30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4037 -[3] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ وَاحِدَةٍ وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ جِزْيَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ایک زمین میں دو قبلے مناسب نہیں ۱؎ اور مسلمان پر جزیہ نہیں۲؎ (احمد، ترمذی،ابوداؤد) |
۱؎ اس فرمان عالی کے دو مطلب ہیں:ایک یہ کہ ارض واحدہ سے مراد زمین عرب ہے اور دو قبلوں سے مراد دو قبلہ والے لوگ ہیں یعنی مسلمان اوریہود و نصاریٰ یعنی زمین عرب یا زمین حجاز میں یہودونصاریٰ کو نہ بسنے دو،یہ ملک صرف مسلمانوں کے لیے ہے۔ اس کی تفسیر وہ حدیث ہے کہ جزیرہ عرب سے یہودونصاریٰ کو نکال دو۔اس صورت میں حدیث بالکل ظاہر ہے۔دوسرے یہ کہ ایک زمین سے مراد عام زمین ہے اور دو قبلوں کے اجتماع سے مراد مسلمانوں اور یہودونصاریٰ کا برابری کی شان سے ایک ملک میں رہنا ہے یعنی نہ تو مسلمان کفار کے ملک میں دب کر رہیں،اگر انہیں آزادی دینی نہ ہو تو وہاں سے ہجرت کرجائیں اور نہ یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے ملک میں برابر ہوکر رہیں بلکہ اگر رہیں تو ذمی ہوکر رہیں اور وہ ہمارے ملک میں اپنے دین کی اشاعت نہ کرسکیں نہ کسی مسلمان کو اپنے مذہب میں لے سکیں بلکہ صرف خود آزاد ہیں اور بس۔
۲؎ اس فرمان شریف کے بھی دو مطلب ہیں:ایک یہ کہ اگر کوئی ذمی اداء جزیہ سے پہلے مسلمان ہوجائے تو اس سے جزیہ وصول نہ کیا جائے نہ آئندہ لیا جائے کیونکہ اب یہ مسلمان ہے اور مسلمان پر جزیہ نہیں۔ دوسرے یہ کہ کوئی مسلمان کفار کے ملک میں جزیہ دے کر ذلیل ہوکر نہ رہے۔مسلمان پر جزیہ کیسا عزت اللہ رسول کی اور مسلمانوں کی ہے۔خیال رہے کہ اگر کافر غلام مسلمان ہوجائے تو آزاد نہ ہوجائے گا غلام ہی رہے گا،یونہی جس کافر کی زمین پر خراج لگ گیا اگر وہ مسلمان نے خریدلی تو اس پر خراج ہی رہے گا مگر جزیہ کا حکم جداگانہ ہے۔اس کی پوری بحث اس جگہ مرقات اور کتب فقہ میں دیکھو۔
|
4038 -[4] وَعَن أنس قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ فَأَخَذُوهُ فَأَتَوْا بِهِ فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ على الْجِزْيَة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خالد ابن ولید کو دومہ والے اکیدر کی طرف بھیجا ۱؎ تو مسلمانوں نے اسے گرفتار کرلیا اسے لے آئے تو حضور نے اس کا خون محفوظ فرما دیا اور اس سے جزیہ پر صلح فرمالی ۲؎ (ابوداؤد) |
۱؎ دومہ شام کی ایک بستی ہے جو تبوک سے قریب ہے اور اکیدر وہاں کے بادشاہ کا نام تھا جو عیسائی تھا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے خالد ابن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ایک چھوٹا سا لشکر بھیجا اور حضرت خالد سے فرما دیا کہ تم اکیدر کو شکارکرتے پاؤ گے جو گورخر کا شکار کرتا ہوگا۔چنانچہ وہ اور اس کا بھائی حسان دونوں چاندنی رات میں شکارکرتے پکڑ لیے گئے حسان کو قتل کردیا گیا اور اکیدر کو مدینہ منورہ حاضر کیا گیا حضور نے اکیدر کے قتل سے منع فرمادیا۔(مرقات)
۲؎ پھر بعد میں اکیدر نہایت مخلص مسلمان ہوگئے رضی اللہ عنہ۔(اشعہ،مرقات)
|
4039 -[5] وَعَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ جَدِّهِ أبي أُمِّه عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ».رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ |
روایت ہے حرب ابن عبید اللہ سے وہ نانا سے راوی وہ اپنے والد سے ۱؎ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ عشر صرف یہودیوں اور عیسائیوں پر ہی ہے اور مسلمانوں پرعشر نہیں ۲؎ (احمد، ابوداؤد) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع