30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مکروہ تنزیہی ہے اور اگر مضر صحت ہو تو مکروہ تحریمی ہے۔(ثنائی،مرقات)مگر سڑی چربی جو بودے رہی ہو اگر پکاکر کھائی جائے جس سے اس کی بو اور ضرر دونوں جاتے رہیں تو جائز ہے۔
|
4068 -[5] وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الَّذِي يُدْرِكُ صَيْدَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ: «فكله مَا لم ينتن» . رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب تم اپنا تیر مارو پھر شکار تم سے غائب ہو جائے پھر تم اسے پالو تو جب تک بو نہ دے کھالو ۱؎(مسلم) |
۱؎ تین دن کی قید اتفاقی ہے۔اگر موسم گرما ہو اور ایک دو دن میں ہی بو پیدا ہوجائے تو نہ کھائے اور اگر سخت سردی کا موسم ہو کہ چار دن میں بھی بو پیدا نہ ہو تو کھالیا جائے۔
|
4069 -[6] وَعَن عَائِشَة قَالَت: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هُنَا أَقْوَامًا حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِشِرْكٍ يَأْتُونَنَا بِلُحْمَانٍ لَا نَدْرِي أَيَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا أَمْ لَا؟ قَالَ: «اذْكُرُوا أَنْتُم اسمَ اللَّهِ وكلوا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ یہاں کچھ ایسی قومیں ہیں جن کا زمانہ شرک کے قریب میں ۱؎ ہے وہ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں ہم جانتے نہیں کہ اس پر اللہ کانام لیتے ہیں یا نہیں فرمایا تم بسم الله کرو اور کھاؤ ۲؎ (بخاری) |
۱؎ یعنی وہ لوگ مسلمان تو ہوگئے ہیں مگر انہیں مسلمان ہوئے تھوڑا عرصہ ہی ہوا ہے،اسلامی احکام سے بے خبر ہیں،ذبح وغیرہ کے احکام نہ جانتے ہوں گے ان کے متعلق شک ہی ہے کہ انہوں نے بسم اﷲ سے ذبح کیا ہے یا بغیر بسم اﷲ یوں ہی۔
۲؎ یعنی تم بلاوجہ مسلمان کے ذبیحہ پر شک نہ کرو وہ حلال ہے تم بلا دغدغہ بسم اﷲ کرکے کھاؤ۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگر بوقت ذبح بسم اﷲ نہ پڑھی گئی تو اب کھاتے وقت بسم اﷲ پڑھنا کافی ہوگا یہ تو ناممکن ہے لہذا یہ حدیث واضح ہے۔
|
4070 -[7] وَعَن أبي الطُّفَيْل قَالَ: سُئِلَ عَليّ: هَلْ خَصَّكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ فَقَالَ: مَا خَصَّنَا بِشَيْءٍ لَمْ يَعُمَّ بِهِ النَّاسَ إِلَّا مَا فِي قِرَابِ سَيْفِي هَذَا فَأَخْرَجَ صَحِيفَةً فِيهَا: «لَعَنَ اللَّهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللَّهِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ سَرَقَ مَنَارَ الْأَرْضِ وَفِي رِوَايَةٍ مَنْ غَيَّرَ مَنَارَ الْأَرْضِ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ لَعَنَ وَالِدَهُ وَلَعَنَ اللَّهُ مَنْ آوَى مُحْدِثًا» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ |
روایت ہے حضرت ابوطفیل سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت علی سے پوچھا گیا کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کسی چیز سے خاص کیا ہے فرمایا۲؎ ہم کو حضور نے کوئی خاص چیز نہ دی جو عام لوگوں کو نہ دی ہو۳؎ سوائے اس کے جو میری اس تلوار کے پرتلے میں ہے۴؎ چنانچہ آپ نے ایک کتابچہ نکالا جس میں تھا کہ اللہ اس پر لعنت کرے جو غیر خدا کے نام پر ذبح کرے ۵؎ اور اﷲ اس پر لعنت کرے جو زمین کے نشان چرائے،ایک روایت یوں ہے کہ جو زمین کے نشان بدلے ۶؎ اور اپنے باپ پر لعنت کرے ۷؎ اور اﷲ اس پر لعنت کرے جو بدعتی کو جگہ دے ۸؎(مسلم) |
۱؎ آپ کا نام عامر ابن واثلہ ہے،لیثی کنانی ہیں،اپنی کنیت میں مشہور ہیں،حضور کی وفات سے آٹھ سال پہلے ایمان لائے،حضور کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے، ۱۰۲ھ ایک سو دو میں مکہ معظمہ میں وفات پائی،روئے زمین پر آخری صحابی آپ ہی ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع