30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رہے کہ پہلے گھوڑا وحشی جانور تھا،حضرت اسمعیل علیہ السلام نے سب سے پہلے اس پر سواری کی جب سے یہ جانور پالتو ہوا۔(مرقات و اشعہ)بہرحال گھوڑے کے متعلق مذہب امام اعظم میں احتیاط ہے اور باقی مذاہب میں گنجائش۔خیال رہے کہ صحابہ کرام میں سواء حضرت ابن عباس کے کوئی صحابی گدھے کی حلت کے قائل نہیں۔
|
4108 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أبي قتادةَ أَنَّهُ رَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَعَقَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ؟» قَالَ: مَعَنَا رِجْلُهُ فَأَخَذَهَا فَأَكَلَهَا |
روایت ہے حضرت ابوقتادہ سے کہ انہوں نے وحشی گدھے کو دیکھا تو اسے ہلاک کردیا ۱؎ تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کیا اس کا کچھ گوشت تمہارے پاس ہے،عرض کیا ہمارے پاس اس کا پاؤں ہے حضور نے قبول فرمایا اور کھایا۲؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ یعنی اس کا شکار کرلیا۔وحشی گدھا یعنی نیل گائے بالاتفاق حلال ہے ہر جگہ شکار کیا جاتا ہے اور کھایا جاتا ہے گھوڑے کی طرح ہوتا ہے یوں ہی جنگلوں میں پایاجاتاہے۔
۲؎ حضرت ابوقتادہ نے تو پوچھا تھا کہ کیا یہ حلال ہے حضور انورنے جواب عطا فرمایا کہ اسے کھا کر دکھادیا،یہ جواب قوی جواب سے زیادہ قوی ہے۔
|
4109 -[6] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أنس قَالَ: أَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَأَخَذْتُهَا فَأَتَيْتُ بهَا أَبَا طلحةَ فذبحها وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بوَرِكِها وفخذْيها فقبِله |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم نے مرالظہران میں ۱؎ ایک خرگوش کو بھڑکایا تو میں نے اسے پکڑ لیا تو میں اسے ابوطلحہ کے پاس لایا انہوں نے ذبح کیا ۲؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس اس کا چوتڑ اور دونوں ران بھیجی تو حضور نے اسے قبول فرمالیا۔(مسلم،بخاری) |
۱؎ مرالظہران حرمین شریفین کے درمیان مکہ معظمہ کے قریب ایک بستی ہے وہاں انہوں نے خرگوش زندہ پکڑ لیا،حضرت ابوطلحہ نے ذبح کیا،حضرت ابوطلحہ حضرت انس کے سوتیلے والد ہیں۔
۲؎ معلوم ہوا کہ خرگوش حلال ہے یہ ہی اکثر اہل اسلام کا عقیدہ ہے،بعض لوگوں نے اس کو مکروہ کہا ہے اس لیے کہ اس کی مادہ کو حیض آتا ہے۔(مرقات)
|
4110 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الضَّبُّ لَسْتُ آكُلُهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ» |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ گوہ کو نہ تو میں کھاتا ہوں نہ اسے حرام کرتا ہوں ۱؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ یہ حدیث ان حضرات کی دلیل ہے جوگوہ کو حلال کہتے ہیں جیسے امام شافعی و احمد،ہمارے یہاں ممنوع ہے ہماری دلیل دوسری فصل میں آرہی ہے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے گوہ کھانے سے منع فرمایا یہ حدیث یا تو منسوخ ہے یا تعارض کی وجہ سے مرجوح ہے۔ اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ نرگوہ کے دو ذکر ہوتے ہیں اور اس کی مادہ کی دو فرجیں،کبھی پانی نہیں پیتا،چالیس دن میں ایک بوند پیشاب کرتا ہے،بیک وقت ستر انڈے دیتا ہے،اس کی عمر سات سو برس تک ہوتی ہے،گوہ نے ہی حضور کی گواہی بزبان فصیح دی تھی۔(اشعہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع