30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3176 -[17] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ غيلَان بن سَلمَة الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ أَرْبَعًا وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ غیلان ابن سلمہ ثقفی اسلام لائے ۱؎ ان کے زمانہ جاہلیت میں دس بیویاں تھیں وہ بھی انکے ساتھ اسلام لائیں ۲؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار کو رکھ لو باقی کو علیحدہ کردو ۳؎ (احمد،ترمذی، ابن ماجہ) |
۱؎ آپ فتح طائف کے بعد اسلام لائے بنی ثقیف کے بڑے معزز آدمی تھے عہد فاروقی میں وفات ہوئی۔
۲؎ زمانہ جاہلیت میں عورتوں کی تعداد مقرر نہ تھی جتنی سے چاہو نکاح کرلو اورا پنے ساتھ رکھو اس قاعدے سے آپ کے نکاح میں دس بیویاں تھیں۔
۳؎اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ کفار کے نکاح درست ہیں کہ اگر وہ دونوں زوجین ایمان لے آئیں تو اب تجدید نکاح کی ضرورت نہیں،رب تعالٰی نے ابی لہب کی بیوی جمیلہ کو اس کی زوجہ مانا کہ فرمایا:"وَامْرَاَتُہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ"۔ دوسرے یہ کہ کفار زمانہ کفر کے نکاح پر قائم رکھے جائیں گے اگرچہ انکے نکاح اسلامی قاعدے پر نہ ہوئے ہوں،ہاں اگر کسی کافر کے نکاح میں محرم عورت ہوئی تو اسے علیحدہ کرادیا جائے گا۔تیسرے یہ کہ چار سے زیادہ بیویاں اگر ہوں تو بعد اسلام چار ہی رکھنا ہوں گی اور اس میں خاوند کو اختیار ہوگا جنہیں چاہے رکھے،چوتھے یہ کہ اس علیحدگی میں شرعی طلاق کی ضرورت نہیں خاوند کا صرف علیحدہ کردینا ہی کافی ہوگا۔خیال رہے کہ چار کی پابندی بیویوں کے متعلق ہے لونڈیاں جتنی چاہے رکھے۔
|
3177 -[18] وَعَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُعَاوِيَةَ قَالَ: أَسْلَمْتُ وَتَحْتِي خَمْسُ نِسْوَةٍ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «فَارِقْ وَاحِدَةً وَأَمْسِكْ أَرْبَعًا» فَعَمَدْتُ إِلَى أَقْدَمِهِنَّ صُحْبَةً عِنْدِي: عَاقِرٍ مُنْذُ سِتِّينَ سنة ففارقتها. رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے حضرت نوفل ابن معاویہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں اسلام لایا حالانکہ میرے قبضہ میں پانچ بیویاں تھیں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو فرمایا ایک کو جدا کردو اور چار کو رکھ لو ۲؎ چنانچہ میں نے ان میں سے اپنی پرانی صحبت والی جو ساٹھ سالہ بانجھ تھی ۳؎ ادھر توجہ کی اور اسے جدا کردیا(شرح سنہ) |
۱؎ آپ دیلمی ہیں،صحابی ہیں فتح مکہ سے پہلے اسلام لائے اور فتح مکہ میں شریک ہوئے اسلام سے پہلے ساٹھ سال کفر میں گزارے بعد اسلام ساٹھ یا سو سال اور جیئے، یزید ابن معاویہ کے زمانہ میں وفات پائی۔(اشعہ و مرقات)
۲؎ یعنی اب بعد اسلام تم کو صرف چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے لہذا ان میں سے ایک کو علیحدہ کردو معلوم ہوا کہ کفار اگر چار سے زیادہ بیویاں رکھیں تو ان کو ہم منع نہ کریں گے اور ان سب سے جو اولاد ہوگی حلال ہوگی چار کی پابندی صرف مسلمان پر ہے۔
۳؎ عاقر صفت یا بدل ہے اقدم کا مطلب یہ ہے کہ ان پانچ میں ایک عورت میرے پاس ساٹھ سالہ بانجھ اور بوڑھی تھی میں نے اس کو علیحدہ کردیا بقیہ عورتیں عمر میں بھی اس سے کم تھیں اوربانجھ بھی نہ تھیں انہیں رکھ لیا۔
|
3178 -[19] وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ فَيْرُوزٍ الدَّيْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَسْلَمْتُ وتحتي أختَان قَالَ: «اختر أيتها شِئْتَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ |
روایت ہے حضرت ضحاک ابن فیروز دیلمی سے وہ اپنے والد سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میں مسلمان ہوگیا ہوں اور میری زوجیت میں دو بہنیں ہیں فرمایا ان دونوں میں سے جس کو چاہو اختیار کرلو ۲؎ (ترمذی،ابو داؤد، ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع