30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
3174 -[15] وَعَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرِّضَاعِ؟ فَقَالَ: " غُرَّةٌ: عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ |
روایت ہے حضرت حجاج ابن حجاج اسلمی سے وہ اپنے باپ سےراوی ۱؎ انہوں نے عرض کیا یارسول اﷲ کون چیز مجھ کو شیر خوارگی کا حق ادا کراسکتی ہے ۲؎ فرمایا غلام یا لونڈی کی پیشانی ۳؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی،دارمی) |
۱؎ یہ حجاج اسلمی صحابی ہیں انکے بیٹے حجاج ابن حجاج تابعی ہیں یہ تابعی ۱۳۱ھ میں مروان حمار کے زمانہ میں وفات پائی،یہ وہ حجاج ظالم نہیں کہ وہ حجاج ثقفی ہے دیکھو۔(اشعہ ومرقات)
۲؎ مذمہ وذمام فتح وکسرہ سے بمعنی حق و حرمت و احترام یعنی جس کے ضائع کرنے والے کی ذمہ و برائی کی جائے۔مطلب یہ ہے کہ وہ کون سی خدمت اپنی دودھ کی ماں کی کروں جس سے اس کے دودھ کا حق ادا ہو معلوم ہوا کہ دودھ کی اجرت دے دینے سے اس کا حق ادا نہیں ہوجاتا۔
۳؎ یعنی اپنی دائی کو اعلیٰ درجہ کی لونڈی یا غلام دے دو جو اس کی خدمت کرے،خدمت کا بدلہ خدمت ہے اور دائی خود کسی کی لونڈی ہو یا اس کا خاوند کسی کا غلام ہو تو اسے خرید کر آزاد کردو پھر بھی اس کا احترام و خدمت بچہ پر لازم ہے۔
|
3175 -[16] وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ الْغَنَوِيِّ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَقْبَلَتِ امْرَأَةٌ فَبَسَطَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِدَاءَهُ حَتَّى قَعَدَتْ عَلَيْهِ فَلَمَّا ذَهَبَتْ قِيلَ هَذِهِ أَرْضَعَتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت ابو طفیل غنوی سے ۱؎ فرماتے ہیں میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بی بی صاحبہ آئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر بچھادی حتی کہ وہ اس پر بیٹھ گئیں ۲؎ توپھر جب وہ چلی گئیں تو کہا گیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا ہے ۳؎ (ابوداؤد) |
۱؎ آپ کا نام عامر ابن واثلہ ہے، لیثی، کتانی ہیں،کنیت ابوطفیل آٹھ سال حضور علیہ السلام کی خدمت میں رہے ۱۰۲ھ میں مکہ معظمہ میں انتقال فرمایا،روئے زمین پر آپ ہی آخری صحابی ہیں جن کی وفات پر صحابیت ختم ہوئی(مرقات)حضرت علی کے ساتھ ان کی تمام جنگوں میں رہے۔
۲؎ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ دونوں عمل اظہار احترام و اظہار مسرت کے لیے تھے۔معلوم ہوا کہ قیام تعظیمی جائز ہے اور انسان خواہ کتنا ہی عظمت والا ہو مگر اپنے مربی کا احترام کرے۔دیکھو یہ وہ آستانہ ہے جہاں جبریل امین خادمانہ شان سے حاضر دیتے ہیں مگر ان بی بی صاحبہ کے لیے چادر بچھائی گئی۔اس میں ہم لوگوں کو تعلیم ہے کہ جب دودھ پلانے والی دائی کا یہ ادب و احترام ہے تو سگی ماں کا ادب و احترام کیسا چاہیے۔
۳؎ یہ واقعہ خاص جنگ حنین کے دن کا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم اس جنگ سے فارغ ہوئے تھے جماعت صحابہ میں تشریف فرما تھے کہ بی بی حلیمہ سعدیہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا تشریف لائیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے کھڑے ہوگئے اور جو چادر شریف اوڑھے ہوئے تھے ان کے لیے بچھادی جب تک آپ تشریف فرما رہیں کسی اور سے کلام نہ فرمایا ان ہی کی طرف متوجہ رہے جب آپ واپس ہوئیں تو بہت ہدایا تحفے عطا فرمائے اور انہیں کچھ دور مشایعت کے طور پر پہنچانے تشریف لے گئے پھر خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یا کسی اور صحابی نے حاضرین سے فرمایا کہ یہ حضور کی دائی جناب حلیمہ ہیں جنہوں نے حضور کو دودھ پلایا ہے یہ پورا واقعہ مواہب الدنیہ میں مطالعہ فرمایئے کچھ مرقات نے بھی یہاں ہی بیان فرمایا آج کے نوجوان یہ حدیثیں پڑھیں اور عبرت حاصل کریں کہ ہم لوگ سگی ماں کا بھی ادب نہیں کرتے۔
|
3176 -[17] وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ غيلَان بن سَلمَة الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَلَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَسْلَمْنَ مَعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمْسِكْ أَرْبَعًا وَفَارِقْ سَائِرَهُنَّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ غیلان ابن سلمہ ثقفی اسلام لائے ۱؎ ان کے زمانہ جاہلیت میں دس بیویاں تھیں وہ بھی انکے ساتھ اسلام لائیں ۲؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چار کو رکھ لو باقی کو علیحدہ کردو ۳؎ (احمد،ترمذی، ابن ماجہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع