30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پھوپھی اور بھتیجی سے تینوں قسم کی پوپھیاں و بھتیجیاں مراد ہیں سگی ہوں یا علاتی یا اخیافی یعنی باپ کی سگی بہن علاتی بہن اخیافی بہن یوں ہی سگے بھائی کی بیٹی علاتی بھائی کی اور اخیافی بھائی کی ان سب کا اجتماع حرام ہے۔
۲؎ چھوٹی بڑی سے مراد رشتہ کی چھوٹی بڑی ہے خالہ و پھوپھی بڑی ہیں اگرچہ عمر میں چھوٹی ہوں یہ جملہ پچھلے جملہ کی تشریح ہے۔
۳؎ اس قسم کی دو عورتوں کے جمع کرنے کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ یہ عورتیں ذی رحم محرم ہوتی ہیں اور ان کا سوکن بننا جھگڑے فساد کا ذریعہ ہے تویہ اجتماع قطعیت رحم کا سبب ہے۔خیال رہے کہ ایسی دوعورتوں کا حقیقی نکاح میں جمع کرنا بھی حرام اور حکمی نکاح میں جمع کرنا بھی حرام لہذا پھوپھی کو طلاق دینے کے بعد جب تک پھوپھی عدت میں ہے تب تک اس کی بھتیجی سے نکاح نہیں کرسکتے کہ عدت حکمی نکاح ہے ہاں پھوپھی کے انتقال کے بعد فورًا ہی اس کی بھتیجی سے نکاح کرسکتے ہیں کہ خاوند پر عدت نہیں۔
|
3172 -[13] وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: مَرَّ بِي خَالِي أَبُو بردة بن دِينَار وَمَعَهُ لِوَاءٌ فَقُلْتُ: أَيْنَ تَذْهَبُ؟ قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ آتِيهِ بِرَأْسِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں مجھ پر میرے ماموں ابوبردہ ابن نیار گزرے ۱؎ اور ان کے ساتھ جھنڈا تھا ۲؎ میں نے کہا آپ کہاں جاتے ہیں فرمایا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے کہ اس کا سر آپ کے پاس لاؤں ۳؎ (ترمذی، ابو داؤد،نسائی،اور ابن ماجہ) دارمی کی روایت میں ہے کہ مجھے حضور نے حکم دیا ہے کہ اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں ۴؎ اور اس روایت میں بجائے ماموں کے چچا فرمایا ۵؎ |
۱؎ مشکوۃ شریف کے بعد نسخوں میں بجائے خالی کے عمی ہے یعنی میرے چچا گزرے مگر یہ غلط ہے صحیح خالی ہے یعنی میرے ماموں گزرے۔
۲؎ یہ جھنڈا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو دیا تھا تاکہ اس بات کی علامت ہو کہ آپ سرکاری کام سے جارہے ہیں اور لوگوں میں اس سزا کا اعلان ہوجائے اسلام میں مجرموں کو علانیہ سزائیں دی جاتی ہیں چور کے ہاتھ بازار میں کاٹے جاتے ہیں، زانی کو علانیہ چوراہوں میں سنگسار کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو عبرت ہو مرتدین و باغی لوگوں کو بعد قتل ان کے سر بازار میں لٹکائے جاتے ہیں۔
۳؎ یعنی اس نے اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کیا ہے مجھے اس کو قتل کرکے سر بارگاہ عالی میں حاضر کرنے کا حکم ملا ہے غالبًا یہ شخص کوئی مدعی اسلام ہوگا پھر س نے یہ حرکت کرلی ہوگی یہ شخص مجرم و مرتد قرار دیا گیا اگر ہمارے ملک میں مجوسی رہتے ہوں جو اپنی ماں بہن بیٹی سے نکاح کرلیتے ہیں تو ہم ان کو اس حرکت سے نہ روکیں گے کہ یہ ان کی مذہبی رسم ہے اور ہمارے ہاں کفار کو مذہبی آزادی ہے لہذا یہ حدیث اس فقہی حکم کے خلاف نہیں۔
۴؎ اس سے بھی معلوم ہورہا ہے کہ پہلے یہ شخص مسلمان تھا بعد میں اس نکاح کو حلال سمجھ کر کافر و مرتد ہوگیا لہذا اسے قتل کرنے اور اس کا مال ضبط کرنے کا حکم صادر ہوا۔فقہاء فرماتے ہیں کہ جو مدعی اسلام حرام عورتوں سے نکاح جائز مانے و ہ مرتد ہے اور جو حرام سمجھ کر یہ نکاح کرے وہ بدترین فاسق ہے اور جسے حرمت کی خبر ہی نہ ہو وہ نکاح کرلے اسے فورًا علیحدگی کا حکم دیا جائے دوسرے شخص نے اگرصحبت بھی کرلی تو یہ صحبت محض زنا ہوگی اور بچہ کا نسب اس سے ثابت نہ ہوگا اور تیسرے شخص نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع