30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کر ذکر کرنا حرام نہیں اور یہ کہنا کہ ہم اللہ رسول کے ہیں دنیا و آخرت اللہ و رسول کی ہے شرک نہیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم تملیک الٰہی سے اللہ کی ہر چیز کے مالک ہیں۔شعر
خالق کل نے آپ کو مالک کل بنادیا دونوں جہاں ہیں آپ کے قبضہ و اختیار میں
۵؎ تاکہ زمین مدینہ تمہارے وجود نامسعود سے پاک ہوجائے اور یہاں صرف اسلام ہی رہے،ان یہود کی وجہ سے دن رات فتنے رہتے تھے،احزاب جیسی تکلیف مسلمانوں کو انہی یہود مدینہ کی وجہ سے پہنچی،ہمیشہ سلطنتیں اپنے ملک سے غداروں فتنہ گروں کو نکالتی ہیں، جرمنی کے ہٹلر نے یہودیوں کو جرمن سے نکالا تھا،اب بھی خاص مجرموں کو کالا پانی دیا جاتا ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہود مدینہ بنی نضیر کو نکالنا حکم الٰہی سے تھا،چونکہ آپ خلیفۃ اللہ ہیں لہذا فرماتے ہیں کہ میں تم کو جلا وطن کرنا چاہتا ہوں۔
۶؎ بمالہ کی ب بمعنی عن ہے یعنی ہم تم کو ضبط مال کی سزا نہیں دیتے تم منقول مال ساتھ لے جاؤ اور غیر منقول مال فروخت کر کے قیمت حاصل کرلو۔خیال رہے کہ مدینہ منورہ میں یہود کے دو قبیلے آباد تھے بنی قریظہ اور بنی نضیر۔جب انہوں نے مسلمانوں کو مکمل مٹا دینے کی کوشش کی جس کی وجہ سے احزاب کا واقعہ پیش آیا تب حضور انو رنے بنی قریظہ کو تو قتل کرادیا اور بنی نضیر کو جلا وطن فرمادیا یہ گفتگو بنی نضیر سے ہے،یہ واقعہ ۴ھ میں ہوا اور قتل بنی قریظہ ۵ھ میں ہوا اور حضر ابوہریرہ ۷ھ میں ایمان لائے۔اس حدیث کی بنا پر بعض علماء نے مجبور کی بیع جائز مانی۔خیال رہے کہ بیع مضطر اور ہے بیع مکرہ اور ہے،یہاں بیع مضطر ہوگی بیع مکرہ نہ ہوگی۔ بیع مکرہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی چیز فروخت کرنا نہ چاہے اسے مار پیٹ کر بیع کرالی جائے یہ بیع بالاتفاق ناجائز ہے۔خیال رہے کہ امام مالک کے ہاں کسی کافر کو ملک عرب میں رہنے کی اجازت نہیں، امام شافعی کے ہاں مکہ،مدینہ،یمامہ کے لیے یہ حکم ہے،نیز علماء فرماتے ہیں کہ کسی کافر کو حجاز میں آنے کی اجازت نہیں ہاں بطور سیر آئیں تو تین دن سے زیادہ وہاں قیام نہ کریں،اگر خفیہ طور پر آجائیں تو نکال دیئے جائیں،اگر وہاں مرکر دفن ہوجائیں تو ان کی نعش حجاز سے نکال دی جائے۔اما م اعظم کے ہاں کفار عارضی طور پر حجاز بلکہ حرم میں جاسکتے ہیں،اس کی پوری بحث کتب فقہ اور مرقات میں دیکھو۔
|
4051 -[2] وَعَن ابْن عمر قَالَ: قَامَ عُمَرُ خَطِيبًا فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَامَلَ يَهُودَ خَيْبَرَ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَقَالَ: «نُقِرُّكُمْ مَا أَقَرَّكُمُ اللَّهُ» . وَقَدْ رَأَيْتُ إِجْلَاءَهُمْ فَلَمَّا أَجْمَعَ عُمَرُ عَلَى ذَلِكَ أَتَاهُ أَحَدُ بَنِي أَبِي الحُقَيقِ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتُخْرِجُنَا وَقَدْ أَقَرَّنَا مُحَمَّدٌ وَعَامَلَنَا عَلَى الْأَمْوَالِ؟ فَقَالَ عُمَرُ: أَظْنَنْتَ أَنِّي نَسِيتُ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَيْفَ بِكَ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْ خَيْبَرَ تَعْدُو بِكَ قَلُوصُكَ لَيْلَةً بَعْدَ لَيْلَةٍ؟» فَقَالَ: هَذِهِ كَانَتْ هُزَيْلَةً مِنْ أَبِي الْقَاسِمِ فَقَالَ كَذَبْتَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ فَأَجْلَاهُمْ عُمَرُ وَأَعْطَاهُمْ قِيمَةَ مَا كَانَ لَهُمْ مِنَ الثَّمَرِ مَالًا وَإِبِلًا وَعُرُوضًا مِنْ أَقْتَابٍ وَحِبَالٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ جناب عمر خطبہ فرمانے کھڑے ہوئے تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خیبر کے یہود سے ان کے مالوں پر معاملہ طے کیا تھا اور فرمایا تھا جب تک اللہ تم کو برقرار رکھے ہم تم کو برقرار رکھیں گے ۱؎ میں ان کی جلاوطنی مناسب سمجھتا ہوں ۲؎ جب حضرت عمر نے اس کا پورا ارادہ کرلیا تو بنی ابوحقیق کا ایک شخص آیا۳؎ بولا اے امیر المؤمنین آپ تو ہم کو نکال رہے ہیں حالانکہ حضور نے ہم کو برقرار رکھا تھا اور ہم سے مالوں پر معاملہ فرمایا تھا تو حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا تو سمجھتا ہے کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان بھول گیا کہ تیرا کیا حال ہوگا جب تو خیبر سے نکالا جائے گا کہ تجھ کو تیری اونٹنیاں رات بہ رات لیے پھرتی رہیں گی۴؎ وہ بولا یہ تو ابوالقاسم کا تمسخر تھا تو آپ نے فرمایا اے اللہ کے دشمن تو جھوٹا ہے ۵؎ چنانچہ ان کو نکال دیا اور ان کو ان کے جو کچھ پھل،مال،اونٹ،سامان،رسیاں وغیرہ تھیں ان کی قیمت دے دی ۶؎ (بخاری) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع