30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے ان کی تصحیح کی،طبرانی نے معجم میں بہ سند حسن حضرت جابر سے سورج روک لیے جانے کی حدیث نقل فرمائی ہے۔بہرحال آفتاب کا رکنا حضرت یوشع علیہ السلام کے لیے ہوا اور رکنا اور واپس لوٹنا ہمارے حضور کے لیے ہوا۔وہ جو حدیث میں ہے کہ یوشع علیہ السلام کے سوا کسی کے لیے سورج نہ رکا اس سے مراد حضور سے پہلے کے نبی ہیں۔(مرقات،اشعہ)فقیر نے مقام صہباء کی زیارت کی ہے جہاں سورج لوٹایا گیا تھا،یہ جگہ خیبر سے قریبًا ایک میل دور جانب مدینہ منورہ ہے۔عام لوگ زیارت کرتے ہیں،اعلیٰ حضرت نے کیا خوب فرمایا ہے۔شعر
اشارہ سے چاند چیر دیا چھپے ہوئے خور کو پھیر لیا
گئے ہوئے دن کوعصر کیا یہ تاب و تواں تمہارےلیے
۷؎ اس زمانہ میں غنیمت کا مال جمع کرکے کسی پہاڑی یا میدان میں رکھ دیا جاتا تھا غیبی آگ آکر اسے جلاجاتی تھی اس لیے یہ کیا گیا۔
۸؎ اس لیے آگ آئی تو تھی مگر اسے جلایا نہیں۔یہاں کھانے سے مراد جلانا ہے گزشتہ دینوں میں یہ مال غنیمت اور قربانیوں کے گوشت غیبی آگ جلایا کرتی تھی۔
۹؎ یہ بھی یوشع علیہ السلام کا معجزہ ہے کہ جس میں خیانت تھی اس کے سردار کا ہاتھ یوشع علیہ السلام کے ہاتھ سے چمٹ گیا جس سے خیانت پکڑی گئی۔
۱۰؎ یعنی اس غنیمت کے مال میں سونے کی گائے کا سر جو عام گایوں کے سر کے برابر تھا اس کی خیانت کی گئی جو اب حاضر کی گئی۔
۱۱؎ اس زمانہ میں غیبی آگ کا جلا جانا قبولیت کی علامت تھی اور نہ جلانا مردودیت کی علامت تھی خیانت والی غنیمت مردود مانی جاتی تھی۔ہابیل و قابیل نے بھی اپنی قربانیاں پہاڑ پر رکھی تھیں ہابیل کی قربانی کو آگ جلاگئی اور قابیل کی قربانی ویسی ہی پڑی رہی۔
۱۲؎ یعنی ہماری امت عمومًا کمزور اور غریب ہوگی لہذا اس کے لیے مال غنیمت حلال فرمادیا گیا کہ اس مال کے ذریعہ جہاد میں قوت حاصل کریں،یہ رب تعالٰی کی خاص مہربانی ہے۔اسی طرح قربانی کا گوشت بھی اس امت کے لیے حلال کردیا گیا کہ قربانی عبادت بھی ہے اور مسلمانوں کی خوراک بھی ہے،یہ ہے خاص کرم۔
|
4034 -[50] وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: حَدثنِي عمر قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمَ خَيْبَرَ أَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ وَفُلَانٌ شَهِيدٌ حَتَّى مَرُّوا عَلَى رَجُلٍ فَقَالُوا: فُلَانٌ شَهِيدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُهُ فِي النَّارِ فِي بُرْدَةٍ غَلَّهَا أَوْ عَبَاءَةٍ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا ابْنَ الْخَطَّابِ اذْهَبْ فَنَادِ فِي النَّاسِ: أَنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ ثَلَاثًا " قَالَ: فَخَرَجْتُ فَنَادَيْتُ: أَلَا إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا الْمُؤْمِنُونَ ثَلَاثًا. رَوَاهُ مُسلم |
روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے خبردی کہ جب خیبر کا دن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابہ کی ایک جماعت آئی وہ بولے فلاں اور فلاں شہید ہے حتی کہ ایک شخص پر گزرے تو بولے فلاں شہید ہے ۱؎ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہرگز نہیں میں نے اسے آگ میں دیکھا ہے۲؎ ایک چادریا ایک عبا کی وجہ سے۳؎ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے عمر ابن خطاب جاؤ لوگوں میں تین بار اعلان کردو کہ جنت میں نہ جائیں گے مگر مؤمن چنانچہ میں نکلا اور میں نے اعلان کیا کہ جنت میں نہ جائیں گے مگر مؤمن لوگ تین بار۴؎ (مسلم) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع