دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

4033 -[49] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ: لَا يَتْبَعُنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا وَلَا أَحَدٌ بَنَى بُيُوتًا وَلَمْ يَرْفَعْ سُقُوفَهَا وَلَا رَجُلٌ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلَادَهَا فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ صَلَاةَ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِلشَّمْسِ: إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا فَحُبِسَتْ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَجَمَعَ الْغَنَائِمَ فَجَاءَتْ يَعْنِي النَّارَ لِتَأْكُلَهَا فَلَمْ تَطْعَمْهَا فَقَالَ: إِنَّ فِيكُمْ غُلُولًا فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ فَلَزِقَتْ يدُ رجلٍ بيدِه فَقَالَ: فيكُم الغُلولُ فجاؤوا بِرَأْسٍ مِثْلِ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنَ الذَّهَبِ فَوَضَعَهَا فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهَا ". زَادَ فِي رِوَايَةٍ: «فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ قَبْلَنَا ثُمَّ أَحَلَّ اللَّهُ لَنَا الْغَنَائِمَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نبیوں میں سے ایک نبی نے جہاد کیا ۱؎  تو اپنی قوم سے فرمایا کہ میرے ساتھ وہ شخص نہ جائے جوکسی عورت کے بضع کا مالک ہو اور رخصتی کرنا چاہتا ہے ابھی تک کی نہیں ہے ۲؎  اور نہ وہ جائے جس نے مکانات بنائے ہیں اور ان کی چھتیں تیار نہ کی ہیں۳؎  اور نہ وہ شخص جائے جس نے بکری یا حاملہ اونٹنیاں خریدیں اور وہ ان کے بیاہنے کا منتظر ہے۴؎ چنانچہ انہوں نے جہاد کیا تو بستی سے نماز عصر یا اس کے قریب ہوئے تو انہوں نے سورج سے فرمایا کہ تو بھی حکم کے ماتحت ہے اور میں بھی الٰہی اسے ہم پر روک دے ۵؎ چنانچہ سورج روک دیا گیا حتی کہ اﷲ نے انہیں فتح دی ۶؎ پھر غنیمتیں  جمع فرمائیں تو وہ یعنی آگ کھانے کے لیے آئی مگر انہیں کھایا نہیں ۷؎ فرمایا کہ ضرور تم میں خیانت ہے ۸؎ ہر قبیلہ سے ایک ایک شخص مجھ سے بیعت کرے چنانچہ ایک آدمی کا ہاتھ ان ہی سے چمٹ گیا تو فرمایا تم لوگوں میں خیانت ہے ۹؎ پھر وہ سونے کا سر لائے جو گائے کے سر کی طرح تھا۱۰؎  اسے رکھ دیا پھر آگ آئی اسے کھالیا ۱۱؎ مسلم کی روایت میں ہے یہ زیادتی کی کہ ہم سے پہلے کسی کے لیے غنیمتیں حلال نہ ہوئیں پھر اﷲ نے ہمارے لیے غنیمتیں حلال کردیں ہماری کمزوری ہماری عاجزی دیکھی تو انہیں ہمارے لیے حلال فرمایا ۱۲؎

۱؎  نبی سے مراد حضرت یوشع علیہ السلام ہیں  یعنی موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ اور غزوہ سے مراد بیت المقدس پر جہاد،یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوا۔(اشعہ،مرقات)

۲؎  یعنی جس کا نکاح ہوچکا ہے ابھی رخصت نہیں ہوئی ہے اس کی تیاری میں ہے۔اہل عرب زفاف کے وقت خیمہ وغیرہ بناتے تھے۔ اس میں زفاف کرتے تھے اس لیے زفاف کو بنا رکھتے تھے۔(اشعہ)

۳؎  یعنی مکان بنانے میں مشغول ہے ابھی عمارت نامکمل ہے اس کی تکمیل کررہا ہے۔

۴؎ یعنی جس کی بکریاں یا اونٹنیاں گابھن ہیں اسے ان کے بچے دیکھنے دودھ پینے کا بڑا انتظار ہے۔مقصد یہ ہے کہ میرے ساتھ جہاد میں فارغ البال جائے جس کا دل دنیا میں لگا ہے وہ نہ جائے تاکہ اس عبادت میں دھیان نہ بٹے جیسے آج پیشاب پاخانہ کی سخت حاجت لےکر نماز پڑھنا ممنوع ہے کہ اس سے نماز میں دل نہ لگے گا۔

۵؎ یعنی اے سورج تجھے رفتار کا حکم الٰہی ہے اور مجھے جہاد کا حکم ہے اگر تو ابھی ڈوب گیا اور میں بیت المقدس فتح نہ کرسکا تو ہفتہ کا دن شروع ہوجائے گا جس میں جہاد کرنا قتال کرنا حرام ہے پھر کفار کو کافی مہلت مل جائے گی اور بیت المقدس فتح کرنا مشکل ہوجائے گا خدایا تو سورج کو روک دے جب یہ بیت المقدس فتح کرلوں تب غروب ہو۔معلوم ہوا کہ حضرت انبیاء کرام چاند سورج سے بھی کلام فرماتے ہیں اور وہ ان سے گفتگو اور ان کی اطاعت کرتے ہیں۔مولانا فرماتے ہیں شعر

نطق آب ونطق خاک ونطق گل                              ہست محسوس حواس اہل دل

فلسفی    گو    منکر    حنانہ   است                                        از  حواس  اولیاء  بیگانہ  است

یہ جہاد جمعہ کے دن ہوا تھا۔اس دین میں ہفتہ کے دن جہاد بھی ممنوع تھا۔(مرقات)

۶؎  بحکم الٰہی سورج ٹھہرگیا جب بیت المقدس فتح ہوگیا تب ڈوبا،یہ حضرت یوشع علیہ السلام کا معجزہ ہوا۔خیال رہے کہ یوشع علیہ السلام کے سوا کسی نبی کے لیے سورج روکا نہیں گیا ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے حکم سے ایک بار سورج روکا گیا اور ایک بار لوٹا یا گیا۔ چنانچہ بعد معراج جب کفار مکہ نے حضور سے پوچھا کہ آپ نے ہمارا فلاں قافلہ راہ میں دیکھا ہوگا،فرمایا ہاں بولے مکہ کب پہنچے گا فرمایا بدھ کی صبح کو،قافلہ کو واپسی میں کچھ دیر ہوگئی تو بدھ کے دن سورج کو روک لیا گیا حتی کہ جب قافلہ مکہ معظمہ پہنچا تب سورج طلوع ہوا اور غزوہ خیبر کے موقع پر مقام صہباء میں بعد عصر حضور نے حضرت علی کے زانو پر سر رکھ کر آرام فرمایا تھا،جناب علی نے نماز عصر نہ پڑھی سورج ڈوب گیا تب حضور کی دعا سے سورج واپس ہوا،حضرت علی نے نماز عصر پڑھی پھر ڈوبا۔ابن جوزی نے ان احادیث کو موضوع کہا مگر طحاوی نے مشکل الحدیث میں قاضی عیاض نے شفاء شریف میں انہیں صحیح کہا۔ابن المنذر ابن شاہین

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن