30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
4028 -[44] (مُتَّفق عَلَيْهِ) عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: إِنِّي وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ فَنَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي فَإِذَا بِغُلَامَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ حَدِيثَة أسنانها فتمنيت أَنْ أَكُونَ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ: يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ فَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ قَالَ: وَغَمَزَنِي الْآخَرُ فَقَالَ لِي مِثْلَهَا فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَجُولُ فِي النَّاسِ فَقُلْتُ: أَلَا تَرَيَانِ؟ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِي عَنْهُ قَالَ: فابتدراه بسيفهما فَضَرَبَاهُ حَتَّى قَتَلَاهُ ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فأخبراهُ فَقَالَ: «أَيُّكُمَا قَتَلَهُ؟» فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: أَنَا قَتله فَقَالَ: «هلْ مسحتُما سيفَيكما؟» فَقَالَا: لَا فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّيْفَيْنِ فَقَالَ: «كِلَاكُمَا قَتَلَهُ» . وَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بن عَمْرِو بن الْجَمُوحِ وَالرَّجُلَانِ: مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ ومعاذ بن عفراء |
روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن عوف سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں بدر کے دن صف میں کھڑا تھا تو میں نے اپنے داہنے بائیں دیکھا تو میں انصار کے دو نو عمر بچوں کے درمیان تھا ۲؎ میں نے تمنا کی کہ میں ان سے بہادروں کے درمیان ہوتا۳؎ ان دونوں میں سے ایک نے مجھے اشارہ کیا ۴؎ بولا اے چچا کیا آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں۵؎ میں بولا تجھے اس سے کیا کام ہے اے بھتیجے؟وہ بولا مجھے خبر ملی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دیتا ہے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو میرا جسم اس کے جسم سے جدا نہ ہوگا تاآنکہ ہم سے جلد موت والا مرجائے ۶؎ فرماتے ہیں میں نے اس پر تعجب کیا ۷؎ فرماتے ہیں کہ دوسرے نے بھی مجھے اشارہ کیا تو مجھے اس طرح کہا تو میں نہ ٹھہرا حتی کہ میں نے ابوجہل کو دیکھ لیا جو لوگوں کے بیچ گھوم رہا تھا۸؎ تو میں بولا کیا تم دیکھتے نہیں یہ تمہارا وہ یار ہے ۹؎ جس کے متعلق تم مجھ سے پوچھ رہے تھے فرماتے ہیں کہ وہ دونوں اپنی تلواریں لے کر اس پر جھپٹے اسے مارا حتی کہ اسے قتل کردیا ۱۰؎پھر دونوں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف لوٹے حضور کو اس کی خبر دی ۱۱؎ تو فرمایا تم دونوں میں سے کس نے اسے قتل کیا ہے تو ان میں سے ہر ایک بولا کہ اسے میں نے مارا ہے۱۲؎ فرمایا کیا تم نے اپنی تلواریں پونچھ لی ہیں وہ بولے نہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی تلواریں دیکھیں فرمایا تم دونوں نے ہی اسے قتل کیا ہے ۱۳؎ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے سلب کا فیصلہ معاذ ابن عمرو ابن جموح کے لیے کیا۱۴؎ اور وہ دونوں صاحب معاذ ابن جموح اور معاذ ابن عفرا تھے۱۵؎ (مسلم،بخاری) |
۱؎ آپ کی کنیت ابو محمد ہے،زہری ہیں،قریشی ہیں،عشرہ مبشرہ سے ہیں،حضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر اسلام لائے، صاحب ہجرتین ہیں کہ پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی پھر مدینہ منورہ کی طرف تمام غزوات میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہے،حضور انور نے غزوہ تبوک میں فجر کی ایک رکعت آپ کے پیچھے پڑھی،غزوہ احد میں بیس زخم کھائے۔ بعض زخموں کی وجہ سے آپ کا ایک پاؤں بیکار ہوگیا تھا، عام الفیل کے دس سال بعد پیدا ہوئے، ۳۲ھ میں وفات ہوئی،بہتّر۷۲ سال عمر پائی،مدینہ منورہ میں دفن ہوئے۔
۲؎ جنگ بدر ۲ھ ماہ رمضان میں ہوئی جس میں مسلمان تین سو تیرہ تھے، کفار اولًا ساڑھے نو سے تھے، ابوسفیان کا قافلہ مل جانے کے بعد ایک ہزار ہوگئے تھے،مسلمانوں کے پاس صرف دو گھوڑے چھ زرہیں آٹھ تلواریں تھیں،باقی غازیوں کے پاس کھجور کی لکڑیاں تھیں۔
۳؎ تاکہ جنگ کے وقت مجھے ان سے مدد ملتی کیونکہ سپاہی کو اپنے بازوؤں سے مدد ملتی ہے۔ چونکہ وہ دونوں نو عمر تھے اس لیے حضرت عبدالرحمن نے انہیں کمزورسمجھا،نیز وہ دونوں انصار تھے اور بہادری میں مہاجرین مشہور تھے۔(مرقات)
۴؎ غمز کے معنی دبانے کے بھی ہیں اور آنکھ سے اشارہ کرنے کے بھی یہاں بمعنی دبانا ہے یعنی میرا ہاتھ دبا کر مجھے اپنی طرف متوجہ کیا اور پھر چپکے سے یہ پوچھا۔
۵؎ اہل عرب اپنے سے بڑے کو چچا کہہ کر پکارتے ہیں یہاں یہ ہی محاورہ استعمال ہوا ہے ورنہ حضرت عبدالرحمن ابن عوف رشتہ نسبی میں ان بچوں کے چچا نہ تھے،لشکر کفار سامنے تھا ان دونوں نے پوچھا کہ وہ جو سامنے لشکر ہے ان میں ابوجہل کون ہے ۔
۶؎ سبحان اﷲ! یہ ہے ایمان اور یہ ہے عشق رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم۔ابوجہل کو حضور انور کی شان میں گستاخیاں کرتے سنا تھا بلکہ یوں ہی اڑتی اڑتی خبرپہنچی تھی کہ تڑپ گئے اور مارنے مرنے کو تیار ہوگئے۔ اس کا ترجمہ یوں کیا گیا ہے۔
قسم کھائی ہےدونوں نےکریں گےقتل ناری کو سنا ہے گالیاں دیتا ہے وہ محبوب باری کو
۷؎ کیونکہ میں نے سمجھا کچھ تھا اور ظاہر کچھ اور ہوا یہ دونوں تو بہادروں کے سردار نکلے،حوصلہ بہت بلند ظاہر ہوا۔
۸؎ یعنی اپنے لشکر میں چکر لگا رہا تھا انہیں درست کررہا تھا۔
۹؎ یہاں صاحب یا کہ یار بمعنی دوست نہیں بلکہ بمعنی مطلوب ہے جس کی طلب ہو یعنی تم جس کی جستجو میں ہو وہ یہ ہی ہے سامنے وہ دیکھو۔
۱۰؎ یعنی یہ دونوں اکیلے اس کی فوج میں پہنچے اور بغیر یارومددگار ساتھ لیے اس پر ٹوٹ پڑے اور اسے سنبھلنے کا موقعہ نہ دیا کہ اسے مارگرایا۔خیال رہے کہ ان دونوں نے اسے بالکل مار نہ ڈالا تھا بلکہ قریب الہلاک کردیا تھا جیساکہ آئندہ معلوم ہوگا اسے سسکتا ہوا چھوڑکر بھاگے کہ ان کی فوج میں گھر گئے۔ ان دونوں چاندوں کو دو ہالوں نے گھیر لیا،اس موقعہ پر ایک کا ہاتھ بازو سے کٹ گیا جسے انہوں نے خود پاؤں سے دبا کر توڑ دیا اور پھر وہ کفار کا مقابلہ کرتے ہوئے ہاتھ اٹھاتے ہوئے حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوئے حضور انور نے وہ ہاتھ کاندھے پر رکھ کر لعاب دہن لگادیا وہ ہاتھ جڑ گیا اور دوسرے ہاتھ سے زیادہ مضبوط ہوگیاجیساکہ ان شاءاﷲ باب المعجزات میں ذکر کیا جائیگا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع