دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5 | مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

book_icon
مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد پنجم

۲؎  چنانچہ حضور انور نے اپنا بایاں ہاتھ اٹھایا اور فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور اپنے داہنے ہاتھ کو فرمایا کہ یہ ہمارا ہاتھ ہے اور خود ہی حضرت عثمان کی طرف سے بیعت کی، اس بیعت عثمان کا واقعہ دوبار ہوا۔ ایک تو غزوہ بدر میں دوسرے بیعت الرضوان میں مقام حدیبیہ میں یہ ہے حضرت عثمان کی شان رضی اللہ عنہ۔

دست حبیب خدا جو کہ ید اﷲ تھا                            ہاتھ بنا آپ کا آپ وہ ذی شان ہیں

۳؎  یعنی حضرت عثمان کو بدر والوں کا صرف ثواب نہ ملا بلکہ غنیمت کا حصہ بھی ملا آپ صرف حکمًا غازی بدر نہ ہوئے بلکہ حقیقتًا غازی مانے گئے۔معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم مالک و مختار ہیں اگر چاہیں تو مدینہ کی زمین کو بدر کا میدان بنادیں،گھر میں رکھ کر غازیوں میں ملادیں۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ حضور کی اطاعت رب تعالٰی کی اطاعت ہے،دیکھو حضرت عثمان مدینہ منورہ میں حضور کے کام کے لیے رہے تھے یعنی بی بی رقیہ کی تیمارداری مگر فرمایا فی حاجۃ اﷲ وحاجۃ رسولہ حاجت سے مراد کام یا خدمت ہے نہ کہ ضرورت کہ اﷲ تعالٰی ضرورت اور محتاجی سے پاک ہے۔

4032 -[48]

وَعَن رافعِ بن خديجٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْعَلُ فِي قَسْمِ الْمَغَانِمِ عَشْرًا مِنَ الشّاءِ بِبَعِير. رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت رافع ابن خدیج سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم غنیمت کی تقسیم میں دس بکریاں ایک اونٹ کے مقابل میں فرماتے تھے۲؎ (نسائی)

۱؎  آپ صحابی انصاری خوارزمی یا حارثی اوسی ہیں،غزوہ بدر کے سوا تمام غزوات میں حاضر رہے،بدر کے دن آپ کمسن تھے، ۷۴ھ؁  میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،چھیاسی۸۶ سال عمر ہوئی آپ کے حالات پہلے بھی بیان ہوچکے ہیں۔(اشعہ)

۲؎  یعنی تقسیم غنیمت میں ایک اونٹ کو دس بکریو ں کی برابر رکھتے تھے کہ اگر کسی غازی کو ایک اونٹ حصہ میں ملا تو دوسرے غازی کو دس بکریاں عطا ہوئیں،قربانی میں ایک اونٹ و گائے سات بکریوں کی برابر مانا جاتا ہے۔

4033 -[49] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَزَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ: لَا يَتْبَعُنِي رَجُلٌ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ بِهَا وَلَا أَحَدٌ بَنَى بُيُوتًا وَلَمْ يَرْفَعْ سُقُوفَهَا وَلَا رَجُلٌ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ يَنْتَظِرُ وِلَادَهَا فَغَزَا فَدَنَا مِنَ الْقَرْيَةِ صَلَاةَ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِلشَّمْسِ: إِنَّكِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيْنَا فَحُبِسَتْ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَجَمَعَ الْغَنَائِمَ فَجَاءَتْ يَعْنِي النَّارَ لِتَأْكُلَهَا فَلَمْ تَطْعَمْهَا فَقَالَ: إِنَّ فِيكُمْ غُلُولًا فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ فَلَزِقَتْ يدُ رجلٍ بيدِه فَقَالَ: فيكُم الغُلولُ فجاؤوا بِرَأْسٍ مِثْلِ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنَ الذَّهَبِ فَوَضَعَهَا فَجَاءَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهَا ". زَادَ فِي رِوَايَةٍ: «فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ قَبْلَنَا ثُمَّ أَحَلَّ اللَّهُ لَنَا الْغَنَائِمَ رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَأَحَلَّهَا لَنَا»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نبیوں میں سے ایک نبی نے جہاد کیا ۱؎  تو اپنی قوم سے فرمایا کہ میرے ساتھ وہ شخص نہ جائے جوکسی عورت کے بضع کا مالک ہو اور رخصتی کرنا چاہتا ہے ابھی تک کی نہیں ہے ۲؎  اور نہ وہ جائے جس نے مکانات بنائے ہیں اور ان کی چھتیں تیار نہ کی ہیں۳؎  اور نہ وہ شخص جائے جس نے بکری یا حاملہ اونٹنیاں خریدیں اور وہ ان کے بیاہنے کا منتظر ہے۴؎ چنانچہ انہوں نے جہاد کیا تو بستی سے نماز عصر یا اس کے قریب ہوئے تو انہوں نے سورج سے فرمایا کہ تو بھی حکم کے ماتحت ہے اور میں بھی الٰہی اسے ہم پر روک دے ۵؎ چنانچہ سورج روک دیا گیا حتی کہ اﷲ نے انہیں فتح دی ۶؎ پھر غنیمتیں  جمع فرمائیں تو وہ یعنی آگ کھانے کے لیے آئی مگر انہیں کھایا نہیں ۷؎ فرمایا کہ ضرور تم میں خیانت ہے ۸؎ ہر قبیلہ سے ایک ایک شخص مجھ سے بیعت کرے چنانچہ ایک آدمی کا ہاتھ ان ہی سے چمٹ گیا تو فرمایا تم لوگوں میں خیانت ہے ۹؎ پھر وہ سونے کا سر لائے جو گائے کے سر کی طرح تھا۱۰؎  اسے رکھ دیا پھر آگ آئی اسے کھالیا ۱۱؎ مسلم کی روایت میں ہے یہ زیادتی کی کہ ہم سے پہلے کسی کے لیے غنیمتیں حلال نہ ہوئیں پھر اﷲ نے ہمارے لیے غنیمتیں حلال کردیں ہماری کمزوری ہماری عاجزی دیکھی تو انہیں ہمارے لیے حلال فرمایا ۱۲؎

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن