڈرتا ہوں۷؎ چنانچہ اس شخص نے اپنے ہتھیار لے لیے پھر چلا گیا اچانک اس کی بیوی دروازہ میں کھڑی تھی۸؎ اس نے بیوی کی طرف نیزے کا اشارہ کیا تاکہ اسے مار دے اسے غیرت آگئی۹؎ وہ بولی کہ اپنا نیزہ روک رکھو گھر میں جاؤ تاکہ خود دیکھ لو کہ مجھے کس چیز نے نکالا ہے۱۰؎ چنانچہ وہ گیا تو ایک بڑا سانپ بستر پر کنڈلی مارے ہے(لہرارہا ہے)۱۱؎ وہ اس سانپ کی طرف نیزہ لےکر جھکا اسے نیزہ میں پرولیا ۱۲؎ پھر نکلا پھر گھر میں چبھولیا تو سانپ نے تڑپ کر اس پر حملہ کیا۱۳؎ پھر خبر نہیں کہ ان دونوں میں جلدی کون مرا سانپ یا جوان۱۴؎ راوی فرماتے ہیں کہ پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ عرض کیا اور ہم نے عرض کیا۱۵؎ کہ اللہ سے دعا فرمادیں کہ اسے ہمارے لیے زندہ فرمادے ۱۶؎ فرمایا اپنے ساتھی کے لیے دعا بخشش کرو۱۷؎ پھر فرمایا کہ ان گھروں میں کچھ جنات رہنے والے ہیں۱۸؎ جب تم ان میں سے کچھ دیکھ لو تو ان پر تین دن تنگی کرو پھر اگر وہ چلا جائے تو خیر ورنہ اسے مار دو کہ وہ کافر ہے۱۹؎ اور فرمایا کہ جاؤ اپنے ساتھی کو دفن کردو ۲۰؎ اور ایک رویت میں ہے کہ مدینہ میں کچھ جن ہیں جو مسلمان ہوچکے ہیں ۲۱؎ تو جب ان میں سے کچھ دیکھو تو اسے تین دن تک خبردار کرو اگر وہ پھر اس کے بعد ظاہر ہو تو اسے مار دو کہ وہ شیطان ہے۲۲؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع