30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4060 -[6] وَعَن مالكِ بن أوسِ بن الحدَثانِ قَالَ: ذكر عمر بن الْخطاب يَوْمًا الْفَيْءَ فَقَالَ: مَا أَنَا أَحَقُّ بِهَذَا الْفَيْءِ مِنْكُمْ وَمَا أَحَدٌ مِنَّا بِأَحَقَّ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا أَنَّا عَلَى مَنَازِلِنَا مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَقَسْمِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالرَّجُلُ وَقِدَمُهُ وَالرَّجُلُ وَبَلَاؤُهُ وَالرَّجُلُ وَعِيَالُهُ وَالرَّجُلُ وَحَاجَتُهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حضرت مالک بن اوس حدثان سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے ایک دن فئ کا ذکر فرمایا تو فرمایا کہ اس فئ کا نہ تو میں تم سے زیادہ حقدار ہوں ۱؎ نہ ہم میں سے کوئی اس کا زیادہ حق دار ہے ۲؎ مگر ہم میں سے ہر ایک کتاب اللہ سے اپنے درجہ پر ہے حضور کی تقسیم پر لہذا مرد کو دیا جائے گا اس کے قدیم الاسلام ہونے پر ۳؎ اور مرد اس کی مشقت پر ۴؎ اور مرد اس کے با ل بچوں پر اور مرد اس کی ضروریات پر ۵؎ (ابوداؤد) |
۱؎ یعنی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اس مال فئ کے حقدار تھے کہ حضور اس سے اپنا خرچ وصول فرماتے تھے پھر جہاں چاہتے خرچ کرتے میرا یہ حال نہیں ہے میں صرف مسلمانوں کی فلاح وبہبود پر ہی خرچ کروں گا۔معلوم ہوا کہ سلطان اسلام اور خلیفۃ المسلمین مال فئ کے نہ مالک ہیں نہ مستحق،نہ ان کا اس میں کچھ حصہ مقرر ہے وہ صرف قومی کاموں میں خرچ کریں۔
۲؎ یعنی ہم مسلمانوں سے یا ہمارے گھر والوں میں سے کوئی اس فئ کا زیادہ حقدار نہیں۔سبحان اﷲ! کس قدر صاف اور انصاف والا کلام ہے۔
۳؎ قدم قاف کے کسرہ سے بھی ہوسکتا ہے بمعنی پرانا ہونا اور ق کے فتح سے بھی بمعنی ثابت قدم ہونا دین پر یعنی اب فئ کی تقسیم میں انسان کا قدیم الاسلام ہونا یا دین پر ثابت قدم ہونا دیکھاجائے گا کہ ہر ایسے مؤمن اور ثابت قدم مؤمن کو فئ سے ضرور دیا جائے گا۔واؤیا عاطفہ ہے یا بمعنی مع اگر عاطفہ ہو تو قدم کو پیش ہوگا اور اگر بمعنی مع ہو تو فتح ہوگا اس طرح وبلاءہ و وعیالہ کی ترکیب ہے ۔
۴؎ یعنی فئ کی تقسیم میں مسلمان کی صبر یا شجاعت کا لحاظ ہوگا۔بلاؤ کے معنی مصیبت بھی ہے اور شجاعت بھی یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں۔یعنی جن مسلمانوں نے جہادوں میں شجاعتیں دکھائی ہیں ان کو دوسروں پر مقدم رکھا جائے گا،جن مسلمانوں نے کفار کے ہاتھوں مصیبتیں زیادہ جھیلی ہوں ان کو زیادہ مقدم رکھا جائے گاغرضیکہ دینی درجہ والے کو فوقیت دی جائے گی۔
۵؎ ان دونوں میں دنیاوی وجہ استحقاق کا بیان ہے یعنی حاجتمند مسلمان کو یوں ہی بال بچوں والے مؤمن کو،دوسرے غیر حاجتمند اور چھڑے اکیلے پر مقدم رکھا جائے گا۔خیال رہے کہ یہ چیزیں نفس استحقاق میں فرق کا باعث نہیں بلکہ درجے مرتبہ اور زیادتی حصہ میں فرق کا باعث ہیں۔آپ معلوم کرچکے ہیں اہل و عیال والے کو دو حصہ عطا ہوئے اوراکیلے چھڑے آدمی کو ایک حصہ۔یہ فرق یا تو رب تعالٰی کی طرف سے ہےکہ رب نے فرمایا:"وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ" یاحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف سے۔(مرقات)اس حدیث سے بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے قائل تھے کہ فئ میں سے خمس نہیں لیا جائے گا،یہی احناف کا قول ہے۔
|
4061 -[7] وَعَنْهُ قَالَ: قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنهُ: (إِنَّما الصَّدَقاتُ للفقراءِ والمساكينِ)حَتَّى بَلَغَ (عَلِيمٌ حَكِيمٌ)فَقَالَ : هَذِهِ لِهَؤُلَاءِ. ثُمَّ قَرَأَ (وَاعْلَمُوا أَنَّ مَا غَنِمْتُمْ مِنْ شيءٍ فإنَّ للَّهِ خُمُسَه وللرَّسولِ)حَتَّى بلغَ (وابنِ السَّبِيلِ)ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ لِهَؤُلَاءِ. ثُمَّ قَرَأَ (مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقرى) حَتَّى بلغَ (للفقراءِ)ثمَّ قرأَ (والذينَ جاؤوا منْ بعدِهِم)ثُمَّ قَالَ: هَذِهِ اسْتَوْعَبَتِ الْمُسْلِمِينَ عَامَّةً فَلَئِنْ عِشْتُ فَلَيَأْتِيَنَّ الرَّاعِيَ وَهُوَ بِسَرْوِ حِمْيَرَ نَصِيبُهُ مِنْهَا لَمْ يَعْرَقْ فِيهَا جَبِينُهُ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ابن خطاب نے یہ آیت تلاوت کی کہ صدقے فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہیں حتی کہ علیم حکیم تک پہنچے پھر فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے لیے ہیں ۱؎ پھر تلاوت کی جان لو جو چیز تم غنیمت لو اس کا پانچواں حصہ اللہ رسول کا ہے حتی کہ پہنچے ابن سبیل تک پھر فرمایا یہ ان لوگوں کے لیے ہے ۲؎ پھر تلاوت کی جو بستی والے اللہ اور اپنے رسول پر فئ کریں حتی کہ للفقراء تک پہنچے ۳؎ پھر تلاوت کی وہ جو آئے ان کے بعد پھر فرمایا کہ اس آیت نے سارے مسلمانوں کو گھیرلیا ۴؎ اگر میں زندہ رہا تو چرواہا آئے گا جوبسر اور حمیر کا ہوگا ۵؎ اس کاحصہ بھی اس سے ہوگا کہ جس میں اس کی پیشانی پسینہ والی نہ ہوئی ۶؎ (شرح سنہ) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع