30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4072 -[9] وَعَن كعبِ بنِ مَالك أَنه كانَ لَهُ غَنَمٌ تُرْعَى بِسَلْعٍ فَأَبْصَرَتْ جَارِيَةٌ لَنَا بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا مَوْتًا فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأمره بأكلها. رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہےحضرت کعب ابن مالک سے ۱؎ کہ ان کی ایک بکری تھی سلع میں چرتی تھی ۲؎ تو ہماری ایک لونڈی نے ایک بکری کو مرتے دیکھا تو اس نے ایک پتھر توڑا اس سے اسے ذبح کردیا ۳؎ تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو حضور نے اس کے کھانے کی اجازت دی ۴؎ (بخاری) |
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،انصاری ہیں،آپ ہی غزوہ تبوک سے رہ گئے تھے،آپ ہی کے متعلق سورۂ توبہ کی مشہور آیات نازل ہوئیں۔
۲؎ سلع مدینہ منورہ میں غربی جانب مشہور پہاڑ ہے جس پر غار واقع ہے لوگ ا س کی زیارت کرتے ہیں۔فقیر نے بھی بار ہا اس کی زیارت کی ہے۔
۳؎ یعنی ایک بکری ریوڑ میں اچانک مرنے لگی تو چرانے والی لونڈی نے ایک پتھر لمبائی میں توڑا جس سے اس میں دھاردار کنارہ پیدا ہوگیا،اس دھار کی طرف سے اسے ذبح کردیا کیونکہ چھری موجود نہ تھی۔
۴؎ یعنی بکری حلال ہوگئی اس کا کھانا جائز ہے۔معلوم ہوا جس دھاردار چیز سے ذبح کردیا جائے ذبح ہوجاتا ہے چھری یا چاقو تو شرط نہیں۔
|
4073 -[10] وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت شداد ابن اوس سے ۱؎ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اﷲ تعالٰی نے ہر چیز پر احسان کرنے کا حکم دیا ہے ۲؎ لہذا جب تم قتل کرو تو احسان و بھلائی سے قتل کرو ۳؎ اور جب تم ذبح کرو تو ذبح بھلائی سے کرو ۴؎ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری تیز کرلیا کرے اور اپنے ذبیحہ کو راحت دے ۵؎(مسلم) |
۱؎ آپ حضرت حسان ابن ثابت کے بھتیجے ہیں کیونکہ اوس اور حسان دونوں ثابت کے بیٹے ہیں،خود بھی صحابی ہیں اور آپ کے والد یعنی ثابت ابن منذر بھی صحابی ہیں،حضرت ابوالدرداء اور عبادہ ابن صامت فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے شداد ابن اوس کو علم و حلم دونوں عطا فرمائے۔(اشعۃ اللمعات)
۲؎ یعنی انسان ہو یا جانور مؤمن ہو یا کافر سب کے ساتھ اس کے مناسب بھلائی و سلوک کرنا لازم ہے۔ظلم کسی پر جائز نہیں،یہ ہے حضور کے رحمۃ اللعالمین ہونے کی شان۔
۳؎ یعنی اگر تم قاتل یا کافر کو قصاص یا جنگ میں قتل کرو تو ان کے اعضاء نہ کاٹو مثلہ نہ کرو پتھر کی چھری اور کھٹل تلوار سے ذبح نہ کرو کہ یہ رحم کے خلاف ہے۔
۴؎ اس بھلائی کی کئی صورتیں ہیں: مثلًا جانور کو ذبح سے پہلے خوب کھلا پلا لیا جائے ایک کے سامنے دوسرے کو ذبح نہ کیا جائے اس کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے،ماں کے سامنے بچے کو اور بچے کے سامنے ماں کو ذبح نہ کیا جائے،مذبح کی طرف گھسیٹ کر نہ لے جایا جائے اور جان نکل جانے سے پہلے اس کی کھال نہ اتاری جائے کہ یہ تمام باتیں ظلم و زیادتی ہیں۔
۵؎ تیز چھری سے ذبح کردینے میں راحت ہے،کھنڈی چھری سے ذبح کرنے میں بہت تکلیف ہوتی ہے اس سے بچے،پوری گردن نہ کاٹ دے صرف حلقوم اور رگیں کاٹے۔
|
4074 -[11] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ تُصْبَرَ بهيمةٌ أَو غيرُها للْقَتْل |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ حضور جانور وغیرہ کو قتل کرنے لئے باندھنے سے منع فرماتے تھے ۱؎ (مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع