30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4081 -[18] عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أَحَدُنَا أَصَابَ صَيْدًا وَلَيْسَ مَعَهُ سِكِّينٌ أَيَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا؟ فَقَالَ: «أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَ شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ |
روایت ہے حضرت عدی ابن حاتم سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فرمایئے کہ ہم میں سے کوئی شکار پائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا پتھر سے یا لاٹھی کی پھاڑی سے ذبح کردے ۱؎ تو فرمایا جس چیز سے چاہو خون بہادو ۲؎ اور اﷲ کا نام لے دو۔(ابوداؤد،نسائی) |
۱؎ مروہ سفید پتھر کو کہتے ہیں اس لیے ایک پہاڑ مکہ کا نام بھی مروہ ہے"اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللہِ"پتھر سے مراد پتھر کا وہ ٹکڑا ہے جو دھار دار ہو،یوں ہی لاٹھی کے ٹکڑے سے مراد بانس کی دھاردار کھپچ ہے جس سے ذبح کیا جاسکتا ہے۔
۲؎ امربنا ہے امراء سے بمعنی گزارنا اور بہانا یہاں بمعنی بہانا ہے،بعض نسخوں میں امر ر کے کسرہ سے ہے۔چونکہ خون بہہ کر اپنی جگہ سے گزرتا ہے اس لیے بہانے کو امراء کہہ دیتے ہیں بم شئت میں ما کا الف گرادیا گیا ہے۔
|
4082 -[19] وَعَن أبي العُشَراءِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا فِي الْحَلْقِ وَاللَّبَّةِ؟ فَقَالَ: «لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَهَذِهِ ذَكَاةُ الْمُتَرَدِّي وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا فِي الضَّرُورَة |
روایت ہے حضرت ابو العشراء سے وہ اپنے والد سے ۱؎ راوی کہ انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ذبح حلق اور سینہ کے بغیر ہی نہیں ہوتا ۲؎ تو فرمایا اگر تم اس کی ران میں نیزہ مارو تو کافی ہے۳؎(ترمذی، ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)ابوداؤد نے فرمایا کہ یہ گرے ہوئے کاذبح ہے ۴؎ اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ ضرورت کی حالت میں ہے ۵؎ |
۱؎ ابوالعشراء عین کے پیش سے،ان کا نام اسامہ ابن مالک ہے،تابعی ہیں،دارمی بصری ہیں،اپنے والد سے روایت کرتے ہیں،بعض محدثین نے ان کو ضعیف کہا ہے،چنانچہ ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے اور امام احمد ابن حنبل نے ان کو ضعیف فرمایا۔(اشعہ)
۲؎ لبہ حلق کا آخری کنارہ جو سینہ سے متصل ہے یا سینہ کے اوپری کنارہ جو حلقوم سے قریب ہے۔سوال کا مقصد یہ ہے کہ کیا ذبح کی یہ ہی صورت ہے کہ گلے اور سینے کے درمیان ہو،اگر یہ ہی ذبح ہے تو جو جانور قبضہ میں نہ ہو اور مر رہا ہوکیسے کیاجائے جیسے کنوئیں میں گری ہوئی بکری۔
۳؎ یہ اضطراری ذبح کا ذکر ہے جب جانور قبضہ میں نہ ہو اور اس کا ذبح کرنا ضروری ہو تو جہاں کہیں نیزہ بھالا مار دیا جائے اور خون بہہ جائے ذبح ہوجائے گا جیسے بھاگی ہوئی گائے،کنوئیں میں گرا ہوا جانور اور تیر سے مارا ہوا شکار۔
۴؎ یعنی کنوئیں میں گرا ہوا جانور جب اس کے نکالنے کی کوئی صورت نہ ہو اور اس کے مرجانے کا اندیشہ ہو تب اس طرح ذبح کرلیا جائے۔
۵؎ یہ تفسیر پہلی تفسیر سے زیادہ عام اور زیادہ شامل ہے،اس میں کئی صورتیں داخل ہیں جو ابھی ہم نے حاشیہ نمبر۲ میں بیان کیں جسے ذبح اضطراری کہتے ہیں۔
|
4083 -[20] وَعَن عدي بن حَاتِم أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا عَلَّمْتَ مِنْ كَلْبٍ أَوْ بَازٍ ثُمَّ أَرْسَلْتَهُ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكَ عَلَيْكَ» . قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ؟ قَالَ: «إِذَا قَتَلَهُ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَمْسَكَهُ عَلَيْكَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عدی ابن حاتم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جس کتے یا باز کو تم سکھا لو پھر اسے چھوڑو اور اﷲ کا نام ذکر کردو تو اس میں سے کھاؤ ۱؎ جو اس نے تمہارے لیے روک رکھا ہے میں نے عرض کیا کہ اگرچہ وہ قتل کردے فرمایا اگرچہ قتل کردے ۲؎ اور اس میں سے کچھ نہ کھائے کیونکہ اس نے تمہارے واسطے روکا ہے۳؎(ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع