30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھر ان دونوں نے شکار کیا تو شکار حلا ل ہے۔(دیکھو کتب فقہ اور مرقات)اگر شرائط میں سے کسی شرط کاعلم نہ ہو تب بھی شکار حرام ہے بہرحال اس میں بہت پابندی ہے۔(اشعہ)
۶؎ تیر سے مراد ہر دھاردار یا نوکیلا ہتھیار ہے جو جسم کو دھار سے کاٹ سکے لہذا اگر شکاری جانور پر تلوار یا چاقو پھینک کر مارا اور وہ دھار یا نوک کی طرف سے لگا تو بھی حلال ہے لیکن غلہ یا گولی کا مارا ہوا حرام ہے تاوقتیکہ ذبح نہ کیا جائے۔
۷؎ یعنی اگر تمہارا دل گواہی دے کہ یہ تمہارے تیر سے ہی مرا ہے تو کھاسکتے ہو اگر دل نہ چاہے اس میں شبہ ہو کہ شاید کسی اور وجہ سے مرا ہوگا تو نہ کھاؤ۔(مرقات)
۸؎ کیونکہ اب شبہ ہے کہ شاید یہ ڈوب کر مرا ہو مشکوک چیز سے پرہیز کرو۔
|
4065 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُرْسِلُ الْكِلَابَ الْمُعَلَّمَةَ قَالَ:«كُلْ مَا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ» قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلْنَ؟ قَالَ:«وَإِنْ قَتَلْنَ» قُلْتُ: إِنَّا نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ. قَالَ: «كُلُّ مَا خزق وَمَا أصَاب بعرضه فَقتله فَإِنَّهُ وقيذ فَلَا تَأْكُل» |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم اپنے سکھائے ہوئے کتے چھوڑتے ہیں ۱؎ فرمایا جو تم پر روک لیں وہ کھالو میں نے کہا اگرچہ قتل کردیں فرمایا اگرچہ قتل کر دیں ۲؎ میں نے کہا ہم تیر سے مارتے ہیں۳؎ فرمایا جو پھاڑ دے وہ کھالو اور جو چوڑائی میں لگے پھر قتل کردے تو وہ موقوذہ ہے وہ نہ کھاؤ ۴؎(مسلم،بخاری) |
۱؎ کلب معلم(شکاری)وہ کتا ہے جو مالک کے چھوڑنے پر دوڑ جائے واپسی کے اشارہ پر واپس آجائے اور شکار میں کچھ نہ کھائے۔جب تین بار اس کا تجربہ کرلیا جائے تو وہ معلم ہے اگر وہ جانور کو زخمی کردے اور جانور مرجائے تو حلا ل ہے اگر بغیر زخم کے مرگیا تو حرام ہے۔
۲؎ بشرطیکہ جانور اس کے دانت سے زخمی ہو خون بہا ہو۔
۳؎ معراض وہ بھاری تیر ہے جس میں نہ پر ہو نہ نوک والا لوہا،لکڑی نوکیلی ہو۔
۴؎ یعنی وہ تیر وسط کے لحاظ سے لاٹھی ہے کنارہ کے لحاظ سے تیر ہے لہذا اگر نوک کی طرف سے لگے تو حلال ہے اگر لاٹھی کی طرح بیچ سے لگے جس کے بوجھ سے شکار مرجائے تو وہ لاٹھی سے مارا ہوا ہے۔
|
4066 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ) وَعَن أبي ثَعْلَبَة الْخُشَنِي قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ قوم أهل كتاب أَفَنَأْكَلُ فِي آنِيَتِهِمْ وَبِأَرْضِ صَيْدٍ أَصِيدُ بِقَوْسِي وَبِكَلْبِي الَّذِي لَيْسَ بِمُعَلَّمٍ وَبِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ فَمَا يصلح؟ قَالَ: «أما ذَكَرْتَ مِنْ آنِيَةِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَإِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَلَا تَأْكُلُوا فِيهَا وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فاغسلوها وَكُلُوا فِيهَا وَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَكُلْ وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ غَيْرِ معلم فأدركت ذَكَاته فَكل» |
روایت ہے حضرت ابو ثعلبہ خشنی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا نبی اللہ ہم اہل کتاب کی زمین میں رہتے ہیں تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھاسکتے ہیں ۲؎ اور ہم شکار کی زمین ہی میں ہیں اپنی کمان اور اپنے سکھائے ہوئے کتے سے اور بغیر سکھائے کتے سے شکار کرتا ہوں تو کیا چیز درست ہے ۳؎ فرمایا جو تم نے کتابیوں کے برتنوں کے متعلق پوچھا تو اگر تم اس کے سوا اور برتن پاؤ تو اس میں نہ کھاؤ اور اور اگر نہ پاؤ تو اسے دھولو اور اس میں کھاؤ ۴؎ اور جو تم اپنی کمان سے شکار کرو اس پر اللہ کا نام لیا ہو توکھاؤ ۵؎ اور جوتم اپنے سکھائے ہوئے کتے سے شکار کرو اس پر اللہ کا نام لو تو کھالو اور جو اپنے غیر سکھائے ہوئے کتے سے شکارکرو تو اس کی ذبح کو پالو تو کھالو۶؎(مسلم،بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع