30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اولًا دو قیراط کی کمی کا قانون تھا پھر احکام نرم ہونے پر ایک قیراط کی کمی رہ گئی،غرضیکہ یہ حدیث گزشتہ دو قیراط والی حدیث کے خلاف نہیں۔(مرقات)مگر اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ اقتناء اور ہے اتخاذ کچھ اور،اقتناء میں دو قیراط کم ہوں گے اتخاذ میں ایک قیراط،محبت سے کتا پالنا اسے اپنے ساتھ بٹھانا ساتھ کھلانا اقتناء ہے مگر اسے پالنا اس سے محبت نہ کرنا اس سے علیٰحدہ رہنا اتخاذ ہے لہذا احادیث متعارض نہیں۔
|
4100 -[3] وَعَن جَابر قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ حَتَّى إِنَّ الْمَرْأَةَ تَقْدَمُ منَ البادِيةِ بكلبِها فتقتلَه ثُمَّ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِهَا وَقَالَ: «عَلَيْكُمْ بِالْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ ذِي النقطتين فَإِنَّهُ شَيْطَان» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کتے ہلاک کردینے کا حکم دیا ۱؎حتی کہ ایک عورت دیہات سے اپنا کتا ساتھ لاتی تو ہم اسے قتل کردیتے تھے۲؎ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے قتل سے منع فرمادیا اور فرمایا کہ تم کالےبھجنگے دو داغ والے کو قتل کرو۳؎ کہ وہ شیطان ہے۴؎(مسلم) |
۱؎ عام کتے یا خاص کتے مدینہ منورہ کے مار ڈالنے کا حکم دیا کیونکہ مدینہ منورہ نزول وحی کی جگہ ہے وہاں ایسی گندی چیز کی موجودگی اچھی نہیں۔
۲؎ عورت کا ذکر اتفاقی ہے کہ اکثر عرب عورتیں ہی کتے ساتھ رکھتی تھیں۔مطلب یہ ہے کہ جو باہر کا کتا مدینہ منورہ میں آجاتا ہم اس کو بھی نہ چھوڑتے تھے،اس کی مالکہ کے بغیر اذن ہی اسے مار دیتے تھے۔معلوم ہوا کہ ناجائز کتا،سؤر،شراب،جوئے کا سامان وغیرہ یوں ہی طبلہ،سارنگی وغیرہ ناجائز و حرام گانےکے آلات مالک کے بغیر اجازت بھی ضائع کیے جاسکتے ہیں اس میں ضائع کرنے والے پر تاوان نہیں،یہ حدیث بہت سے احکام کی ماخذ ہے۔
۳؎ اسود کالا اور بہیم خاص کالا جس میں اور کوئی رنگ نہ ہو،ذوالنقطتین وہ کتا یا سانپ جس کی آنکھوں کے اوپر دو داغ ہوں یہ زیادہ خطرناک ہوتا ہے اور ڈراؤنا بھی،اس قسم کا سانپ تو بہت ہی خطرناک ہے،کتا دیوانہ ہوکر سانپ سے زیادہ خطرناک ہوجاتا ہے کہ دیوانے کتے کا کاٹا ہوا اگر کسی کو کاٹ لے تو وہ بھی ویسا ہی ہوجاتا ہے اور دیوانے کتے کا کاٹا خود دیوانہ ہوکر بڑی مصیبت سے بہت عرصہ میں مرتا ہے،کتے کی طرح خود بھونکتا ہے۔
۴؎ یعنی ایسا کتا نقصان و ضرر میں شیطان کی طرح ہے۔مرقات نے فرمایا کہ اسلام میں پہلے تمام کتوں کے قتل کا حکم دیا گیا پھر صرف کالے آنکھوں پر داغ والے کتے کے قتل کا حکم رہا،تمام کتوں کے قتل کا حکم منسوخ ہوا،اب حکم یہ ہے کہ بے ضرر کتوں کے قتل کا حکم منسوخ ہے خواہ کالے ہوں یا کچھ اور ضرر والے خصوصًا دیوانے کتے کا قتل ضروری ہے اور بلاضرورت کتا پالنا منع ہے۔
|
4101 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ إِلَّا كَلْبَ صيدٍ أَو كلب غنم أَو مَاشِيَة |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے شکار کے کتے اور بکریوں کے کتے اور جانوروں کے کتے کے سوا باقی سب کتوں کے مارنے کا حکم دیا ۱؎(مسلم) |
۱؎ اس کے متعلق مسئلہ ابھی عرض کیا گیا کہ کتوں کے قتل کا عمومی وجوب منسوخ ہے،ایک شرط کے ماتحت حکم استحبابی باقی ہے،مضر اور دیوانہ کتوں کا قتل اب بھی واجب ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع