دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

4074 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ تُصْبَرَ بهيمةٌ أَو غيرُها للْقَتْل

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ حضور جانور وغیرہ کو قتل کرنے لئے باندھنے سے منع فرماتے تھے  ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ اس طرح کہ جو جانور اپنے قبضہ میں ہو اسے باندھ دیا جائے اور اس پر تیر کا نشانہ لگایا جائے اور شکار کی طرح اسے مارا جائے یا یہ مطلب کہ ذبح سے کئی دن پہلے اسے بھوکا پیاسا باندھ کر رکھا جائے پھر کمزور ہوجانے پر اسے ذبح کیا جائے۔

4075 -[12] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ مَنِ اتَّخَذَ شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس پر لعنت کی جو ایسی چیز کو نشانہ بنائے جس میں روح ہو ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ اس کا مطلب بھی وہی ہے کہ جانور کو باندھ کر اسے تیر کا نشانہ بنایا جائے یہ حرام ہے کہ اس میں اگر وہ مرگیا تو جانور حرام ہوگیا نہ مرا اور ذبح کیا گیا تو اسے بلاوجہ ڈبل تکلیف دی گئی بہرحال مطلب واضح ہے۔

4076 -[13]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن عباس کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ کسی ایسی چیز کو نشانہ نہ بناؤ جس میں جان ہے ۱؎(مسلم)

۱؎  اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا  ورنہ شکار تو حلال ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔

4077 -[14]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّرْبِ فِي الْوَجْهِ وَعَنِ الْوَسْمِ فِي الْوَجْه. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے چہرے میں مارنے چہرے میں داغ لگانے سے منع فرمایا ۱؎(مسلم)

۱؎ انسان یا جانور کے چہرے پر مارنا سخت منع ہے منہ پر نہ طمانچہ مارے نہ کوڑا وغیرہ کیونکہ چہرے میں نازک اعضاء ہیں جیسے آنکھ،ناک،کان جن پر چوٹ لگنے سے موت یا اندھے ہوجانے یا چہرہ بگڑ جانے کا خطرہ ہے اور چہرے میں داغ لگانا تو بہت ہی برا ہے کہ اس میں تکلیف بھی بہت ہے اور منہ کا بگاڑ دینا۔  

4078 -[15]

وَعَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَيْهِ حِمَارٌ وَقَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الَّذِي وَسَمَهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے ان ہی سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک گدھا گزرا جس کے چہرے میں داغ لگایا گیا تھاتو فرمایا کہ اللہ اس پر لعنت کرے جس نے اسے داغا ۱؎ (مسلم)

۱؎ اگر یہ گدھا کسی کافر یا منافق کا تھا اور اس نے ہی یہ حرکت کی تھی تب تو لعنت کے معنی بالکل ظاہر ہیں اور اگر کسی مسلمان کا تھا تو لعنت بالوصف گنہگار مسلمان پر جائز ہے جیسے کہا جائے کہ جھوٹے پر لعنت۔خیال رہے کہ چہرے میں داغ لگانا مطلقًا حرام ہے خواہ جانور کے لگائے یا انسان کے۔چہرے کے علاوہ جانوروں کو داغنا علامت و پہچان کے لیے جائز ہے خصوصًا زکوۃ وجزیہ کے جانور۔انسان کے داغ لگانا علاج کے لیے جائز ہے جیسے بعض بیماریوں کا علاج داغ دینا ہی ہوتا ہے،علاج کے علاوہ ممنوع۔حضرت ابی ابن کعب،سعد ابن معاذ،حضرت جابر اور اسعد ابن زرارہ وغیرہم صحابہ کرام نے بعض زخموں میں داغ لگائے ہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن