30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۸؎ یعنی مرغی،بکری وغیرہ اپنے قبضہ کاجانور ہے باندھ کر اسے تیرمارا جائے اس طرح وہ مرجائے ہے یہ حرام ہے۔اگر اس زخمی کو ذبح کرلیا جائے تو گوشت حلال ہے مگر یہ کام حرام ہے۔
۹؎ یعنی اگر مرغی کو بلی یا بکری کو بھیڑیا یا چیتا وغیرہ جانور پکڑے لوگ اس کے منہ سے چھڑالیں ذبح نہ کرسکیں وہ زخم کی وجہ سے مرجائے وہ خلیہ ہے اور حرام ہے۔خلیہ بنا ہے خلس سے بمعنی اچک لین،چھین لینا،اس سے ہے اختلاس۔
|
4090 -[27] وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ شَرِيطَةِ الشَّيْطَانِ. زَادَ ابْنُ عِيسَى: هِيَ الذَّبِيحَةُ يُقْطَعُ مِنْهَا الْجِلْدُ وَلَا تُفْرَى الْأَوْدَاجُ ثُمَّ تُتْرَكُ حَتَّى تَمُوتَ.رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے اور ابو ہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےشیطان کے کونچھے ہوئے سے منع فرمایا ۱؎ ابن عیسیٰ نے یہ زیادہ فرمایا کو وہ ایسا ذبیحہ ہے جس کی کھال کاٹ دی جائے اور رگیں نہ کاٹی جائیں پھر چھوڑدیاجائے حتی کہ مرجائے۲؎(ابوداود) |
۱؎ شریطہ بنا ہے شرط الحجام سے یعنی فصد کھولنے والے کا نشتر مارنا،کھال چیر کر خون نکالنا۔جو شخص جانور کی صرف کھال کاٹ دے حلقوم اور رگیں نہ کاٹے وہ گویا حجام کا سانشترمارتا ہے،چونکہ ایسا ذبح شیطانی تعلیم سے ہے جو کفار میں رائج تھا اس لئے اسے شریطہ شیطان کہاگیا یعنی شیطان کاسکھایا ہوا نشتر۔
۲؎ اس حرکت سے جانور کو سخت تکلیف بھی ہوتی ہے کہ جان بہت دیر میں اور مشکل سے نکلتی ہے اور اس کاکھانا بھی حرام ہوجاتاہے۔لاتفری بنا ہے فری سے بمعنی کاٹنا۔اصطلاح میں فساد کے لیے کاٹنے کو فری کہاجاتاہے اور اوداج جمع ہے ودج کی،ودج حلقوم کے آس پاس کی رگیں جن کا کاٹنا ذبح کے لئے ضروری ہے۔
|
4091 -[28] وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي 4092 -[29] وَرَوَاهُ التِّرْمِذِيّ عَن أبي سعيد |
روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پیٹ کے بچہ کاذبح اس کی ماں کا ذبح ہے ۱؎ (ابوداود،دارمی)
اور ترمذی نے حضرت ابو سعید سے روایت کی۔ |
۱؎ یعنی اگر بکری یاگائے ذبح کی گئی اس کے پیٹ میں بچہ مردہ نکلا وہ حلال ہے کہ ماں کی ذبح سے وہ بھی ذبح مانا جائے گا۔خیال رہے کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں ایسا بچہ مطلقًا حلال ہےخواہ اس کے جسم پر بال جمع ہوں یا فقط گوشت کا لوتھڑا ہو۔امام مالک کےہاں اگر بچہ پورا بن چکا ہے حتی کہ اس کے جسم پربال بھی اگ گئے ہیں توحلال ہے،ورنہ حرام۔ ہمارے امام اعظم قدس سرہ کے نزدیک اگر بچہ زندہ نکلا اور اسےذبح کرلیاگیا تو حلال ہے ورنہ حرام۔یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے،بعض نے فرمایا کہ اگر بچہ زندہ نکلا پھر مرگیا توبھی حلال ہے،بعض نے فرمایا کہ ایسا بچہ حرام ہے،امام صاحب فرماتے ہیں کہ اوّلًا تو یہ حدیث صحیح نہیں اگر صحیح ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ پیٹ کے بچہ کا اس کی ماں کی ذبح کی طرح ہے یعنی جیسے اس کی ماں کو حلقوم و رگوں کوکاٹ کر ذبح کیاجاتا ہے ایسے ہی اس کے بچہ کو ذبح کیاجائے گا۔اور زکوۃ امہ میں زکوۃ منصوب ہے کاف جارہ پوشیدہ ہے یہ منصوب نزع الخافض ہےکیونکہ ایسا شکار اگر پانی میں ڈوبا پایا جائے توکھانا حرام ہے کہ شاید پانی سے مراہو،یوں ہی اس مردہ بچہ میں شبہ ہے کہ وہ دم گھٹنے کی وجہ سے مراہو،امام شافعی کی دلیل یہ حدیث جب نہیں جبکہ عبارت یوں ہوتی زکوٰۃ الحیوان زکوٰۃ الجنین۔لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے نہ کہ امام شافعی کی۔(مرقات،اشعہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع