30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۷؎ یعنی جب اس معمولی چیز میں ایسی پابندی اور ایسی تنگی ہے تو مجھے اس کی ضرورت نہیں کہ پہلے تو کسی کی ملکیت میں آنے کا انتظارکروں پھر مالک سے خوشامد کرکے مانگوں یہ کہا اور گچھی وہاں ہی رکھ دی۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈر گیا۔
|
4026 -[42] وَعَن عمْرو بن عَبَسةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَعِيرٍ مِنَ الْمَغْنَمِ فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ وَبَرَةً مِنْ جَنْبِ الْبَعِيرِ ثُمَّ قَالَ: «وَلَا يَحِلُّ لِي مِنْ غَنَائِمِكُمْ مِثْلُ هَذَا إِلَّا الْخُمُسُ وَالْخُمُسُ مَرْدُودٌ فِيكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد |
روایت ہے حضرت عمرو ابن عبسہ سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے غنیمت کے کچھ اونٹوں کی طرف نماز پڑھائی ۱؎ پھر جب سلام پھیرا تو اونٹ کے کروٹ سے بال لیا پھر فرمایا کہ تمہاری غنیمتوں سے میرے لیے اتنا بھی حلال نہیں سوا خمس کے اور خمس بھی تم میں ہی لوٹایا جاتا ہے ۲؎(ابوداؤد) |
۱؎ اس طرح کہ اس اونٹ کو سترہ بناکر اس کے پیچھے نماز پڑھائی۔معلوم ہوا کہ بیٹھے ہوئے جانور یوں ہی بیٹھے ہوئے انسان کی پیٹھ کو سترہ بنانا درست ہے۔
۲؎ یہ واقعہ دوسرا ہے اور جو پہلے مذکور ہوا اور واقعہ تھا یہ ہی ظاہر ہے۔
|
4027 -[43] وَعَن جُبير بنُ مُطعِمٍ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذَوِي الْقُرْبَى بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَتَيْتُهُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَؤُلَاءِ إِخْوَانُنَا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ لَا نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي وضعكَ اللَّهُ مِنْهُمْ أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا وَإِنَّمَا قَرَابَتُنَا وَقَرَابَتُهُمْ وَاحِدَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ هَكَذَا» . وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَالنَّسَائِيِّ نَحْوُهُ وَفِيهِ: «إِنَّا وَبَنُو الْمُطَّلِبِ لَا نَفْتَرِقُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَإِنَّمَا نَحْنُ وَهُمْ شَيْءٌ وَاحِدٌ» وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعه |
روایت ہے حضرت جبیر ابن مطعم سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے قرابت داروں کا حصہ بنی ہاشم اور بنی مطلب میں تقسیم فرما دیا۲؎ تو میں اور حضرت عثمان ابن عفان حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم یہ ہمارے بھائی بنی ہاشم ہم ان کی بزرگی کے منکر نہیں آپ کے ہونے کی وجہ سے کہ رب نے آپ کو ان میں پیدا فرمایا ۳؎ ہمارے بھائیوں بنی مطلب کے متعلق حضور فرمائیں کہ آپ نے انہیں دیا اور ہم کو چھوڑ دیا۴؎ حالانکہ ہمارا ان کا رشتہ ایک ہی ہے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بنو ہاشم اور بنی مطلب اس طرح ایک ہیں اور اپنی انگلیوں کو مختلط فرما دیا ۵؎ (شافعی،ابوداؤد)اور نسائی کی روایت میں اسی طرح ہے اور اس میں یہ ہے کہ میں اور بنی مطلب نہ دور جاہلیت میں الگ ہوئے نہ اسلام میں ہم اور وہ ایک ہی چیز ہیں اور اپنی انگلیوں شریف میں ۶؎ اختلاط فرمادیا۔ |
۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،نوفل ابن عبدمناف کی اولاد سے ہیں،عبدمناف کے چار بیٹے تھے ہاشم ،مطلب،نوفل اور عبدشمس،حضرت جبیر تو نوفل کی اولاد سے تھے حضرت عثمان اور تمام بنی امیہ عبدشمس کی اولاد سے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہاشم کی اولاد سے اسکی تفصیل پہلے فصل اول میں گزرچکی۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع