دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

4061 -[7]

وَعَنْهُ قَالَ: قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ: (إِنَّما الصَّدَقاتُ للفقراءِ والمساكينِ)حَتَّى بَلَغَ (عَلِيمٌ حَكِيمٌ)فَقَالَ : هَذِهِ لِهَؤُلَاءِ. ثُمَّ قَرَأَ (وَاعْلَمُوا أَنَّ مَا غَنِمْتُمْ مِنْ شيءٍ فإنَّ للَّهِ خُمُسَه وللرَّسولِ)حَتَّى بلغَ (وابنِ السَّبِيلِ)ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ لِهَؤُلَاءِ. ثُمَّ قَرَأَ (مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقرى) حَتَّى بلغَ (للفقراءِ)ثمَّ قرأَ (والذينَ جاؤوا منْ بعدِهِم)ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ اسْتَوْعَبَتِ الْمُسْلِمِينَ عَامَّةً فَلَئِنْ عِشْتُ فَلَيَأْتِيَنَّ الرَّاعِيَ وَهُوَ بِسَرْوِ حِمْيَرَ نَصِيبُهُ مِنْهَا لَمْ يَعْرَقْ فِيهَا جَبِينُهُ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے یہ آیت تلاوت کی کہ صدقے فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں حتی کہ علیم حکیم تک پہنچے پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے لیے ہیں ۱؎  پھر تلاوت کی جان لو جو چیز تم غنیمت لو اس کا پانچواں حصہ اللہ رسول کا ہے حتی کہ پہنچے ابن سبیل تک پھر فرمایا یہ ان لوگوں کے لیے ہے ۲؎ پھر تلاوت کی جو بستی والے اللہ اور اپنے رسول پر فئ کریں حتی کہ للفقراء تک پہنچے  ۳؎ پھر تلاوت کی وہ جو آئے ان کے بعد پھر فرمایا کہ اس آیت نے سارے مسلمانوں کو گھیرلیا ۴؎ اگر میں زندہ رہا تو چرواہا آئے گا جوبسر اور حمیر کا ہوگا ۵؎ اس کاحصہ بھی اس سے ہوگا کہ جس میں اس کی پیشانی پسینہ والی نہ ہوئی ۶؎ (شرح سنہ)

۱؎ یعنی زکوۃ کے مصرف وہ آٹھ ہیں جو اس آیت کریمہ میں مذکور ہیں:فقراء،مساکین،عاملین،مؤلفۃ القلوب، گردنیں چھوڑانا، مقروض،مسافر فی سبیل اللہ یعنی مجاہدین۔

۲؎ یعنی اب مال غنیمت کا خمس ان چارمصرفوں پر صرف ہوگا ذی قربی،یتیم،مساکین،مسافر یہ خمس کے اہل ہیں۔

۳؎  یعنی فئ جو کہ کفار کا مال ان سے بغیر لڑے بھڑے مل جائے وہ اللہ رسول کا ہے،اسے ان پانچ مقامات پر خرچ کیا جائے جو اس آیت میں مذکور ہیں:اﷲ رسول،ذی قربیٰ،یتیم،مسکین،مسافر،اس کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھو۔

۴؎  یعنی اﷲ تعالٰی نے فئ کی تقسیم کے بیان میں"وَالَّذِیۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ"فرماکر تا قیامت مسلمانوں کو شامل فرمالیا۔جس سے معلوم ہوا کہ فئ کو ایسے کاموں پرخرچ کیا جائے گا جس سے تمام مسلمان ان کی آئندہ نسلیں فائدہ اٹھاتی رہیں جیسے غازیوں، علماء،قاضیوں،پل کی تعمیروں پر بخلاف پچھلی دو آیتوں کے کہ زکوۃ کے مصارف اور غنیمت کے مصرف خاص لوگ قرار دیئے گئے۔

۵؎ بسر اور حمیر یمن کی دو بستیاں ہیں،بسریمن کا ایک گاؤں ہے اور حمیر وہاں کا مشہور شہر ہے،یہ بستیاں مدینہ منورہ سے کافی فاصلہ پر ہیں اس لیے بطور مثال ان کا نام لیا یعنی دوردراز ملکوں کے مسلمانوں کا بھی فئ میں حصہ ہے۔

۶؎  یعنی وہ دوردراز ملکوں کے مسلمان جنہوں نے کبھی جہاد نہ کیے وہ بھی اس فئ کے حصہ دار ہیں۔خیال رہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تقسیم فئ میں برابر کے قائل تھے کہ سب کو برابر حصہ دیا جائے۔مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرق مراتب کے لحاظ سے تقسیم میں فرق کرنے کے قائل تھے یہ تھا ان کا اجتہادی اختلاف۔چنانچہ حضرت عمر عطا فئ میں جناب عائشہ کو اپنی بیٹی حفصہ پر ترجیح دیتے تھے، فرماتے تھے کہ اگرچہ یہ دونوں حضور کی زوجہ ہیں مگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا محبوبہ زوجہ ہیں اور حفصہ کے والد یعنی میں حضور کو اتنے پیارے نہ تھے جتنے عائشہ رضی اللہ عنھا کے والد حضرت ابوبکر حضور کو پیارے تھے۔(مرقات)حضرت عبداﷲ ابن عمر رضی اللہ عنھما کو ایک بار فئ کا حصہ حضرت اسامہ ابن زید سے کم دیا تو حضرت عبداﷲ نے عرض کیا کہ میں اور اسامہ ہجرت میں یکساں ہیں پھر آپ نے عطا میں فرق کیوں فرمایا تو آپ نے جواب دیا کہ اسامہ کے باپ زید حضور کو زیادہ پیارے تھے تمہارے باپ عمر سے اور اسامہ رضی اللہ عنہ حضور کو زیادہ پیارے تھے تم سے۔(مرقات)بہرحال حضرت فاروق اعظم تقسیم فئ میں فرق کے قائل تھے۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ مساوات کے قائل ہیں،وہ فئ کو میراث اور غنیمت پر قیاس کرتے ہیں کہ میراث عالم و جاہل بیٹے کو برابر ملتی ہے یوں ہی غنیمت کا مال افضل و ادنی مجاہد کو برابر ملتا ہے۔(مرقات)

4062 -[8]

وَعنهُ قَالَ: كانَ فِيمَا احتجَّ فيهِ عُمَرُ أَنْ قَالَ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ صَفَايَا بَنُو النَّضِيرِ وخيبرُ وفَدَكُ فَأَمَّا بَنُو النَّضِيرِ فَكَانَتْ حَبْسًا لِنَوَائِبِهِ وَأَمَّا فَدَكُ فَكَانَتْ حَبْسًا لِأَبْنَاءِ السَّبِيلِ وَأَمَّا خَيْبَرُ فَجَزَّأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ أَجزَاء: جزأين بينَ المسلمينَ وجزءً نَفَقَةً لِأَهْلِهِ فَمَا فَضُلَ عَنْ نَفَقَةِ أَهْلِهِ جَعَلَهُ بَيْنَ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ جن سے حضرت عمر نے دلیل پکڑی ان میں یہ تھا کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی تین چیزیں پسند کی ہوئی تھیں ۱؎  بنی نضیر،خیبر اور فدک ۲؎  تو بنی نضیر یہ تو آپ کی حاجات کے لیے مخصوص تھا۳؎ لیکن فدک تو وہ مسافروں کے لیے مخصوص موقوف تھا ۴؎ لیکن خیبر تو اسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تین حصوں پر تقسیم فرمادیا ۵؎ دو حصوں کو مسلمانوں کے درمیان اور ایک حصہ اپنے گھر والوں کا خرچہ پھر اپنے گھر کے خرچ سے جو بچا اسے فقراء مہاجرین کے درمیان تقسیم کردیا ۶؎(ابوداؤد)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن