30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۵؎ قصواء کے معنی ہیں کان کٹی ہوئی اونٹنی حضور کی اونٹنی کان کٹی ہوئی نہ تھی یہ اس کا نام تھا۔مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام سمجھے کہ آج قصواء میں اڑ جانے کا عیب پیدا ہوگیا۔
۶؎ یعنی قصواء نہ تو پہلے اڑیل تھی نہ آج ہے۔اسے رب تعالٰی نے روک لیا جیسے کہ ہاتھی والوں کو روک لیا تھا۔مقصد یہ ہے کہ حرم شریف میں بے وقت جنگ اور کشت و خون نہ ہو۔خیال رہے کہ جب ابرہہ بادشاہ نے ہاتھیوں کا لشکر لے کر مکہ معظمہ پر چڑھائی کی تو جب ذوالمجاذ پہنچا تو اس کا ہاتھی مکہ معظمہ کیطرف نہ چل سکا جب اسے اور طرف چلاتے چل پڑتا ادھر چلاتے نہ چلتا۔اس فرمان عالی کا اسی طرف اشارہ ہےذوالمجاذ عرفات سے ایک میل دور بازار تھا۔
۷؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے سب صحابہ کرام کو گواہ بنا کر یہ فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ مقصد جنگ نہیں حتی الامکان ہم جنگ سے گریز کریں گے اور کفار مکہ کی ہر وہ شرط مان لیں گے جس میں حرم الٰہی کی اہانت نہ ہو یہ فرمان عالی آئندہ صلح کی تمہید تھا ۔
۸؎ یعنی اس راستہ پر تشریف نہ لے گئے جدھر سے عام لوگ مکہ معظمہ جاتے ہیں اور جدھر کفار مکہ کا اجتماع تھا بلکہ دوسرا راستہ اختیار فرمایا۔خیال رہے کہ حضور انور کو غدیر اشطاط پر خبر مل گئی تھی کہ قریش ہمارے روکنے کے لیے اسی طرف جمع ہیں۔
۹؎ ثمد ث اور میم کے فتحہ سے بمعنی تھوڑا پانی۔یہاں وہ جگہ مراد ہے جہاں تھوڑا پانی ہو کیونکہ آگے تھوڑے پانی کا ذکر آرہا ہے۔ (مرقات و اشعہ)
۱۰؎ یعنی عرض کیا یارسول اللہ پیاس ہے پانی کی ضرورت ہے اور کنواں خشک ہوگیا۔معلوم ہوا کہ اللہ کی نعمتیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے مانگ سکتے ہیں،جب حضرت ربیعہ نے حضور سے جنت مانگی اور پالی تو اور چیزوں کی کیا حقیقت ہے،حضور خزائن اللہ کے مالک ہیں۔
۱۱؎ سبحان اﷲ! اس تیر کو کنوئیں میں ڈلوانے سے اشارۃً سمجھایا کہ جس چیز کو ہمارا ہاتھ لگ جائے اس کے ذریعہ بھی نعمت الہیہ مل جاتی ہیں یہ پانی میں برکت دے دینا تیرکا کمال نہ تھا کمال اس ہاتھ پاک کا تھا جس سے تیر مس ہوا۔(مرقات)اولیاءاللہ حضور کی نگاہ کرم سے قدرت کا تیر ہیں،ان کی نگاہ کرم سے تقدیریں پلٹ جاتی ہیں،میاں محمد قدس سرہ فرماتے ہیں۔شعر
ہر مشکل دی کنجی یار ہتھ مرداں دے آئی مرد نگاہ کرن جس ویلے مشکل رہے نہ کائی
دردمنداں دے درد نہ چھوڑن اوگن دے گن کردےکامل لوگ محمدبخشالعل بنان پتھردے
۱۲؎ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ کنواں بعد میں خشک ہوگیا۔مطلب یہ ہے کہ حضرات صحابہ کرام اسے جوش مارتا چھوڑ آئے۔
۱۳؎ خزاعہ ازد کے ایک محلہ کا نام ہے،یہاں کے لوگ خزاعی کہلاتے ہیں،یہ لوگ اپنا یہ مقام چھوڑ کر مکہ مکرمہ میں مقیم ہوگئے تھے،یہ لوگ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے بہت خیر خواہ تھے،یہ بدیل مع اپنے بیٹے عبداﷲ کے فتح مکہ کے دن مسلمان ہوگئے۔(اشعہ)
۱۴؎ یہ صاحب ثقفی ہیں ۹ھ میں غزوہ طائف کے بعد ایمان لائے۔(اشعہ)
۱۵؎ سہیل ابن عمرو سرداران قریش سے تھے،غزوہ بدر میں قیدی ہوکر مدینہ منورہ آئے،حضرت عمر نے عرض کی یارسول اللہ ان کے دانت توڑ ڈالیے کہ اب اس منہ سے آپ کی بدگوئی کرتے ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا نہیں اس کا انجام اچھا ہوگا۔چنانچہ یہ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوگئے اورحضور کی وفات کے بعد جب بعض مکہ والے مرتد ہونے لگے تو آپ نے ان کو نہایت اچھے طریقے سے ارتداد سے روکا اورحضور کی خبرغیب و پیش گوئی اس طرح پوری ہوئی،آج جب سہیل آئے تو حضور نے فرمایا ان شاءاﷲ کام سہل و آسان ہوگیا،چنانچہ سہیل نے صلح نامہ لکھوایا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع